آیت استخلاف اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ قسط 1 - ردِ رافضیت |…

آیت استخلاف اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ قسط 1

  علامہ علی شیر رحمانی

صفحہ 2 از 3

خلفاء راشدین کے مخالفین کی طرف سے عموماً ایک فضول اعتراض کیا جاتا ہے کہ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالی کی طرف سے خلیفہ بنانے کا وعدہ ہے جبکہ حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمر فاروقؓ ، حضرت عثمان ذوالنورینؓ اور حضرت علی المرتضیٰ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اللہ تعالی نے نہیں بلکہ لوگوں نے خلیفہ بنایا تھا۔ اس لیے وہ اس آیت کے مصداق نہیں بن سکتے ۔


جواب:

اس فضول اعتراض کا جواب ہم اپنی طرف سے نہیں دیتے بلکہ شیعہ مذہب کی معتبر ترین کتاب نہج البلاغہ کے صفحہ ۴۵۰ پر خود حضرت علی المرتضیؓ  کے مذکورہ خطبے میں موجود ہے کہ حضرت فاروق اعظمؓ  کا سپاہ اللہ کا لشکر ہے اور یہ خلافت موعود من اللہ ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ’’مافوق الاسباب ‘‘ اللہ تعالی کے ارادے اور اس  کی مشیت سے اس کے وعدے کے مطابق چاروں خلفائے راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین کی خلافت قائم ہوئی باقی ’’ماتحت الاسباب ‘‘ان کو لوگوں نے بھی اپنا امام بناکر ان کی قیادت تسلیم کر لی، یہ بھی خود اللہ تعالی کی مشیت سے ہی تھا کہ ان کی مشاورت سے خلیفہ مقرر ہونے کی وجہ سے ان کا آپس میں کوئی اختلاف باقی نہ رہے۔ ہماری اس وضاحت کی تائید اس ”نہج البلاغہ” میں خود علی المرتضیؓ کے مکتوبات میں سے اس مکتوب میں موجود ہے جو انہوں نے حضرت امیر معاویہ کی طرف لکھا تھا:

’’انہ بایعنی القوم الذين بايعوا أبابکر و عمر و عثمان علی ما بایعوهم علیہ ، فلم يكن للشاهد ان يختار ولا للغائب ان يرد، وانما الشوري للمهاجرين و الانصار فان اجتمعوا على رجل و سموه اماماكان ذالك الله رضی‘‘۔

تحقیق میری بیعت ان ہی لوگوں نے کی ہے جن لوگوں نے ابو بکرؓ ، عمرؓ اور عثمانؓ کی بیعت کی تھی اور انہی اصولوں پر کی ہے جن پر ان کی بیعت کی تھی۔ پس نہ تو موجود کو کسی نئے چناؤ کا اختیار ہے اور نہ ہی غیر حاضر کو رد کرنے کا حق ہے اور (ماتحت الاسباب) شوری کا حق صرف مہاجرین و انصار کو ہے سو وہ اگر کسی ایک شخص پر متفق ہو جائیں اور اس کو امام تسلیم کریں تو اس کاروائی سے اللہ راضی ہے۔

(نہج البلاغه ، حصہ دوئم ، مکتوبات امیر المومنین، مکتوب نمبر ۶، ص ۹۸۴ ، ناشر : شیعہ جنرل یک ایجنسی انصاف پریس لاہور۔)

اس سے معلوم ہوا مہاجرین و انصار رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شوری کے ذریعے سے کسی خلیفے کاماتحت الاسباب مقرر ہونا اللہ تعالی کے راضی ہونے کا سبب ہے اور ویسے بھی مہاجرین و انصار کی تابعداری کرنے والوں سے اللہ تعالی کا راضی ہونا خود قرآن مجید میں بھی موجود ہے:

والسابقون الاولون من المهاجرين والأنصار والذين اتبعوهم بإحسان رضي الله عنهم ... الآية

” ایمان میں سبقت کرنے والے ( فتح مکہ سے پہلے ایمان لانے والے اور انفاق فی سبیل اللہ اور جہاد کرنے والے) یعنی مہاجرین اور انصار (صحابہ) اور اخلاص سے ان کی تابعداری کرنے والے ان ( تین جماعتوں) سے اللہ راضی ہے “۔ (سورۃ التوبہ آیت 100)

اللہ تعالی نے نام کسی کا نہیں لیا صرف نشانی بتلائی کہ صحابہ کرام میں سے مہاجرین ہوں یا انصار اور مہاجرین و انصار کے علاوہ اگر کوئی ان کی اخلاص سے اتباع کرنے والا ہوگا تو اللہ تعالی اس سے راضی ہو گا، یقینی بات ہے کہ حضرت علی المرتضیٰ ؓ کا ارشاد بھی اس بناء پر ہو کہ مہاجرین وانصار کے اتفاق سے جو خلیفہ مقرر ہوا وہ اللہ تعالی کی رضا سے ہی ہوا ہے۔ جس کا واضح طور پر مطلب ہوا کہ ظاہری سبب کے طور پر جس کو مہاجرین و انصار نے خلیفہ بنایا “مافوق الاسباب‘‘ وہی اللہ تعالی کی طرف سے بنایا ہوا خلیفہ ہے۔ اس حقیقت کو سامنے رکھنے کے بعد پوری امت مسلمہ خلفائے راشدین کی خلافت کو برحق خلافت اور موعود من اللہ خلافت تسلیم کرتی ہے اور خلفائے راشدین کو خلیفہ بنانے کی صورت میں اللہ تعالی کو اپنا وعدہ پورا کرنے والا سمجھتی ہے اور یہ ہی بات حضرت علیؓ  کے خطبہ اور مکتوب سے ناظرین نے ملاحظہ فرمائی اور اگر بالفرض خلافت اس ترتیب سے نہ ہوتی بلکہ کسی اور ترتیب سے ہوتی مثلا حضرت ابو بکر صدیقؓ  کے علاوہ پہلا خلیفہ کوئی دوسرا یعنی حضرت علیؓ  یا اس کا بھائی حضرت عقیلؓ  یا حضرت عمر ؓ یا حضرت عثمانؓ  میں سے کوئی بھی ہوتا جب بھی امت مسلمہ کا کوئی طبقہ اس پر اعتراض نہ کرتا کیونکہ اللہ تعالی نے خلیفہ بنانے کا وعدہ کیا تھا اس میں نام کسی کا بھی نہیں لیا تھا آیت کریمہ میں صرف ایمان اور عمل صالح کی شرط تھی یعنی آیت کریمہ کے نزول کے وقت جو مومن صالح تھے وہ سارے حضرات خلافت کے قابل تھے۔ ان میں سے جو خلیفہ ہوا وہ اللہ تعالی کے وعدہ کے مطابق ہوا۔ اسی طرح اللہ تعالی کا وعدہ پورا ہوا۔

فکر شیعت:

جب کہ شیعہ مذہب کے مصنفین کی فکر اس کے بر عکس (خلاف) ہے وہ نہ ہی ماتحت الاسباب مہاجرین و انصار کے بنائے ہوئے خلیفے کو خلیفہ برحق سمجھتے ہیں اور نہ ہی اللہ تعالی کو وعدہ پورا کرنے والا مانتے ہیں ان کی بس ایک ہی رٹ ہے کہ خلافت صرف جناب علی المرتضیؓ  کا حق تھا اور ان کے بعد قیامت تک ان کی اولاد میں سے صرف گیارہ حضرات کی خلافت ہوئی تھی ، ان کی سوچ میں اللہ تعالی کا یہی وعدہ تھا جو بقول ان کے بدقسمتی سے پورا نہ ہو سکا جس کی وجہ سے پورا اسلام بگڑ گیا۔ اب اسلام کا پروگرام قابل مسرت نہیں بلکہ قابل افسوس ہے اس پر رونا چاہیے۔ جیسا کہ شیعہ صدر المحقق محمد حسین ڈھکو نے صاف لکھا ہے:

’’فليبك على الاسلام من کان باکیا‘‘

رونے والوں کو اسلام پر رونا چاہیے۔

(تجلیات صداقت بجواب آفتاب ھدایت ج۱ ص۲۰)

صفحہ 2 از 3