آیت استخلاف اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ قسط 1 - ردِ رافضیت |…

آیت استخلاف اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ قسط 1

  علامہ علی شیر رحمانی

صفحہ 3 از 3

اس لیے شیعہ مصنفین نے اپنے مذہب کی بنیاد ہی مسئلہ خلافت (منصوص من اللہ ہے) پر قائم کر کے پوری امت مسلمہ سے علیحدگی اختیار کی ہے ، انہوں نے کہا کہ خلیفہ منصوص من اللہ ہو گا اور لوگوں کو خلیفہ بنانے میں کوئی دخل نہیں ہو گا اور اپنے مذہب کے اس بنیادی مسئلے کو ثابت کرنے کے لیے ہر دور اور ہر ملک کے بڑے بڑے علماء نے بہت ساری کتابیں تصنیف کی ہیں اور یہ ان پر حق بھی تھا کہ اپنے مذہب کے بنیادی مسئلے کو مضبوط بنائیں لیکن جتنا زیادہ لکھا اتنا زیادہ الجھے ، جتنی ہی زیادہ دلیلیں پیش کر نے کی کوشش کی اتنا ہی یہ مسئلہ زیادہ تر تضاد کا شکار ہوتا گیا۔ ظاہر ہے کہ کسی جھوٹے مقدمے کو کتنا ہی مضبوط بنانے کی کوشش کی جائے تو بجائے مضبوط ہونے کے کمزور ہی ہوتا چلا جاتا ہے، لہذا یہی صورت حال شیعہ مذہب میں مسئلہ خلافت کی ہے، ہم نے جب اس پر کچھ غور کیا تو ہمیں کچھ یوں نظر آیا کہ شیعہ مجتہدین نے مسئلہ خلافت کو ثابت کرنے کے لئے جو جو دلائل پیش کیے ہیں وہ بجائے ایک دوسرے کو مضبوط کرنے کے، اس مسئلے کو مزید کمزور کر رہے ہیں۔

خلافت کے متعلق ہمارے سامنے شیعت کے پیش کر دہ تقریباً آٹھ رخ موجود ہیں جن میں سے ہر ایک رخ کا نتیجہ جدا جدا ہے اور وہ سارے ایک دوسرے کے خلاف ہیں۔ وہ آٹھ رخ ہم ان شاءاللہ آپ کے سامنے باحوالہ پیش کرتے ہیں تاکہ پتہ چلے کہ مذہب شیعہ میں مسئلہ خلافت کی حقیقت اور اسکے دلائل کیا ہیں ؟ اور ان کا آپس میں ربط کیا ہے ؟ چونکہ مسئلہ ایک ہے تو نتیجہ بھی ایک ہونا چاہیے تھا مگر ایسا نہیں ہے ۔


صفحہ 3 از 3