اہل تشیع کا اصولی گروہ اور نقد حدیث کا منہج (قسط 9) - ردِ…

اہل تشیع کا اصولی گروہ اور نقد حدیث کا منہج (قسط 9)

  مولانا سمیع اللہ سعدی

صفحہ 1 از 3

نقد احادیث کا اصولی منہج

اخباری شیعہ کا نقطہ نظر سامنے آنے کے بعد نقدحدیث کے اصولی منہج پر ایک نظر ڈالتے ہیں،اہل تشیع سے جب اخباری شیعہ کے غیر علمی ،غیر منطقی اور محض اعتقاد پر مبنی غیر عقلی موقف کے بارے میں پوچھا جاتا ہے تو سنجیدہ اہل تشیع اصولی منہج کا ذکر کرتے ہیں کہ اگر اخباری شیعہ نے حدیثی ذخیرے سے متعلق قطعیت کا قول اپنایا ہے، تو اصولیین نے کتب اربعہ سمیت جملہ حدیثی ذخیرے کو قواعد ِجرح و تعدیل پر پرکھنے کی روش اپنائی ہے، اور اس حوالے سے اپنی کتب رجال اور علم درایۃ کی کتب کا ذکر کرتے ہیں ، یوں اہلسنت کے علم مصطلح الحدیث کی طرح حدیث کو پرکھنے کا باقاعدہ فن پیش کرتے ہیں، لیکن اصولی منہج میں بھی بعض ایسے مہیب خلا موجود ہیں ، جن کی وجہ سے یہ منہج بعض جہات سے شیعہ ذخیرہ حدیث کو پرکھنے کے حوالے سے بے فائدہ بن جاتا ہے۔ ہم ان میں سے صرف ایک بات کا ذکر کرنا چاہیں گے اور اس سے جو سوالات پیدا ہوتے ہیں ، اس کا ذکر کرتے ہیں ، دیگر امور ایک مستقل بحث میں ذکر کریں گے ۔

سب سے اہم ترین نکتہ یہ ہے کہ حدیث کی تصحیح اور حدیث کو پرکھنے کے حوالے سے(یعنی اصولی منہج میں) اہل تشیع کے قدماء محدثین جن میں خاص طور پر کتب اربعہ کے مصنفین شامل ہیں اور متاخرین (ساتویں صدی ہجری کے علامہ حلی و ابن طاووس) کے منہج میں اصولی و بنیادی فرق ہے ، ہم پہلے اس فرق پر شیعہ محققین کی عبارات ذکر کرتے ہیں ، پھر دونوں مناہج کے درمیان اصولی فرق سے پیدا شدہ نتائج و سوالات کا ذکر کریں گے :

معروف شیعہ محقق ومحدث جعفر سبحانی متاخرین کے منہج کا متقدمین کے منہج سے اختلاف کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

"المعروف انہ لم یکن من تلک المصطلحات اثر بین اصحابنا ،و انما حدثت فی اثناء القرن السابع ،وقد عرفت حقیقۃ الحال ،واللازم بیان ما ھو الدافع الی اصطناعھا ، فقد اشبع بہاء الدین العاملی الکلام فی ذلک فنحن ناتی بہ برمتہ ،یقول : ھذا لاصطلاح لم یک معروفا بین قدمائنا قدس اللہ ارواحہم کما ھو الظاہر لمن مارس کلامہم ،بل کان المتعارف بینہم اطلاق الصحیح علی کل حدیث اعتضد بما یقتضی اعتمادھم علیہ ،او اقترن بما یوجب الوثوق بہ ،الرکون الیہ "

(اصول الحدیث و احکامہ فی درایۃ الحدیث ،جعفر سبحانی ،ص 43)۔

ترجمہ :معروف یہ ہے کہ یہ اصطلاحات ہمارے متقدمین کے درمیان معروف نہ تھیں ، بلکہ ساتویں صدی ہجری میں ظہور پذیر ہوئیں، اس کی حقیقت حال ہم پیچھے بیان کر چکے ہیں ،اب ضروری یہ ہے کہ ان اسباب کا ذکر کیا جائے ، جس کی وجہ سے ان اصطلاحات کے وضع کی ضرورت پیش آئی ، تو بہاء الدین عاملی نے اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ اصطلاح ہمارے قدماء کے درمیان معروف نہ تھی ، ہر وہ آدمی جو قدماء کی کتب سے ممارست رکھتا ہو ،اس پر یہ بات ظاہر ہے ، بلکہ ان کے درمیان ہر اس حدیث کو صحیح کہا جاتا تھا ،جس کی تائید میں ایسے اسباب ہوتے تھے ، جن پر ان علماء کا اعتماد ہوتا ، یا اس حدیث کے ساتھ ایسی مویدات مل جاتیں ، جن کی وجہ سے اس پر وثوق اور اس کی طرف میلان ہوجاتا۔

شیعہ عالم حسن زین الدین عاملی متاخرین کے اصطلاح کا ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

"فان القدماء لا علم لھم بھذا الاصطلاح قطعا ۔۔ولا یکاد یعلم وجود ھذا لاصطلاح قبل زمان العلامہ"

((زین الدین حسن عاملی ،منتقی الجمان،ج1،ص14،15

ترجمہ :قدماء کو متاخرین کی اصطلاح کا علم بالکل نہیں تھا ، نہ ہی علامہ (ابن حلی) کے زمانے سے پہلے اس اصطلاح کا وجود تھا۔


محمد جواد کاظم لکھتے ہیں:

اختلفت انظار المتاخرین للحدیث الصحیح عن القدماء

المنہج الغائی فی تصحیح الحدیث عند الامامیہ ،محمد جواد کاظم ،ص46

یعنی حدیث صحیح سے متعلق متاخرین کے نظریات قدماء سے مختلف ہیں ۔

قدما و متاخرین کے طریقہ تصحیح میں فرق 

شیعہ کے بنیادی مصادر ِحدیث کے مولفین اور دیگر قدما محدثین نے حدیث کی تصحیح کا جو طریقہ اختیار کیا تھا ، وہ قریب قریب اخباریوں کی طرح تھا ، کیونکہ اس میں اسناد ، رواۃ ، اتصال و ارسال ، قواعد ِجرح و تعدیل وغیرہ کی بجائے متن ِحدیث پر کسی بھی وجہ سے دلی اطمینان و میلان کو معیار بنایا جاتا تھا ، جبکہ متاخرین یعنی ابن طاووس و علامہ حلی نے احادیث کو پرکھنے کا جو منہج اپنایا تھا ، اس میں رجال و اسناد کی بحث مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔  معروف محقق علامہ کلباسی لکھتے ہیں :

"ان الصحیح عند القدماء لیس المراد بہ ما یرویہ الامامی بل معناہ ما ثبت بالاصل الماخوذ منہ بای کان من انواع الثبوت "

الرسائل الرجالیہ ،محمد بن محمد کلباسی ،ج1،ص250


ترجمہ
: قدماء کے نزدیک صحیح اس صرف روایت کا نام نہیں ہے ، جو امامی شیعہ سے مروی ہو ، بلکہ صحیح کا مطلب یہ ہے کہ جو کسی ا صل ماخوذ منہ میں کسی بھی طریقہ ثبوت سے ثابت ہو ۔

عبد النبی جزائری لکھتے ہیں :

اما القدماء من اصحابنا فالذی یظہر من عباراتھم و تصفح کلامھم انھم یریدون بالصحیح غالبا المعمول بہ و المفتی بمضمونہ او احتف بالقرائن و غیر ذلک مما یوجب العمل "

حاوی الاقوال ،عبد النبی جزائری ،ج1،ص100


ہمارے قدماء اصحاب کی عبارات اور ان کی کلام کی چھان بین سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ان کے نزدیک صحیح سے مراد وہ روایت ہے ، جس پر عمل ہو ، اس کے مضمون پر فتوی دیا گیا ہو یا وہ ایسے قرائن سے مزین ہو ، جو اس پر عمل کو واجب کرے۔

معروف شیعہ محقق عبد اللہ مامقانی لکھتے ہیں:

"ان الصحیح و الضعیف کان مستعملا فی السنۃ القدما ء ایضا،غایۃ ما ھناک انھم کانوا یطلقون الصحیح علی کل حدیث اعتضد بما یقتضی اعتمادھم علیہ "

مقباس الھدایہ ، عبد اللہ مامقانی ،ج1،ص139

یقینا صحیح اور ضعیف کا لفظ قدماء میں بھی مستعمل تھا، زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ قدماء صحیح حدیث کا اطلاق ہر اس روایت پر کرتے تھے ، جو ایسے قرائن سے موید ہو ،جن کی وجہ سے وہ ان کے نزدیک معتمد بن جاتا۔

معروف شیعہ ویب سائٹ

"مرکز الابحاث العقائدیہ"

پر قدماء و متاخرین کا فرق بیان کرتے ہوئے لکھا ہے:

صفحہ 1 از 3