سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور قرآن - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور قرآن

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3

ارشاد الہٰی ہے:

أَوَلَمْ يَسِيرُوا فِی الْأَرْضِ فَيَنْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَكَانُوا أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُعْجِزَهُ مِنْ شَیْءٍ فِی السَّمَاوَاتِ وَلَا فِی الْأَرْضِ إِنَّهُ كَانَ عَلِيمًا قَدِيرًا (سورة فاطر: آیت، 44)

ترجمہ: ’’اور کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں جس میں دیکھتے بھالتے کہ جو لوگ ان سے پہلے ہو گزرے ہیں ان کا انجام کیا ہوا؟ حالاں کہ وہ قوت میں ان سے بڑھے ہوئے تھے اور اللہ ایسا نہیں ہے کہ کوئی چیز اس کو عاجز کر دے، نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں، وہ بڑے علم والا بڑی قدرت والا ہے۔‘‘

اللہ تعالیٰ ہر چیز کا خالق ہے۔ ارشاد الہٰی ہے:

ذَلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ فَاعْبُدُوهُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَیْءٍ وَكِيلٌ (سورة الانعام: آیت، 102)

ترجمہ: ’’یہ ہے اللہ تعالیٰ تمہارا رب، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے، تو تم اس کی عبادت کرو اور وہ ہر چیز کا کارساز ہے۔‘‘

حقیقت میں قضاء و قدر کے فہم صحیح اور اعتقاد راسخ کے نافع اور مفید ثمرات آپؓ کی زندگی میں ظاہر ہوئے جس کا ہم اس کتاب میں مشاہدہ کریں گے۔ 

قرآن کریم کی روشنی میں آپ نے اپنی اور بنی نوع انسان کی حقیقت کو اچھی طرح پہچان لیا اور یہ حقیقت آشکارا ہو گئی کہ انسان کی تخلیق کی حقیقت دو اصلوں سے وابستہ ہے: ایک اصل بعید یعنی مٹی سے پہلی پیدائش جس وقت اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کا ناک و نقشہ درست کیا، اور اس میں روح پھونکی اور دوسری اصل: نطفے سے انسان کی تخلیق۔ارشاد الہٰی ہے:

الَّذِی أَحْسَنَ كُلَّ شَیْءٍ خَلَقَهُ وَبَدَأَ خَلْقَ الْإِنْسَانِ مِنْ طِينٍ ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهُ مِنْ سُلَالَةٍ مِنْ مَاءٍ مَهِينٍ ثُمَّ سَوَّاهُ وَنَفَخَ فِيهِ مِنْ رُوحِهِ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ قَلِيلًا مَا تَشْكُرُونَ (سورة السجدہ: آیت، 7۔ 9)

ترجمہ: ’’جس نے نہایت خوب بنائی جو چیز بھی بنائی اور انسان کی بناوٹ مٹی سے شروع کی، پھر اس کی نسل ایک بے وقعت پانی کے نچوڑ سے چلائی۔ جسے ٹھیک ٹھاک کر کے اس میں اپنی روح پھونکی اسی نے تمہارے کان، آنکھیں اور دل بنائے (اس پر بھی) تم بہت ہی تھوڑا احسان مانتے ہو۔‘‘

آپؓ کو یہ معرفت اچھی طرح حاصل تھی کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنے ہاتھ سے بنایا اور اچھی شکل و صورت اور معتدل قامت سے اسے شرف بخشا، عقل، گویائی اور تمیز عطا فرمائی، اور زمین و آسمان کی تمام اشیاء کو اس کے لیے مسخر کیا، اور بہت سی مخلوقات پر اس کو فضیلت بخشی اور رسولوں کو بھیج کر اسے شرف بخشا۔ اور انسان کی تکریم الٰہی کا حسین ترین مظہر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی محبت و رضا کا اہل قرار دیا اور یہ نبی کریمﷺ کی اتباع سے حاصل ہو گا جس نے لوگوں کو اسلام کی دعوت دی تاکہ دنیا میں بہترین زندگی گزاریں اور آخرت کی نعمتوں سے ہمکنار ہوں۔

ارشاد الہٰی ہے:

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (سورة النحل: آیت، 97)

ترجمہ: ’’جو شخص نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت لیکن با ایمان ہو تو ہم اسے یقیناً نہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے اور ان کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی انہیں ضرور دیں گے۔‘‘

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے قرآن کریم کی روشنی میں انسان و شیطان کے مابین جنگ کو اچھی طرح سمجھ لیا تھا کہ یہ دشمن انسان کے پاس آگے پیچھے دائیں بائیں ہر چہار جانب سے آتا ہے، اور معصیت کے وسوسے پیدا کرتا ہے، اور اس کے اندر پوشیدہ شہوتوں کو برانگیختہ کرتا ہے۔ اس لیے آپ نے اپنے دشمن ابلیس کے خلاف اللہ رب العزت سے مدد طلب کی اور اپنی زندگی میں اس پر غالب رہے اور قرآن کریم میں مذکور حضرت آدم علیہ السلام اور ابلیس کے قصہ سے یہ سیکھا کہ حضرت آدم علیہ السلام بشریت کی اصل ہیں اور اسلام کا جوہر اللہ کی اطاعت مطلقہ ہے اور انسانی طبیعت میں گناہ کے وقوع کی صلاحیت ہے۔ اسی طرح آپؓ نے حضرت آدم علیہ السلام کی غلطی سے یہ سیکھا کہ انسان کے لیے اللہ پر توکل کی ضرورت ہے اور مومن کی زندگی میں توبہ و استغفار کی بڑی اہمیت ہے، حسد و کبر سے احتراز کی ضرورت، صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ اچھے طرزِ تخاطب کی اہمیت کو سیکھا۔

ارشاد الہٰی ہے:

وَقُلْ لِعِبَادِی يَقُولُوا الَّتِی هِیَ أَحْسَنُ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْزَغُ بَيْنَهُمْ إِنَّ الشَّيْطَانَ كَانَ لِلْإِنْسَانِ عَدُوًّا مُبِينًا (53) (سورة الاسراء: آیت، 53)

ترجمہ: ’’اور میرے بندوں سے کہہ دیجیے کہ وہ بہت ہی اچھی بات منہ سے نکالا کریں کیوں کہ شیطان آپس میں فساد ڈلواتا ہے بے شک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو اسلام سے مکرم کیا تو آپؓ نے اس کے مطابق زندگی گزاری اور اس کی نشر و اشاعت کے لیے جہاد کیا، کتاب اللہ اور سنتِ رسول اللہﷺ سے اس کے اصول و فروع اخذ کیے۔ اور ان ائمہ ہدیٰ میں سے قرار پائے جو لوگوں کے لیے راستہ متعین کرتے ہیں اور لوگ اس زندگی میں ان کے اقوال و افعال کو نمونہ بناتے ہیں مزید ہم نہیں بھول سکتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کاتبین وحی میں سے تھے۔

(السیاسۃ المالیۃ لعثمان: صفحہ، 22 التبیین فی انساب القرشیین: صفحہ، 94)


صفحہ 3 از 3