حضرت ابوبکر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ…

حضرت ابوبکر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے دل میں شرک چیونٹی سے بھی زیادہ مخفی ہے۔

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 3

وعدہ خلافت ہو تو پھر خطاب کی ضمیر ہونے کے باوجود مصداق حضرت مہدی علیہ السلام بن جائیں گے جیسے کہ تفسیر صافی وغیرہ میں زیر آیت وعداللہ الذین آمنوا منکم وعملو الصالحات لیستخلفنھم(الآیہ) لکھا ہے کہ اس سے مراد حضرت مہدی علیہ السلام کی امامت و خلافت کا وعدہ ہے اور اگر ریاکاری اور شرک خفی کے بیان میں ضمیر خطاب وارد ہو تو پھر صرف ابوبکر صدیقؓ کی ذات مراد ہوگی۔

کیا یہ انصاف کا تقاضا ہے یا علم تحقیقی اور شان اجتہادی کا کہ کہیں تو ضمیر خطاب سے ڈیڑھ ہزار سال بعد والے یا اس سے بھی متاخر لوگ مراد ہوں اور کہیں صرف نبی اکرمﷺ کے تربیت یافتہ اور قریبی صحابی مراد ہوں، جو مہاجرین اولین میں سے ہوں اور مجاہدین بدر و احد، خندق و خیبر اور غازیان تبوک میں سے، جن کا اخلاص بیسیوں آیات، سینکڑوں احادیث اور ارشادات ائمہ سے مہر نیمروز کی طرح واضح اور عیاں ہو، بریں عقل و دانش بباید گریست۔

3: خود حضرت علیؓ نے حضرت ابو بکر صدیقؓ اور حضرت عمرؓ کے اخلاص کی گواہی دیتے ہوئے فرمایا:

کان افضلھم فی الاسلام کما زعمت وانصحھم اللہ ولرسولہ الخلیفۃ الصدیق وخلیفۃ الخلیفۃ الفاروق ولعمری ان مکانھما فی السلام لعظیم و ان المصاب بھما لجرح فی الاسلام شدید ۔۔الخ

(شرح ابن میثم بحرانی: جلد 3 صفحہ 488)

یعنی ان سب مہاجرین میں سے افضل جیسے کہ تیرا قول اور نظریہ ہے اور سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ اور رسول اکرمﷺ کے لیے خلوص رکھنے والے خلیفہ رسول ابوبکر صدیقؓ ہیں اور ان کے خلیفہ عمر فاروقؓ اور مجھے اپنی حیات کے خالق کی قسم، ان کا مرتبہ اسلام میں بہت بڑا ہے اور ان کا دنیا سے رخصت ہونا اسلام کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان اور نہ مندمل ہونے والا زخم ہے۔

ایک طرف قرآن مجید ان کے اخلاص کی گواہی دے اور دوسری طرف سرور عالمﷺ ان کے فضائل و مناقب بیان کریں اور خود علی مرتضیٰؓ ان کو سب سے زیادہ افضل اور مخلص اللہ و رسول قرار دیں اور ان کی جدائی کو اسلام کے قلب و جگر کا نہ مندمل ہونے والا زخم قرار دیں۔

اللہ تعالیٰ اور رسول گرامیﷺ اور معدن ولایت علی مرتضیؓ سے بڑھ کر کون زیادہ حکیم ہے کہ اس نے تو مرض قلب کی تشخیص کر لی، لیکن ان حضرات کو کچھ پتہ نہ چل سکا۔ نعوذباللہ من ذلک۔

4: علاوہ ازیں شرک خفی نام ہے ریاکاری کا اور کبھی اس کی طرف توجہ نہیں دی جاتی اور وہ اندر ہی اندر ترقی کرتا رہتا ہے۔ لہٰذا طبیب روحانی نے زیر تربیت اپنے غلاموں کو اس کی اہمیت جتلانے کے لیے فرمایا کہ ریاء چیونٹی کی چال میں غیر محسوس طریقہ پر انسان میں سرایت کرتا رہتا ہے لہٰذا اس سے ہوشیار اور چوکس رہنے کی ضرورت ہے اور دل کی پاسبانی اور نگرانی کی ضرورت ہے۔ لہٰذا یہ تربیت اخلاق اور اعلیٰ ترین اوصاف کے ساتھ متصف ہونے کی ترغیب ہے نہ کہ مرض قلب کا اثبات اور اس کے لاعلاج ہونے کا بیان۔ نعوذباللہ من ذلک۔

وہی روایت جس کا ایک جملہ اہل رفض و ضلال نے مفید مطلب سمجھ کر لکھ دیا، خود اسی روایت سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہے۔ آپ نے فرمایا:

الا ادلک علی شی اذا قلتہ ذھب قلیلہ و کثیرہ۔ 

کیا میں تجھے ایسا وظیفہ نہ بتلاؤں کہ جب تو اسے پڑھے تو قلیل و کثیر ہر طرح کا شرک دور ہو جائے؟

قل اللھم انی اعوذبک ان اشرک بک وانا اعلم و استغفرک لمالا اعلم 

(تفسیر درمنثور: جلد 4 صفحہ 54)

اس طرح کہا کرو اے اللہ میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں اس کی کہ تیرے ساتھ شریک کروں دیدہ دانستہ اور میں تجھ سے استغفار کرتا ہوں اور بخشش طلب کرتا ہوں اس کی جو میں نہیں جانتا۔

تو کس قدر مطلب اور مفہوم واضح ہے کہ طبیب روحانی اپنے مخلص غلام کو تربیت دے رہا ہے اور امکانی صورت کا تدارک بتلا رہا ہے۔ لہٰذا اس صورت میں حضرت صدیق اکبرؓ پر اعتراض کا کیا جواز ہے؟ اور اگر حضرت صدیق اکبرؓ کے دل میں شرک تھا تو ان سے قریبی مراسم قائم کرنا اور برادرانہ روابط روا رکھنا کیا قرآن مجید کے اس ارشاد کی کھلی خلاف ورزی نہیں ہوگی؟

یاایھا النبی جاھد الکفار والمنافقین واغلظ علیھم (سورۃ التوبہ آیت 73)

یعنی اے نبیﷺ! کفار و منافقین کے ساتھ جہاد کرو اور ان پر سختی کرو۔

اور اسی طرح فرمان باری تعالیٰ کی بھی:

"ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار"

ظالموں کی طرف ادنیٰ میلان اور معمولی رغبت بھی نہ رکھو ورنہ تمہیں دوزخ کی آگ اپنی لپیٹ میں لے لے گی،

اور کون سا مسلمان ہے جو نبی اکرمﷺ کے حق میں اس خلاف ورزی کو روا رکھے؟

 اہل رفض و ضلال نے لفظ شرک مطلق لکھ کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ یہاں شرک جلی اور شرک اکبر مراد ہے۔ حالانکہ یہ قطعاً غلط ہے۔ اس میں چیونٹی کی چال کی طرح چلنے کا کیا مطلب؟ بلکہ یہاں ریا مراد ہے جیسے کہ سرور عالمﷺ کا ارشاد ہے۔

ان یسیر الریاء الشرک

معمولی سی ریاکاری بھی شرک ہے۔

اور ریا کا صدور انسان کو کافر و مشرک شرعی نہیں بناتا لہٰذایہاں بھی ڈنڈی ماری گئی ہے۔ خود اسی روایت میں یہ تصریح ہے کہ ابوبکر صدیقؓ نے عرض کیا:

ھل الشرک الامن جعل مع اللہ الھا آخر

اور دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے عرض کیا:

ھل الشرک الاماعبد من دون اللہ اوما دعی مع اللہ

یعنی کیا شرک تو صرف یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو الہٰ اور معبود مانا جائے اور ہم تو آپ کے غلام ہیں اور توحیدر و رسالت کے عقیدہ پر کاربند ہیں تو آپ نے فرمایا نہیں، وہ چیونٹی کی طرح سرایت کرنے والا بھی ہوتا ہے اور وظیفہ بتلاتے ہوئے اس کا اثر بھی یہی بتلایا کہ اس سے قلیل اور کثیر ہر دو شرک دور ہو جائیں گ ۔ حالانکہ شرک جلی تو قلیل نہیں ہو سکتا وہ تو "ان الشرک لظلم عظیم" کا مصداق ہے اور کثیر و عظیم ہی ہے۔ اس صورت میں بھی ڈھکو صاحب کی تشخیص غلط ہو گئی اور اس کی دھاندلی واضح ہو گئی۔ کیونکہ شرک جلی منافی ایمان ہے، شرک خفی تو ایمان کے منافی نہیں، البتہ کمال صدیقی کے منافی ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو قرآن مجید میں الاتقی فرمایا ہے:

سیجنبھا الاتقی الذی یوتی مالہ یتزکیٰ

دوزخ کی دہکتی آگ سے وہ شخص ضرور دور رکھا جائے گا جو زیادہ پرہیز گار ہے جو کہ مال کو تزکیہ قلب کے حصول کے لیے راہ خدا میں دیتا ہے۔

اس آیت کریمہ کے تحت ابو علی طبرسی نے مجمع البیان میں کہا کہ اس سے مراد ابوبکر ہیں:

صفحہ 2 از 3