سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور قرآن - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور قرآن

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور قرآن

جس تربیتی منہج پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے تربیت پائی وہ رب العالمین کی جانب سے نازل شدہ قرآن کریم تھا۔ یہی تعلیم و تربیت کا واحد مصدر تھا اسی لیے رسول اللہﷺ نے جہاں ایک طرف مصدر تعلیم و تربیت کی توحید و تفرید کا اہتمام فرمایا وہیں دوسری طرف اس بات کا اہتمام فرمایا کہ قرآن کریم ہی وہ منہج ہو جس پر مسلم فرد و خاندان اور جماعت کی تربیت ہو۔ چنانچہ وہ آیات کریمہ جنہیں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہﷺ سے سنا اس کا آپؓ کی شخصیت سازی اور آپؓ کے قلب و نفس کی تطہیر و تزکیہ میں اثر رہا، آپؓ کی روح اس کے ساتھ اس طرح گھل مل گئی کہ آپؓ شعور و اہداف اور سلوک و افکار میں ایک جدید انسان بن کر اٹھے۔

(السیرۃ النبویۃ، الصلابی: جلد، 1 صفحہ، 145)

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے قرآن کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط کیا۔ چنانچہ سیدنا ابو عبدالرحمٰن السلمیؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کس طرح رسول اللہﷺ سے قرآن سیکھا تھا۔ آپؓ کے ایسے اقوال ہیں جو قرآن کے ساتھ والہانہ محبت پر دلالت کرتے ہیں۔ سیدنا ابوعبدالرحمٰن السلمیؓ سے روایت ہے: ہمیں جو لوگ قرآن پڑھاتے تھے جیسے سیدنا عثمان بن عفان اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما وغیرہم یہ حضرات جب رسول اللہﷺ سے دس آیات سیکھ لیتے تو اس وقت تک آگے نہیں بڑھتے تھے جب تک ان میں جو علم و عمل ہے اس کو سیکھ نہ لیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم نے قرآن اور علم و عمل سب ایک ساتھ سیکھا ہے اسی لیے سورت کو حفظ کرنے میں ایک مدت لگ جاتی تھی۔ (الفتاویٰ: جلد، 13 صفحہ، 177)

اور یہ طرزِ عمل اس لیے اختیار کیا گیا تھا کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: 

كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ (سورة ص: آیت 29)

ترجمہ: ’’یہ بابرکت کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف اس لیے نازل فرمایا ہے کہ لوگ اس کی آیات پر غور و فکر کریں اور عقل مند اس سے نصیحت حاصل کریں۔‘‘

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہﷺ سے آپﷺ کا یہ ارشاد روایت کیا ہے:

خیر کم من تعلم القرآن وعلمہ

(صحیح البخاری: فضائل القرآن: صفحہ، 5027)

ترجمہ: ’’تم میں سب سے بہتر وہ ہیں جو قرآن سیکھیں اور قرآن سکھائیں۔‘‘

آپؓ نے قرآن کریم کو مکمل رسول اللہﷺ سے پڑھا، آپؓ کے مشہور تلامذہ میں سے سیدنا ابو عبدالرحمٰن السلمی، مغیرہ بن ابی شہاب، ابوالاسود، زر بن حبیش ہیں۔

(تاریخ الاسلام، عہدِ الخلفاء الراشدین، الذہبی: صفحہ، 467)

تاریخ نے قرآن کریم سے متعلق سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے بعض اقوال کو محفوظ کر رکھا ہے، مثال کے طور پر آپؓ فرماتے ہیں: 

اگر ہمارے دل پاک ہوں تو اللہ کے کلام سے آسودہ نہیں ہو سکتے۔

(الفتاوی: جلد، 11 صفحہ، 122 البدایۃ والنہایۃ: جلد، 7 صفحہ، 225)

یقیناً میں اس بات کو ناپسند کرتا ہوں کہ کوئی یوں ہی دن گزر جائے اور میں قرآن کریم کو نہ دیکھوں۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد، 7 صفحہ، 225 فرائد الکلام: صفحہ، 275)

مجھے دنیا کی تین چیزیں محبوب ہیں: بھوکوں کو آسودہ کرنا، ننگوں کو کپڑے پہنانا اور قرآن کی تلاوت کرنا۔

(ارشاد العباد الاستعداد لیوم المعاد: صفحہ، 88)

چہار چیزیں ظاہر میں فضیلت ہیں لیکن باطن میں فریضہ ہیں۔ صالحین کی صحبت فضیلت ہے اور ان کی اقتداء فریضہ ہے۔ تلاوتِ قرآن فضیلت ہے اور اس پر عمل پیرا ہونا فریضہ ہے۔ زیارتِ قبر فضیلت ہے اور موت کی تیاری فریضہ ہے۔ مریض کی عیادت فضیلت ہے اور اس سے نصیحت حاصل کرنا فریضہ ہے۔

(ارشاد العباد للإستعاد لیوم المعاد: صفحہ، 90 فرائد الکلام: صفحہ، 278)

سب سے زیادہ ضائع ہونے والی دس چیزیں ہیں:

1: عالم جس سے سوال نہ کیا جائے۔

2: علم جس پر علم نہ کیا جائے۔

3: صحیح رائے جسے قبول نہ کیا جائے۔

4: اسلحہ جسے استعمال نہ کیا جائے۔

5: مسجد جس میں نماز نہ ادا کی جائے۔

6: مصحف جس کو پڑھا نہ جائے۔

7: مال جس میں سے خرچ نہ کیا جائے۔

8: گھوڑا جس پر سواری نہ کی جائے۔

9: زہد کا علم اس شخص کے اندر جو دنیا دار ہو۔

10: طویل عمر جس میں انسان سفر آخرت کی تیاری نہ کرے۔

(ارشاد العباد للإستعداد لیوم المعاد: صفحہ، 91 فرائد الکلام: صفحہ، 778)

آپؓ قرآن کے حافظ تھے، آپؓ کی گود قرآن سے خالی نہیں رہتی تھی، اس سلسلہ میں آپؓ سے دریافت کیا گیا تو فرمایا یہ بابرکت کتاب ہے اور بابرکت ذات کی طرف سے آئی ہے۔

(البیان والتبیان فی مقتل الشہید عثمان: جلد، 3 صفحہ، 177 فرائد الکلام: صفحہ، 273)

کثرتِ تلاوت سے آپؓ کا مصحف آپ کی وفات سے قبل پھٹ چکا تھا۔ اور آپ کی زوجہ محترمہ نے محاصرہ کے دن بلوائیوں سے کہا تھا: خواہ انہیں قتل کر دو یا چھوڑ دو اللہ کی قسم یہ تورات کو ایک رکعت میں قرآن کے ذریعہ سے زندہ کرتے ہیں۔ (البدایۃ والنہایۃ: جلد، 7 صفحہ، 225)

یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ ایک رات ایک رکعت میں قرآن پڑھ لیا اور رکعتیں نہ پڑھیں۔

(الخلافۃ الراشدۃ والدولۃ الامویۃ: صفحہ، 397 ایک رکعت میں پورا قرآن پڑھنے کے سلسلہ میں جو روایات بیان کی جاتی ہیں وہ غلو سے خالی نہیں ہیں۔ ایسی روایات صحیح نہیں ہیں، اور پھر رسول اللہﷺ نے تین دن سے کم میں قرآن ختم کرنے سے منع فرمایا لہٰذا سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی امرِ رسولﷺ کی مخالفت نہیں کر سکتے۔ (مترجم)

آپؓ کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد صادق آتا ہے:

أَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ آنَاءَ اللَّيْلِ سَاجِدًا وَقَائِمًا يَحْذَرُ الْآخِرَةَ وَيَرْجُو رَحْمَةَ رَبِّهِ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُو الْأَلْبَابِ (سورة الزمر: آیت، 9)

ترجمہ: ’’بھلا جو شخص راتوں کے اوقات سجدے اور قیام کی حالت میں (عبادت میں) گزارتا ہو، آخرت سے ڈرتا ہو اور اپنے رب کی رحمت کی امید رکھتا ہو (اور جو اس کے برعکس ہو برابر ہو سکتے ہیں؟) بتاؤ تو علم والے اور بے علم کیا برابر کے ہیں؟ یقیناً نصیحت وہی حاصل کرتے ہیں جو عقل مند ہوں (اپنے رب کی طرف سے)۔‘‘

صفحہ 1 از 3