اہل تشیع کا اصولی گروہ اور نقد حدیث کا منہج (قسط 9) - ردِ…

اہل تشیع کا اصولی گروہ اور نقد حدیث کا منہج (قسط 9)

  مولانا سمیع اللہ سعدی

صفحہ 3 از 3

یعنی دین کی بنیادوں کو مٹا دینے اور گرادینے کے مترادف قرار دیا ،

چنانچہ معروف اخباری شیعہ عالم محمد امین استرابادی لکھتے ہیں :

"و بالجملۃ، وقع تخريب الدين مرتين مرۃ يوم توفي النبي صلی اللہ عليہ وآلہ و مرۃ يوم أجريت القواعد الأصوليۃ –العامۃ- و الاصطلاحات التي ذكرتھا العامۃ في الكتب الأصوليۃ و في كتب درايۃ الحديث في أحكامنا و أحاديثنا"

(الفوائد المدنیہ ،محمد امین استرابادی ، قم مقدسہ ،ص 368)

ترجمہ :خلاصہ یہ کہ دین کی تخریب دو موقعوں پر ہوئی ، ایک اس دن جب نبی پاک ﷺ کی وفات ہوئی (اور خلافت حضرت علی کی بجائے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ملی) دوسرا اس دن ، جب اہلسنت کی اصطلاحات اور ان کے قواعد اصولیہ کو ہمارے احکام و احادیث میں جاری کرنے کا عمل شروع ہوا۔

چنانچہ یہی وجہ ہے کہ جن اہل تشیع اہل علم نے متاخرین کے منہج کے مطابق الکافی کی صحیح و ضعیف احادیث کی تنقیح کی ہے ، تو الکافی کے دو ثلث ضعیف ثابت ہوئے ہیں ، معروف شیعہ عالم مرتضی عسکری اپنی کتاب

"معالم المدرستین "

میں لکھتے ہیں:

وان اقدم الكتب الأربعۃ زماناً، وأنبھھا ذكراً، وأكثرھا شھرۃ ھوكتاب الكافي للشيخ الكليني وقد ذكر المحدثون بمدرسۃ أھل البيت فيھا (9485) حديثاً ضعيفاً من مجموع (16121) حديثاً

(معالم المدرستین ، مرتضی عسکری ، مرکز الطباعۃ والنشر للمجمع العالمی لاہل البیت ،ج3،ص343)

ترجمہ :کتب اربعہ میں زمانے کے اعتبار سے قدیم ترین کے کتاب ، زیادہ آہنگ کے ساتھ علمی حلقوں میں مذکور کتاب اور سب سے مشہور ترین کتاب الکافی ہے ، اور مدرسہ اہل بیت کے محدثین (شیعی محدثین) نے اس کتاب کی 16121 احادیث میں سے 9485 احادیث (یعنی دو ثلث ) کو ضعیف قرار دیا ہے۔

معاصر شیعہ محقق باقر بہبودی نے جب الکافی کی صحیح احادیث پر تحقیق کی تو ضعیف احادیث کی تعداد اس سے کہیں زیادہ نکلی ،چنانچہ مرتضی عسکری لکھتے ہیں:

" وقد ألف أحد الباحثين – وھو محمد باقر البھبودي - في عصرنا صحيح الكافي واعتبر من مجموع (16121) حديثاً من أحاديث الكافي (4428) صحيحاً، وترك (11693) حديثاً منھا لم يرھا حسب اجتھادہ صحيحۃ ۔

(معالم المدرستین ،مرتضی عسکری ،مرکز الطباعۃ والنشر للمجمع العالمی لاہل البیت ، ج3،ص344)

’’ایک معاصر محقق محمد باقر بھبودی نے صحیح الکافی لکھی ہے ،اور انہوں نے 16121 احادیث میں سے صرف 4428 احادیث کو صحیح قرار دیا ، اور 11963 احادیث کو اپنے اجتہاد کے مطابق ضعیف قرار دیا۔

جب سب سے صحیح ، سب سے مشہور اور سب سے زیادہ مرجعیت کی حامل کتاب الکافی کے دو ثلث ضعیف احادیث پر مشتمل ہیں ، تو بقیہ کتب کا صحت و ضعف کے اعتبار سے کیا حال ہوگا ؟اہل علم پر مخفی نہیں ۔

(جاری ہے)


صفحہ 3 از 3