سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور قرآن - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور قرآن

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے قرآن کو اپنے اندر جذب کر لیا تھا، اور رسول اللہﷺ کی شاگردی اختیار کر کے قرآن کریم سے یہ معرفت حاصل کر لی تھی کہ الٰہ واحد کون ہے جس کی عبادت ضروری ہے۔ اور نبی کریمﷺ نے ان کے نفس میں ان عظیم آیات کے معانی کو جاگزیں کر دیا تھا۔ نبی کریمﷺ اس بات کے انتہائی حریص تھے کہ خالق کائنات اور اس کے حقوق کے صحیح تصور پر اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کی تربیت کریں۔ اور آپ کو یہ بخوبی معلوم تھا کہ یہ تصور، جس وقت نفوس پاک ہوں گے اور فطرت سیدھی ہو گی تصدیق و یقین پیدا کرے گا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ، کائنات، جنت و جہنم، قضاء و قدر، انسان کی حقیقت اور شیطان کے ساتھ انسان کی جنگ سے متعلق سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا نظریہ قرآن و سنت سے ماخوذ تھا۔

اللہ تعالیٰ ہر طرح کے نقائص و عیوب سے منزہ ہے، اور لامتناہی کمالات سے موصوف ہے، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور نہ اس کے بیوی اور بچے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے توعبد اور عبودیت کے مضمون کو اچھی طرح قرآن میں بیان کر دیا ہے۔ 

(منہج الرسول فی غرس الروح الجہادیۃ: جلد، 10 صفحہ، 16)

اور کائنات سے متعلق آپ کا نظریہ ان ارشادات الٰہیہ سے ماخوذ تھا:

قُلْ أَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِی خَلَقَ الْأَرْضَ فِی يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُونَ لَهُ أَنْدَادًا ذَلِكَ رَبُّ الْعَالَمِينَ (9) وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِیَ مِنْ فَوْقِهَا وَبَارَكَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِی أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَاءً لِلسَّائِلِينَ (10) ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ وَهِیَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلْأَرْضِ ائْتِيَا طَوْعًا أَوْ كَرْهًا قَالَتَا أَتَيْنَا طَائِعِينَ (11) فَقَضَاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ فِی يَوْمَيْنِ وَأَوْحَى فِی كُلِّ سَمَاءٍ أَمْرَهَا وَزَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَحِفْظًا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ (12) (سورة حٰم السجدہ: آیت، 9۔ 12)

ترجمہ: ’’آپ کہہ دیجیے کہ کیا تم اس (اللہ) کا انکار کرتے ہو اور تم اس کے شریک مقرر کرتے ہو جس نے دو دن میں زمین پیدا کر دی سارے جہانوں کا پروردگار وہی ہے۔ اور اس نے زمین میں اس کے اوپر سے پہاڑ گاڑ دیے اور اس میں برکت رکھ دی، اور اس میں (رہنے والوں کی) غذاؤں کی تجویز بھی اسی میں کر دی (صرف) چار دن میں ضرورت مندوں کے لیے یکساں طور پر۔ پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں (سا) تھا پس اسے اور زمین سے فرمایا کہ تم دونوں خوشی سے آؤ یا ناخوشی سے، دونوں نے عرض کیا ہم بخوشی حاضر ہیں، پس دو دن میں سات آسمان بنا دیے اور ہر آسمان میں اس کے مناسب احکام کی وحی بھیج دی اور ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں سے زینت دی اور نگہبانی کی۔ یہ تدبیر اللہ غالب اور دانا کی ہے۔‘‘

یہ زندگی کتنی ہی طویل ہو زوال پذیر ہے اور اس کا ساز و سامان کتنا ہی زیادہ کیوں نہ ہو قلیل اور حقیر ہے۔

ارشاد الہٰی ہے:

إِنَّمَا مَثَلُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا كَمَاءٍ أَنْزَلْنَاهُ مِنَ السَّمَاءِ فَاخْتَلَطَ بِهِ نَبَاتُ الْأَرْضِ مِمَّا يَأْكُلُ النَّاسُ وَالْأَنْعَامُ حَتَّى إِذَا أَخَذَتِ الْأَرْضُ زُخْرُفَهَا وَازَّيَّنَتْ وَظَنَّ أَهْلُهَا أَنَّهُمْ قَادِرُونَ عَلَيْهَا أَتَاهَا أَمْرُنَا لَيْلًا أَوْ نَهَارًا فَجَعَلْنَاهَا حَصِيدًا كَأَنْ لَمْ تَغْنَ بِالْأَمْسِ كَذَلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ (سورة یونس:آءت، 24)

ترجمہ: ’’پس دنیاوی زندگی کی حالت تو ایسی ہے جیسے ہم نے آسمان سے پانی برسایا پھر اس سے زمین کی نباتات جن کو آدمی اور چوپائے کھاتے ہیں خوب گنجان ہو کر نکلی، یہاں تک کہ جب وہ زمین اپنی رونق کا پورا حصہ لے چکی اور اس کی خوب زیبائش ہو گئی اور اس کے مالکوں نے سمجھ لیا کہ اب ہم اس پر بالکل قابض ہو چکے تو دن میں یا رات میں اس پر ہماری طرف سے کوئی حکم (عذاب) آ پڑا سو ہم نے اس کو ایسا صاف کر دیا کہ گویا کل وہ موجود ہی نہ تھی ہم اسی طرح آیات کو صاف صاف بیان کرتے ہیں ایسے لوگوں کے لیے جو سوچتے ہیں۔‘‘

اور جنت سے متعلق آپ کا نظریہ آیات قرآنیہ سے مستفاد تھا۔ یہی تصور شریعتِ الٰہی سے انحراف کو روکنے کا سبب بنا، چنانچہ سیرتِ عثمانی کا مطالعہ کرنے والے کو آپ کی سیرت میں اللہ تعالیٰ کے حضور پیشی کے فہم میں گہرا استیعاب اور عذابِ الٰہی کا شدید خوف نمایاں نظر آئے گا۔ آئندہ صفحات میں ان شاء اللہ یہ تفصیلات ہم ملاحظہ کریں گے۔قضاء و قدر کے مفہوم کو کتاب اللہ اور تعلیمِ نبوی سے حاصل کیا تھا آپ کے دل میں قضاء و قدر کا مفہوم راسخ ہو چکا تھا اور کتاب میں اس کے مراتب کا استیعاب کر رکھا تھا۔ انہیں اس بات کا پختہ یقین تھا کہ اللہ کا علم ہر چیز کو محیط ہے۔

ارشاد الہٰی ہے:

وَمَا تَكُونُ فِی شَأْنٍ وَمَا تَتْلُو مِنْهُ مِنْ قُرْآنٍ وَلَا تَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ إِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُودًا إِذْ تُفِيضُونَ فِيهِ وَمَا يَعْزُبُ عَنْ رَبِّكَ مِنْ مِثْقَالِ ذَرَّةٍ فِی الْأَرْضِ وَلَا فِی السَّمَاءِ وَلَا أَصْغَرَ مِنْ ذَلِكَ وَلَا أَكْبَرَ إِلَّا فِی كِتَابٍ مُبِينٍ (سورة یونس: آیت، 61)

ترجمہ: ’’اور آپ کسی حال میں ہوں اور من جملہ ان احوال کے آپ کہیں سے قرآن پڑھتے ہوں اور جو کام بھی کرتے ہوں ہم کو سب کی خبر رہتی ہے جب تم اس کام میں مشغول ہوتے ہو۔ اور آپ کے رب سے کوئی چیز ذرہ برابر بھی غائب نہیں، نہ زمین میں اور نہ آسمان میں اور نہ کوئی چیز اس سے چھوٹی اور نہ کوئی چیز بڑی مگر یہ سب کتاب مبین میں ہے۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے ہر ہونے والی چیز کو لکھ رکھا ہے۔ ارشاد الہٰی ہے:

إِنَّا نَحْنُ نُحْیِ الْمَوْتَى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَآثَارَهُمْ وَكُلَّ شَیْءٍ أَحْصَيْنَاهُ فِی إِمَامٍ مُبِينٍ (سورة یٰس: آیت، 12)

ترجمہ: ’’بے شک ہم مردوں کو زندہ کریں گے اور ہم لکھتے جاتے ہیں وہ اعمال بھی جن کو لوگ آگے بھیجتے ہیں اور ان کے وہ اعمال بھی جن کو پیچھے چھوڑ جاتے ہیں اور ہم نے ہر چیز کو ایک واضح کتاب میں ضبط کر رکھا ہے۔‘‘

اللہ کی مشیت نافذ ہو کر رہتی ہے اور اس کی قدرت نام ہے۔

صفحہ 2 از 3