اہل سنت اور اہل تشیع کے حدیثی ذخیرے کا معیارات نقد حدیث میں…

اہل سنت اور اہل تشیع کے حدیثی ذخیرے کا معیارات نقد حدیث میں فرق (قسط 8)

  مولانا سمیع اللہ سعدی

صفحہ 2 از 3

ان اختلاف النسخ المعتمدة نظير اختلاف القراءات في القرآن ، فما يقال هنا يقال هنا۔

(وسائل الشیعہ، محمد بن حسن حر عاملی ، موسسہ آل البیت ، قم ، ج30، ص273)

ترجمہ : ایک کتاب کے معتمد نسخوں کا اختلاف قرآن پاک کی مختلف قراءتوں کے اختلاف کی طرح ہے ،جو توجیہ وہاں کی جاتی ہے ، وہی توجیہ یہاں کی جائے گی۔

بلکہ شیعہ محدث کے نزدیک شیعہ کتب کے نسخوں و مخطوطات کا اختلاف قرآن پاک کی قراءتوں سے بھی بڑھ کر معتمد ہے، چنانچہ لکھتے ہیں:

على إن اختلاف النسخ لايتغير به المعنى ، غالبا ، بخلاف اختلاف القراءات. ومع ذلك فاختلاف النسخ ، والروايات ، لايستلزم التناقض ، لجواز كونهما حديثين متعددين وقعا في مجلسين أو في مجلس واحد ، لحكمة أخرى ، من تقية ونحوها ، بخلاف اختلاف القراءات۔

(وسائل الشیعہ، محمد بن حسن حر عاملی ، موسسہ آل البیت ، قم ، ج30، ص273)

ترجمہ:اختلاف نسخ سے معنی تبدیل نہیں ہوتا ،بخلاف اختلاف قراءت کے ، کہ اختلاف قراءت سے معنی مختلف ہوجاتا ہے ، نیز اختلاف نسخ و اختلاف روایات سے تناقض لازم نہیں آتا، کیونکہ وہ دو متعدد احادیث ہیں ، جو دو یا ایک مجلس میں تقیہ یا کسی اور وجہ سے ائمہ سے صادر ہوئی ہیں ، جبکہ اختلاف قراءت اس طرح نہیں ہے (یعنی اختلاف روایات و اختلاف نسخ سے تو تناقض لازم نہیں آتا جبکہ اختلاف قراءت سے بسا اوقات تناقض لازم آتا ہے ۔ معاذ اللہ )

ان عبارات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اخباری مکتب کے ہاں شیعہ ذخیرہ حدیث کی صحت و قطعیت کس درجہ کی ہے ؟ اخباری مکتب فکر نے احادیث کے حوالے سے جو نقطہ نظر اختیار کیا ہے ، وہ انتہائی غیر علمی ، غیر تحقیقی اور اندھے اعتقاد پر مبنی ہے ، علم و تحقیق کے میدان میں اسے محض خواہش اور دعوی بلا دلیل کہا جاسکتا ہے ، کیونکہ اس نقطہ نظر کا مطلب یہ ہے کہ کتب اربعہ کی چالیس ہزار احادیث ، ان احادیث کو روایت کرنے والے ہزاروں راوی، ان کتب کو نسلا بعد نسل لکھنے والے ہزاروں نساخ سب کے سب ہی غلطی ، تسامح اور ہر قسم کی بھول چوک سے مکمل طور پر معصوم اور پاک ہیں ، اس لئے ان کی روایتوں کو کسی بھی پیمانے پر پرکھنا ناجائز ہے ۔ علم و تحقیق کے میدان میں کسی ایک فرد کا اس طرح کا دعوی مضحکہ خیز ہے لیکن اگر سینکڑوں سال سے ایک پورا طبقہ نسل در نسل اس طرح کا غیر منطقی دعوی کرے ، تو اس کے لئے مضحکہ خیز سے آگے کوئی تعبیر ہوگی۔

ایک اشکال اور اس کا جواب

اخباری مکتب فکر نے شیعہ حدیثی ذخیرے سے متعلق جو موقف اختیار کیا ہے ، چونکہ وہ نہایت غیر علمی ہے ، اس لئے اس کی شناعت کم کرنے کے لئے بعض شیعہ محققین نے اس سے ملتے جلتے موقف کی نسبت اہلسنت کی طرف بھی کی ہے ، تاکہ بجواب آن غزل اہل سنت بھی اس غیر منطقی دائرے میں آ سکیں، چناچہ شیخ حیدر حب اللہ لکھتے ہیں:

"لا تقتصر نزعة اليقين على الوسط الشيعي الإمامي، بل هي موجودة في الوسط السني أيضاً، فبعض أهل السنة يذهبون إلى ما يشبه مطابقة كل حرف من صحيحي مسلم والبخاري للواقع، ويرون أنهما أصح الكتب بعد القرآن الكريم"۔

(المدخل الى موسوعۃ الحدیث، حید ر حب الله ، ص314)

ترجمہ: ذخیرہ حدیث سے متعلق یقین کا موقف صرف امامی حلقوں کے ساتھ خاص نہیں ، بلکہ سنی حلقے میں اس موقف کے حامل لوگ موجود ہیں ، چنانچہ بعض اہل سنت اس قسم کے موقف کی طرف گئے ہیں کہ صحیح بخاری و مسلم کی ہر حدیث صحیح ہے ، اور واقع کے مطابق ہے، نیز اہل سنت صحیحین کو اصح الکتب بعد کتاب اللہ کہتے ہیں۔

یہ بہت بڑا مغالطہ ہے ، جو شیعہ محقق نے کمال ہوشیاری سے مکتب اخباری کے غیر منطقی دعوے کے اثرات کو کم کرنے کے لئے اٹھایا ہے ،اس مغالطے کی اصل حقیقت یہ ہے کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اپنی مایہ ناز کتاب شرح نخبة الفکر میں صحیح احادیث کے درجات بیان کرتے ہوئے لکھا ہے:

"و تفاوت رتبه اى الصحيح بسبب تفاوت هذه الاوصاف المقتضية للتصحيح في القوة ،فانها لما كانت مفيدة لغلبة الظن الذي عليه مدار الصحة اقتضت ان يكون لها درجات ،بعضها فوق بعض ،بحسب الامور المقوية ،و اذا كان كذالك فما تكون رواته في الدرجة العليا من العدالة و الضبط و سائر الصفات التي توجب الترجيح كان اصح مما دونه "۔

(شرح نخبۃ الفکر ، ابن حجر عسقلانی، ص72)

ترجمہ : صحیح کے درجات میں صحیح کے مقتضی اوصاف میں فرق کی وجہ سے تفاوت ہے ، کیونکہ جب یہ صفات ، جن پر صحت کا مدار ہے ،جب غلبہ ظن کا فائدہ دیتی ہیں ، تو اس کا تقاضا ہے کہ ان امور تقویت کی وجہ سے بعض درجات بعض سے اوپر ہو ،لھذا جن احادیث کے رواۃ عدالت ، ضبط اور دیگر اوصاف صحت میں اعلی درجے کے ہوں ، تو وہ احادیث ان احادیث سے درجہ صحت میں اعلی درجہ پر فائز ہو گی ، جن کے رواۃ اس در جے کو نہیں پہنچتے ۔

اس کے بعد امام عسقلانی نے ان احادیث کی نشاندہی کی ہے ، جو اپنی رواۃ کی عدالت ، ضبط و دیگر اوصاف کی برتری کی وجہ سے دیگر احادیث سے صحت میں برتر ہیں ، ان میں سب سے اعلی درجہ صحیحین کا ہے ، کیونکہ صحیحین کے رواۃ کی عدالت ،ضبط ،اتصال وغیرہ بنسبت دیگر کتب کی رواۃ سے اعلی درجہ کی ہیں ، پھر خود صحیحین میں موازنہ کرتے ہوئے صحیح بخاری کو صحیح مسلم پر درجہ ذیل وجوہ سے فوقیت دی ہے :

1۔ صحیح بخاری کی احادیث اتصال میں بنسبت صحیح مسلم کے زیادہ قوی ہیں، کیونکہ امام بخاری رحمہ اللہ نے راوی و مروی عنہ میں معاصرت کی بجائے لقاء کی شرط لگائی ہے۔

2۔ صحیح بخاری کے رواۃ صحیح مسلم کے رواۃ سے عدالت و ضبط میں فائق ہیں، کیونکہ صحیح بخاری میں متکلم فیہ رواۃ کی تعداد صحیح مسلم سے کم ہے۔

3۔ صحیح بخاری کی احادیث عدم شذوز و عدم اعلال میں صحیح مسلم سے فائق ہیں ، کیونکہ صحیح بخاری کی قابل نقد احادیث صحیح مسلم کی احادیث سے کم ہیں ۔

(شرح نخبۃ الفکر ، ابن حجر عسقلانی، ص75)

صفحہ 2 از 3