حضرت ابوبکر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ…

حضرت ابوبکر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے دل میں شرک چیونٹی سے بھی زیادہ مخفی ہے۔

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 1 از 3

شیعہ اعتراض 
حضرت ابو بکرصدیقؓ میں چیونٹی کی رفتار سے مخفی شرک تھا۔



جواب:

شرک کی دو قسمیں احادیث میں بیان کی گئی ہیں:

1: شرک خفی جیسے ریاکاری کرنا وغیرہ

2: شرک جلی جیسے الله تعالیٰ کی ذات و صفات میں کسی غیر اللہ کو شریک ٹھہرانا

1: یہاں شرک سے مراد وہ شرک نہیں جو اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کے بارے میں کسی غیر کو شریک کرنے سے پیدا ہوتا ہے بلکہ شرک خفیف مراد ہے نبی کریمﷺ فرماتے ہیں کہ "الرياء شرك خفيف " دکھلاوا شرک خفیف ہے۔

اور یہ وہم اور خدشہ تو ہر شخص کو رہنا چاہئے کہ کہیں شیطان وسوسہ کی بنا پر معمولی سی نیت کی خرابی پر انسان کے عمل کو برباد نہ  کر دے، جو شخص ایمان میں جتنا ترقی کرتا جا تا ہے اپنے عمل کو ضائع ہونے سے بچانے کی فکر میں اتنا ہی حساس اور فکر مند ہوتا چلا جاتا ہے گویا یہ احساس جو سیدنا صدیقِ اکبرؓ کو پیدا ہوا اس طرح کا احساس دل میں پیدا ہونا علامت ایمان ہے نہ کہ باعث اعتراض۔

2: رافضی مکار نے یہاں بھی شاطرانہ کردار ادا کرتے ہوئے حضرت ابوبکرؓ پر مذکورہ بات فٹ کر دی ہے ورنہ مذکورہ
حدیث میں تو کم، ضمیر جمع مخاطب کی ہے فیکم فرمایا فیک ایک نہیں فرمایا جس کا مطلب ہے کہ تم تمام لوگ یعنی یہ خدشہ اور خطرہ تمام لوگوں میں موجود ہے یہاں خطاب تو پوری امت کیلئے ہے مگر شاطر قلمکار نے اس کو خاص صدیقِ اکبرؓ پر ہی فٹ کر دیا۔

ذرا حدیث پاک کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔
حضرت معقل بن یسار کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوبکرؓ کے ساتھ نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے فرمایا اے ابوبکر شرک تم لوگوں میں چیونٹی کی چال سے بھی خفیف طور پر رینگتا ہے میں تم کو وہ چیز بتاتا ہوں کہ جب تم اس کو کہو گے تو شرک تھوڑا ہو یا بہت تم سے نکل جائے گا۔ یہ دعا پڑھا کرو
اللهم اني اعوذ بك من ان اشرك بك شَیْاًءو انا اعلم و استغفرك لما لا اعلم به 

اس روایت سے معلوم ہوا کہ

1: خطاب فیکم جمع مخاطب کی ضمیر کے ساتھ ہے اس خطاب میں تمام لوگ مخاطب ہیں نہ کہ صرف صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔
2: اس شرک سے وہ شرک مراد نہیں جو بت پرست، سورج پرست، آگ پرست وغیرہ لوگوں نے اپنایا ہوا ہے۔ بلکہ شرک خفيف مراد ہے کہ کوئی نیک کام کرتے ہوئے نیت میں نقص پیدا ہو جائے اور خالص اللہ تعالیٰ کو دکھانے کی بجائے لوگوں کو دکھانے کا خیال دل میں جگہ پکڑ لے۔

3: رحمت عالمﷺ نے دعا بتلا کر اس خفیف شرک کا علاج بھی فرما دیا کہ یہ دعا پڑھ لو تو دل میں جو ریاکاری پیدا ہونے سے خرابی پیدا ہوگئی اس دعا کی برکت سے وہ بھی ختم ہو جائے گی۔

یہ تو حدیث پاک کا درست محل اور صحیح مطلب ہے جس میں صدیق اکبرؓ کی اہانت کا کوئی پہلو نہیں نکلتا۔ یہ محض رافضی تعصب کا کمال ہے جو مربی کی بات کا غلط مطلب تراش کر عامة الناس کو گمراہ کرتے اور راہ حق سے برگشتہ کرتے ہیں۔

الجواب 2:

اہل رفض و ضلال نے حضرت صدیق اکبرؓ کی طرف روئے سخن ہونے کی وجہ سے آپ کو مورد الزام ٹھہرا لیا اور ان کے دل کی مرض کی تشخیص کا دعویٰ کر دیا حالانکہ دیگر دلائل کتاب و سنت کے مقابل اس شبہ کا سہارا لینا بے سود ہے۔ جو ان کے اخلاص پر صریح الدلالت ہیں۔

علاوہ ازیں یہاں چند امور توجہ طلب ہیں۔

1: بسا اوقات ایک اہم ہستی کی طرف روئے سخن کیا جاتا ہے، لیکن مراد دوسرے لوگ ہوتے ہیں اور اس خطاب کا مقصد دوسروں کے دلوں میں اس حکم کی اہمیت کا راسخ کرنا ہوتا ہے ۔ جس طرح ارشاد باری تعالیٰ ہے:

ولا تمدن عینیک الی مامتعنا بہ ازواجا منھم زھرۃ الحیوٰۃ الدنیا

ترجمہ: آپ آنکھیں بڑھا کر اور اٹھا کر ہرگز نہ دیکھیں ان چیزوں کی طرف جو ہم نے ان میں سے مختلف لوگوں کو عطا کی ہیں حیاۃ دنیویہ کی زینت کے طور پر۔

حالانکہ اس ذات مقدس نے کونین کی نعمتوں کو بھی خاطر میں نہ لاتے ہوئے فقر و مسکنت کو اختیار فرمایا ہوا تھا، لہٰذا یہاں روئے سخن آپﷺ کی طرف ہے اور مراد دوسرے لوگ ہیں اور یہی معاملہ حضرت صدیق اکبرؓ کا ہے۔ لہٰذا حضرت صدیق اکبرؓ کے مرض قلب کی نشاندہی تو اس سے نہیں ہوتی البتہ معترض کے مرض قلب و روح کی نشاندہی ضرور ہوتی ہے۔

2: الشرک اخفی فیکم کا خطاب اگرچہ عام ہے لیکن کبھی عام سے عموم والا معنیٰ مراد نہیں ہوتا بلکہ بعض کا فعل ہوتا ہے، مگر اس کی نسبت سب کی طرف کر دی جاتی ہے۔ جس طرح بنی اسرائیل میں سے بعض نے قتل کا ارتکاب کیا لیکن نسبت سب کی طرف کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔

واذ قتلتم نفسا فادا رائتم فیھا

ترجمہ: اس وقت کو یاد کرو جب تم نے ایک شخص کو قتل کیا پھر اس قتل کو ایک دوسرے پر ڈالا۔

اسی طرح حضرت علیؓ کا ارشاد ہے:

فابدلنا بعد الضلالۃ بالھدی واعطانا البصیرۃ بعد العمی(نہج البلاغہ: مصری جلد 1 صفحہ 539)

ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے ہمیں گمراہی کے بعد اس کے بدلے ہدایت عطا فرمائی اور دل کے نابینا اور اندھے ہونے کے بعد قلبی بصیرت عطا فرمائی۔

اگر اس کلام کو ظاہر پر رکھو تو حضرت علیؓ کا بھی پہلے گمراہ ہونا اور قلبی بصیرت سے محروم ہونا لازم آئے گا، حالانکہ نہ شیعہ اس کے قائل ہیں اور نہ ہی ہم اس کے معتقد ہیں۔ اسی طرح حضرت صدیق اکبرؓ کے حق میں بھی دوسرے دلائل کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہی تاویل متعین ہوگی ورنہ خطاب عام ہونے کی صورت میں خود حضرت علیؓ بھی اس میں داخل ہوں گے اور شرک خفی کا آپ میں بھی سرایت کرنا لازم آئے گا اور اس کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ اس مضمون کو دوسری روایت میں الشرک فی ھذہ الامۃ اخفی من دبیب النملسے تعبیر کیا گیا ہے ۔ (مفردات راغب: صفحہ 260)

اور امت میں حضرت علی، حضرت ابو ذر، حضرت مقداد اور حضرت سلمان رضی اللہ عنہم اجمعین بھی داخل ہیں۔ حالانکہ وہ اس سے مبرا و منزہ ہیں اور خطاب چونکہ امت کے متعلق ہے لہٰذا قیامت تک پیدا ہونے والے لوگوں میں سے کوئی بھی اس شرک خفی میں مبتلا ہو تو آپ کا فرمان بھی صادق ہو جائے گا لیکن صدر اول اور مہاجرین و انصار اور علی الخصوص بدری صحابی ہی اس کا نشانہ بنانے کیوں ضروری ہیں؟ کیا صرف اس لیے کہ ابنِ سباء کی قوم اور مجوسیوں کو ان سے تکلیف پہنچی؟

لمحہ فکریہ:

صفحہ 1 از 3