اہل سنت اور اہل تشیع کے حدیثی ذخیرے کا معیارات نقد حدیث میں…

اہل سنت اور اہل تشیع کے حدیثی ذخیرے کا معیارات نقد حدیث میں فرق (قسط 8)

  مولانا سمیع اللہ سعدی

صفحہ 3 از 3

مذکورہ بالا تفصیل سے معلوم ہوا کہ حافظ ابن حجر نے بقیہ کتب کی بنسبت صحیحین کی احادیث کی اولویت پھر صحیحین میں صحیح بخاری کے ارجح واضح ہونے کی جو بات کی ہے ، وہ مکتب اخباری کی طرح محض اعتقاد اور دعوی بلا دلیل پر مبنی نہیں ہے ، بلکہ اس وجہ سے ہے کہ صحیحین کی احادیث مصطلح الحدیث کے قواعد وضوابط پر پرکھنے کے بعد صحت میں بقیہ کتب سے فائق ثابت ہوئی ہیں ۔ کسی کتاب کو محض اعتقادی بنیاد پر یقینی قرار دینا اور بات ہے ، جبکہ کسی کتاب کو قواعد وضوابط پر پرکھنے کے بعد یقینی قرار دینا بالکل الگ بحث ہے ، چنانچہ حافظ بن حجر اس بحث کے اختتام پر کہتے ہیں:

"فالصفات التي تدور عليها الصحة في كتاب البخارى اتم منها في كتاب مسلم و اشد "

(شرح نخبۃ الفکر ، ابن حجر عسقلانی، ص75)

ترجمہ : پس وہ صفات ، جو حدیث کی صحت کے لئے معیار ہیں ، وہ صحیح بخاری میں بنسبت صحیح مسلم کے زیادہ اتم و اشد در جے میں پائی جاتی ہیں۔

خلاصہ یہ نکلا کہ اہلسنت کے ہاں صحیحین کی بقیہ کتب حدیث پر ارجحیت کا جو قول ہے ، وہ صحیحین کی احادیث میں شرائط صحت کے پائے جانے کی وجہ سے ہیں ، جبکہ اخباری مکتب نے کتب اربعہ کی صحت کا جو دعوی کیا ہے وہ کسی معیار پر پرکھنے ، شیعہ علوم الحدیث میں شرائط صحت پر جانچنے کے بغیر محض کتب اربعہ کے مصنفین سے حسن ظن و فرط اعتقاد کی بنیاد پر کیا ہے ۔ اور نہ تو پیچھے حر عاملی کا قول گزر چکا ہے کہ اگر مصطلح الحدیث کے قواعد صحت پر کتب اربعہ کو پرکھا جائے ، تو اکثر یا تمام احادیث کو ضعیف کہنا پڑے گا۔ تحقیق کے بعد یقین کا قول اپنانا(جیسا کہ صحیحین کی احادیث کو قواعد پر پرکھنے کے بعد یقینی کہنا) اور بلا تحقیق یقین کا قول اختیار کرنے (جیسا کہ اخباری مکتب نے کتب اربعہ کے بارے میں کہا ہے) میں بعد المشرقین ہے۔ چنانچہ معروف شیعہ عالم مازندرانی شرح اصول کافی کے مقدمے میں لکھتے ہیں:

أكثر أحاديث الأصول في الكافي غير صحيحة الإسناد ومع ذلك أورده الكليني - رحمه الله - معتمدا عليها لاعتبار متونها وموافقتها للعقائد الحقة ولا ينظر في مثلها إلى الإسناد۔

(شرح اصول کافی ، صالح مازندرانی، ج 1، ص10)

ترجمہ :کافی کی اکثر احادیث باعتبار سند کے صحیح نہیں ہیں ، اس کے باوجو د امام کلینی نے ان پر اعتماد کرتے ہوئے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے ، کیونکہ ان کے متون عقائد حقہ کے موافق ہونے کی بنا پر معتبر ہیں ، اور ان جیسی روایات میں اسناد کو نہیں دیکھا جاتا۔

کیا علمائے اہلسنت نے صحیحین کے بارے میں اس قسم کا دعوی کیا ہے ؟ کہ اسناد صحیح نہ ہونے کے باوجود صحیحین کی احادیث صحیح شمار ہونگی ؟ یا علمائے اہلسنت نے صحیحین کی ایک ایک حدیث اور ایک ایک راوی کو قواعد علوم الحدیث پر پرکھنے کے بعد ان کی صحت کا نظریہ اپنایا ہے؟

(جاری ہے)

 

 


صفحہ 3 از 3