اہل تشیع کا اصولی گروہ اور نقد حدیث کا منہج (قسط 9) - ردِ…

اہل تشیع کا اصولی گروہ اور نقد حدیث کا منہج (قسط 9)

  مولانا سمیع اللہ سعدی

صفحہ 2 از 3

"أن للتضعيف والتصحيح معنيان عند الإماميۃ ـ أحدھما عند المتقدمين ـ ويمثلھم الشيخ الكليني ومن في طبقتہ ـ والثاني عند المتأخرين ـ ويمثلھم العلامۃ الحلي ومن في طبقتہ ـ ومعنی الصحيح عند المتقدمين ھو القبول بالحديث والعمل بہ لاحتفائہ بقرائن تدل علی صحۃ صدورہ، وھذا عندھم بغض النظر عن وثاقۃ رواۃ السند.أما المتأخرون فھم لا يرون الحديث صحيحاً إلا إذا ثبت عندھم وثاقۃ رواتہ بالخصوص۔

لنک

امامیہ کے ہاں تصحیح و تضعیف کے دو مطلب ہیں ، پہلا مطلب متقدمین ، جیسے شیخ کلینی اور ان کے ہم عصر و ہم طبقہ محدثین کے ہاں ہے ، دوسرا مفہوم متاخرین یعنی علامہ حلی اور ان کے ہم طبق محدثین کے ہاں ہے ، متقدمین کے نزدیک صحیح کا مطلب حدیث کو قبول کرنا اور اس پر ایسے قرائن کی وجہ سے عمل کرنا ، جو اس کے صدور کی صحت پر دلالت کرے ، اور متقدمین رواۃ کی توثیق سے صرف نظر کرتے تھے ، جبکہ متاخرین رواۃ کی توثیق کے بغیر کسی روایت کو صحیح نہیں سمجھتے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ وہ کونسے قرائن ہیں ، جن کی بنیاد پر قدماء محدثین کسی حدیث کو صحیح قرار دیتے تھے ، تو معروف شیعہ محقق محمد بن حسین بہائی نے اپنی کتاب

"مشرق الشمسین و اکسیر السعادتین "

میں درجہ ذیل قرائن لکھے ہیں:

1۔حدیث کا اصول اربعمائۃ میں پایا جانا

(اصول اربعمائۃ کی حقیقت و استنادی حیثیت و ثبوت پر ہم ماقبل میں مفصلا بحث کرچکے ہیں )۔

2۔حدیث کا ایک یا ایک سے زیادہ اصول میں مختلف اسناد کے ساتھ مذکور ہونا۔

(یہ وجہ مستقل وجہ نہیں ،بلکہ پچھلی وجہ ہی کی توسیع ہے۔فافہم)

3۔حدیث کا ان حضرات کی کتب میں پایا جانا ، جن کی تصدیق پر اجماع ہے ، جیسے زرارۃ،محمد بن مسلم فضل بن یسار وغیرہ

4۔حدیث کا ان کتب میں سے کسی کتاب میں پایا جانا ، جو ائمہ معصومین پر پیش کئے جاچکے ہیں ،جیسے عبید اللہ حلبی کی کتاب ، جو امام صادق پر پیش کی جاچکی ہے ،یونس بن عبد الرحمان کی کتاب ، جو امام عسکری پر پیش کی جاچکی ہے ۔

5۔حدیث کا ان کتب میں پایا جانا ، جو سلف میں معروف تھیں خواہ اس کے مصنفین امامی شیعہ ہوں جیسے حریز بن عبد اللہ اور علی بن مھزیار کی کتب یا ان کے مصنفین امامی شیعہ نہ ہوں ، جیسےحفص بن غیاث اور حسین بن عبد اللہ کی کتب 

(مشرق الشمسین و اکسیر السعادتین ، بہاء الدین محمد بن حسین عاملی ،مجمع البحوث الاسلامیہ ،مشہد ،ص26 تا 30)

اسی قسم کے قرائن معروف شیعہ محقق محمد جواد کاظم نے اپنی کتاب"المنہج الغائی فی تصحیح الحدیث عند الامامیہ "میں ذکر کی ہیں۔

(المنہج الغائی فی تصحیح الحدیث عند الامامیہ ،دار الرافدین ،بیروت ،ص 79 تا 84)

ان قرائن سے معلوم ہوا کہ اہل تشیع کے متقدمین اور بنیادی حدیثی ذخیرے

(الکافی، من لا یحضرہ الفقیہ، الاستبصار اور تہذیب الاحکام )

کے مصنفین کے نزدیک حدیث کی صحت میں رجال ،اسناد ، قواعد ِجرح و تعدیل، اتصال و ارسال کی بجائے اصل بنیاد حدیث کا اصول اربعمائۃ یا ان سے پہلے علمائے شیعہ کی لکھی گئی کسی بھی کتاب میں پایا جانا،

اب ان کتب سے ائمہ معصومین تک حدیث میں کتنے رواۃ کا واسطہ آتا ہے ؟

واسطے متصل ہیں یا منقطع ؟

یہ رواۃ قواعد جرح و تعدیل کے اعتبار سے کس معیار پر تھے ؟

ان کتب کے مخطوطات کتب اربعہ کے مصنفین تک کیسے پہنچے ؟

ان سب علمی مباحث سے اہل تشیع کے قدماء نے صرف ِنظر کرتے ہوئے ایک ہی بنیاد کو معیار مانا کہ چونکہ یہ حدیث معتبر اصول و کتب میں منقول ہے ،اس لئے یہ حدیث کی صحت کے لئے مضبوط قرینہ ہے، یوں ان احادیث کو صحیح سمجھتے ہوئے اپنے مصادر میں انہیں جگہ دی ۔

اب سوال یہ ہے کہ قدماء کے نزدیک جو احادیث صحیح تھیں اور انہوں نے ان احادیث کو اپنی کتب خاص طور پر کتب اربعہ میں جگہ دی ، ان احادیث کا سند و رجال کے اعتبار سے کیا مقام ہے؟ یا دوسرے لفظوں میں قدماء کے منہج کے مطابق صحیح روایات کا متاخرین کے منہج کے مطابق صحت کا کیا مقام ہے؟

تو اہل تشیع کے بقول اگر قدماء کی نظر میں صحیح احادیث کو متاخرین کی اصطلاح کے مطابق رجال و اسناد (یعنی متاخرین کے علم الدرایہ ) کی کسوٹی پر پرکھا جائے تو کتب اربعہ کی اکثر احادیث ضعیف ثابت ہوں گی۔

شیخ جعفر سبحانی لکھتے ہیں :

"وقد جری رئیس المحدثین محمد بن بابویہ قدس سرہ علی متعارف المتقدمین فی اطلاق الصحیح علی ما یرکن الیہ و یعتمد فحکم بصحۃ جمیع ما اوردہ من الاحادیث فی کتاب من لایحضرہ الفقیہ ،و ذکر انہ استخرجھا من کتب مشہورۃ علیھا المعول و الیھا المرجع ،وکثیر من تلک الاحادیث بمعزل عن الاندراج فی الصحیح علی اصطلاح المتاخرین ،ومنخرط فی سلک الحسان و الموثقات بل الضعاف "

(المنہج الغائی فی تصحیح الحدیث عند الامامیہ ،دار الرافدین ،بیروت ص45)

رئیس المحدثین ابن بابویہ قمی نے متقدمین کےعرف کے مطابق انہی احادیث کو صحیح سمجھا ، جن کی طرف دلی میلان ہو اور وہ کسی بھی وجہ سے معتمد ہوں ، اس لئے اپنی کتاب

من لایحضرہ الفقیہ

میں مذکور جملہ احادیث کو صحیح قرار دیا کہ انہوں نے یہ احادیث ان کتب سے لی ہیں ، جو معتمد و مرجع کی حیثیت رکھتے ہیں ، لیکن

من لا یحضرہ الفقیہ

کی اکثر احادیث متاخرین کی اصطلاح کے مطابق صحیح کی درجہ بندی میں نہیں آتیں ، حسن موثق بلکہ ضعیف کی درجہ بندی میں آتی ہیں ۔

شیعہ محقق رضا ہمدانی شیعہ کتب اربعہ میں مذکور روایات کے رواۃ سے متعلق لکھتے ہیں :

"فلا یکاد توجد روایۃ یمکننا اثبات عدالۃ رواتھا علی التحقیق ۔۔۔۔۔و لاجل ما تقدمت الاشارۃ الیہ جرت سیرتی علی ترک الفحص عن حال الرجال ،والاکتفاء فی توصیف الروایۃ بالصحۃ کونھا موصوفۃ بھا فی السنۃ مشائخنا المتقدمین "

(مصباح الفقیہ ،رضا ہمدانی ،ج1،ص12)

ترجمہ :کوئی ایسی روایت بڑی مشکل سے ملے گی ،جس کے رواۃ کی عدالت تحقیقی طور پر ثابت ہو ۔۔۔اسی وجہ سے میرا طرز یہ ہے کہ رجال کے احوال سے متعلق چھان بین نہیں کرتا ، صرف مشائخ متقدمین کی زبان ان کو صحیح کہنے پر اکتفاء کرتا ہوں۔

ماقبل میں ہم معروف شیعہ محدث حر عاملی کا حوالہ دے چکے ہیں کہ علوم مصطلح الحدیث کے قواعد پر اگر کتب اربعہ کی روایات کو پرکھا جائے تو اکثر یا سب کی سب احادیث ضعیف ثابت ہوں گی ۔

اسی وجہ سے اخباریوں نے متاخرین کے منہج کو

"ہدم الدین "

صفحہ 2 از 3