حضرت ابوبکر نے حضرت فاطمہ کو ان کا حق باغ فدک نہیں دیا جو…

حضرت ابوبکر نے حضرت فاطمہ کو ان کا حق باغ فدک نہیں دیا جو وراثت میں رسول اللہ نے دیا تھا جس وجہ سے حضرت فاطمہ مرتے دم تک حضرت ابوبکر سے ناراض رہیں (بخاری شریف)

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 1 از 2

شیعہ کہتے ہیں کہ اہلسنت ہم پر الزام لگاتے ہیں کہ شیعہ صحابہ کرام کو نہیں مانتے ہیں مگر ہم (شیعہ) سب صحابہ کو مانتے ہیں لیکن (حضرت ابوبکر و عمر و عثمان رضوان اللہ علیہم اجمعین) کو نہیں مانتے اس لیے نہیں مانتے کہ

(شیعہ اعتراض: 1)
حضرت ابوبکر نے حضرت فاطمہ کو ان کا حق باغ فدک نہیں دیا جو وراثت میں رسول اللہ نے دیا تھا جس وجہ سے حضرت فاطمہ مرتے دم تک حضرت ابوبکر سے ناراض رہیں (بخاری شریف)

جواب 1:
پہلی بات کہ رسول اللہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو باغ فدک دیا ہی نہیں اگر دیا تو پوری دنیا کے شیعہ کو چیلنج ہے ثابت کرو کب دیا؟ دوسری بات سیدہ فاطمہؓ نے جب پیغام بھیجا باغ فدک کا تو حضرت ابوبکر صدیقؓ نے کہا کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ “ہم انبیاء کرام کی مالی وارثت نہیں ہوتی جو چھوڑ کر جانتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔ ”پس میں (ابوبکر) وہی عمل کروں گا جو رسول اللہ کا تھا اور یہ جواب سن کر سیدہ فاطمہ خاموش ہو گئیں (خاموشی رضامندی کی علامت ہے) یعنی راضی ہو گئی پھر وفات تک اس موضوع فدک پر بات نہیں کی ایسا ہرگز ہرگز نہیں کہ سیدہ فاطمہ سیدنا ابوبکر سے بلکل ہمکلام نہیں ہوئیں یہ شیعہ جھوٹ ہے، اور جنازہ بھی حضرت ابوبکر صدیقؓ نے پڑھایا۔

جواب 2:
مسئلہ فدک میں یہ امر سب سے زیادہ قابلِ غور ہے کہ فدک کی محرومی کی وجہ سے جناب صدیقِ اکبرؓ پر جنابہ سیدہ فاطمہؓ کی ناراضگی کی کہانی اہل سنت والجماعت کی کسی معتبر کتاب میں جنابہ سیدہؓ کی زبانی ثابت نہیں کی جا سکتی یہ کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ سیدہؓ نے خود فرمایا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے میرا حق غصب کر لیا ہے اور مجھ پر ظلم کیا ہے میں ان سے ناراض ہوں ان سے کبھی بات نہیں کروں گی ہمارا دعویٰ ہے کہ قیامت تک کوئی شخص اہل سنت کی معتبر کتابوں سے اس قسم کا ثبوت پیش نہیں کر سکتا۔
مگر اس کے برعکس شیعہ کی معتبر کتابوں میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی زبانی جناب علی المرتضیٰؓ پر اس فدک کی وجہ سے سخت ناراضگی ثابت ہے۔ جس کا ازالہ حضرت علیؓ نے اپنی خلافت میں بھی نہ کیا بلکہ فدک کو جناب رسول کریمﷺ اور صدیق و فاروق و غنی رضی اللہ عنہم اجمعین والے سابقہ طریقہ پر باقی رکھا اور سابقہ خلفائے راشدینؓ کے طرز عمل میں کسی تغیر کو جائز نہ سمجھا۔ تو حضرت علیؓ جن پر سیدہ فاطمہؓ کی ناراضگی شیعہ کے نزدیک یقینی ثابت ہے کہ ان کو سیدہؓ نے خود ناراضگی کے سخت الفاظ فرمائے، ان کو امام معصوم اور خلیفہ برحق سمجھنا اور حضرت ابوبکر صدیقؓ جن پر سیدہ فاطمہؓ کی ناراضگی کا کوئی یقینی ثبوت نہیں ان کا ظالم، غاصب سمجھنا کس انصاف اور کس دیانت پر مبنی ہے؟؟؟

شیعہ دھوکہ: اس موضوع ہر شیعہ عام جاہل امت مسلمہ کو یہ دھوکہ دیتے ہیں کہ سیدہ فاطمہ حضرت ابوبکر کا جواب سن کر ناراض ہو گئی اور مرتے دم تک بددعا کرتی رہی یہ سب شیعہ بکواس اور جھوٹ ہے یہ کہیں نہیں لکھا، شیعہ کو چیلنج ہے یہ ثابت کریں کہ سیدہ فاطمہ نے خود فرمایا ہو میں ابوبکر سے ناراض ہوں جو حوالہ دیا ہے شیعہ نے وہ شیعہ کتاب ہے۔

دوسرا شیعہ اعتراض2:

حضرت عمر کو اس لیے نہیں مانتے بلکہ کافر کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے حضرت عُمر سے قلم دوات مانگی اور کہا کہ رسول اللہ بکواس کر رہے ہیں۔ (نعوذباللہ)

تفصیل دوسرا شیعی اعتراض:

شیعہ کہتے ہیں پیغمبرِ علیہ السلام جناب علی (رضی اللہ عنہ) کی خلافت تحریر فرمانا چاہتے تھے۔ حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) سے کاغذ، قلم ودوات طلب فرمائی تو انہوں نے نہ دی بلکہ یہ کہا کہ رسول اللہﷺ ہذیان کہتے ہے اور ہمیں اللہ تعالیٰ کی کتاب کافی ہے۔ یہ حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) نے بڑی غلطی کی۔

جواب۔1
جھوٹوں پر اللہ کی لعنت۔ آپ شیعہ کی ابتداء ہی غلط بلکہ کتب اہل اسلام میں الٹا یہ موجود ہے کہ پیغمبر علیہ السلام اپنے مرض الموت میں جناب ابوبکر صدیقؓ کی خلافت تحریر فرما گئے تھے جیسا کہ مشکوٰۃ شریف صفحہ 555 پر واضح الفاظ میں موجود ہے۔ نیز اس طعن کرنے سے اتنا پتہ چل گیا کہ خم غدیر کے موقع پر حضرت علیؓ خلیفہ مقرر نہیں ہوئے تھے اور عید غدیر منا کر شیعہ لوگ خواہ مخواہ بدنام ہو رہے ہیں۔ آپ کا یہ دعویٰ پیغمبر علیہ السلام نے کاغذ، قلم، دوات حضرت عمرؓ سے طلب فرمائی تو یہ بھی جھوٹ ہے بلکہ آپ نے جمیع حاضرین سے کہ جن میں حضرت علیؓ، حضرت عباسؓ اور گھر کی عورتیں وغیرہ بھی شامل ہیں، کاغذ، قلم، دوات طلب فرمایا جیسا کہ

بخاری شریف کتاب الجزیۃ، باب اخراج الیہود من جزیرۃ العرب جلد 10، صفحہ 426، رقم الحدیث 2932 پر موجود ہے۔

فقال ائتونی بکتف اکتب لکم کتابا

یعنی حضور اکرمﷺ نے فرمایا کہ کتب لاؤ تاکہ میں تمہیں ایک ایسی تحریر لکھ دوں کہ جس کے بعد تم راہ حق کو نہ گم کرو۔

غور فرمائیے حدیث میں ’’ائتونی‘‘ صیغہ جمع مذکر مخاطب بول کر پیغمبر علیہ السلام جمیع حاضرین سے کتف طلب فرما رہے ہیں۔ فقط حضرت عمرؓ سے اور ان سے طلب ہی کیوں فرماتے جبکہ وہ ان کا گھر ہی نہ تھا کہ جس میں قلم دوات طلب کی گئی بلکہ حضرت عائشہؓ کا حجرہ تھا، جیسا کہ بخاری شریف جلد 1، صفحہ 382 پر ہے اور پھر اگر قریب تھا تو حضرت علیؓ کا گھر۔ لہٰذا اگر خاص طور پر طلب فرماتے تو ان سے کہ جن کا گھر بعید تھا۔ بہرحال نقل و عقل سے یہ بات واضح ہوگئی کہ حضرت عمرؓ رضی اللہ عنہ سے پیغمبر علیہ السلام نے قلم دوات طلب نہیں فرمائی۔

(تمام شیعہ متفق ہیں کہ حضرت عمرؓ کا گھر مدینہ شریف کے شہر کے آخری کونے پر تھا)

جواب:2
آپ اس کا کیا جواب دیں گے کہ حضور اکرمﷺ تین دن زندہ (دنیوی زندگی) رہے اور حضرت علیؓ باوجوہ قریب گھر ہونے کے بھی ان کی تعمیل حکم نہ کرسکے اور بقول شیعہ خلافت بھی انہیں کی تحریر ہوئی تھی اور ادھر حکم رسول بھی تھا لہٰذا اگر باقی سب صحابہؓ مخالف تھے تو ان پر لازم تھا کہ چھپے یا ظاہر ضرور لکھوا لیتے تاکہ یوم سقیفہ یہی تحریر پیش کرکے خلیفہ بلافصل بن جاتے مگر یہ سب کچھ نہیں ہوا تو معلوم ہوا کہ یا تو تحریر ہی سرے سے ضروری نہ تھی بلکہ ایک امتحانی پرچہ تھا کہ جس میں حضور اکرمﷺ نے حضرت عمرؓ کی رائے سے اتفاق فرمایا ورنہ آپ پر کتمان حق اور وحی کا الزام عائد ہوگا حالانکہ جماعت انبیاء اس سے بالاتر ہے۔

صفحہ 1 از 2