امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا اہتمام
علی محمد الصلابیامر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا اہتمام
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ عید کے دنوں میں ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لائے، دیکھا ان کے پاس انصار کی دو بچیاں نغمے گا رہی ہیں، فرمایا کیا شیطان کی بانسری رسول اللہﷺ کے گھر میں؟ اور رسول اللہﷺ اپنا چہرہ مبارک ان دونوں سے پھیر کر دیوار کی طرف رخ کیے ہوئے لیٹے تھے۔
آپﷺ نے فرمایا:
دعہما یا ابابکر فان لکل قوم عیدا وہذا عیدنا اہل الاسلام۔
ترجمہ: اے ابوبکرؓ ان دونوں کو چھوڑ دو، ہر قوم کی عید ہوتی ہے اور یہ ہم اہلِ اسلام کی عید ہے۔
(مسلم: صلاۃ العیدین، صفحہ، 892)
اس حدیث سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ یہ رسول اللہﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عادت اور طریقہ کے منافی تھا، اسی لیے سیدنا صدیقِ رضی اللہ عنہ نے اسے شیطان کی بانسری قرار دیا اور رسول اللہﷺ نے ان بچیوں کے اس عمل کی علت، عید کو قرار دیا اور بچوں کو عید کے موقع پر لہو و لعب کی رخصت ہے۔
جیسا کہ حدیث میں آیا ہے:
لیعلم المشرکون أنَّ فی دیننا فسحۃ۔
ترجمہ: تاکہ مشرکین کو معلوم ہو جائے کہ ہمارے دین میں وسعت ہے۔
(مجموع الفتاوی: جلد، 11 صفحہ، 308 مسند احمد: جلد، 6 صفحہ، 233 عن عائشہ رضی اللہ عنہا)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نو عمر ہونے کی وجہ سے کھلونوں سے کھیلا کرتی تھیں اور آپؓ کے ساتھ آپ کی سہیلیاں بھی شرکت کرتی تھیں۔
اس حدیث میں یہ وارد نہیں کہ رسول اللہﷺ ان کے نغمے کو کان لگا کر سن رہے تھے۔ (اگر یہ آپ کو پسندیدہ ہوتا تو رخ انور اس طرف سے نہ پھیرتے بلکہ متوجہ ہو کر سنتے) اور امر و نہی کا تعلق استماع یعنی متوجہ ہو کر سننے سے ہے نہ کہ محض سماع سے۔
(مجموع الفتاوی: جلد، 30 صفحہ، 118)
اس سے یہ بات ہم سمجھ سکتے ہیں کہ عید کے موقع پر جو بچے کھیلنے کی عمر میں ہیں ان کو کھیل کود کی رخصت ہے۔ جیسا کہ انصار کی دونوں چھوٹی بچیاں ام المؤمنینؓ کے گھر میں نغمے گا رہی تھیں۔
(مجموع الفتاوی: جلد، 30 صفحہ، 118)