سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور غزوہ احد
علی محمد الصلابیسیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور غزوۂ احد
غزوہ احد کے اندر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ابتدائی مرحلہ میں فتح نصیب فرمائی، اور مسلمانوں کی تلواریں مشرکین کی گردن پر اپنا کام کرتی رہیں، مشرکین کو ہزیمت و شکست میں شک نہ رہا اور مشرکین کے پرچم بردار یکے بعد دیگرے ایک ایک کر کے قتل ہوتے رہے، اور پرچم سے قریب ہونے کی ہمت کسی میں باقی نہ رہی، اب مشرکین شکست خوردہ ہو چکے تھے اور خواتین جو گا گا کر دف بجا بجا کر ہمت دلا رہی تھیں سب کچھ چھوڑ کر آہ و بکا کرنے لگیں، اور دف وغیرہ پھینک کر خوفزدہ ہو کر پنڈلیاں کھولے ہوئے پہاڑ کی طرف بھاگ کھڑی ہوئیں لیکن اچانک معرکہ کا توازن بگڑ گیا اور اس کا سبب یہ ہوا کہ جن تیر اندازوں کو پہاڑ کے اوپر مقرر کیا گیا تھا اور ان کی ڈیوٹی لگائی گئی تھی کہ معرکہ کا نتیجہ کچھ بھی ہو اپنی جگہ کو نہ چھوڑیں ان میں سے چند کے علاوہ بقیہ نے اپنی جگہ چھوڑ دی، اور پہاڑی سے اتر کر دوسروں کے ساتھ مالِ غنیمت جمع کرنے میں لگ گئے۔ تب تک خالد بن ولید نے جو قریشی شہسواروں کے قائد تھے موقع کو غنیمت جانتے ہوئے شہسواروں کو لے کر عکرمہ بن ابی جہل کے ساتھ پیچھے سے مسلمانوں پر حملہ کر دیا۔ اولًا جو پہاڑی پر تیر انداز باقی تھے جن میں سیدنا عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ بھی تھے جو تیر اندازوں کے امیر تھے، انہیں قتل کیا پھر جو مسلمان بالکل غافل تھے اور مالِ غنیمت جمع کرنے میں مشغول تھے خالد بن ولید نے ان پر دھاوا بول دیا، مسلمان اس اچانک حملہ سے اضطرابی کیفیت میں مبتلا ہو گئے اور ان کا ایک گروہ مدینہ کی طرف بھاگ کھڑا ہوا، انہی میں سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ بھی تھے، یہ لوگ اس وقت تک واپس نہ ہو سکے جب تک کہ جنگ ختم نہ ہوئی، اور دوسرا گروہ نبی کریمﷺ کے قتل کی افواہ سن کر حیران و پریشان ہو کر رہ گیا، اور تیسرا گروہ رسول اللہﷺ کے ساتھ ڈٹا رہا۔ پہلے گروہ سے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں جو قیامت تک تلاوت کی جاتی رہیں گی:
إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا وَلَقَدْ عَفَا اللّٰهُ عَنْهُمْ إِنَّ اللّٰه غَفُورٌ حَلِيمٌ
(سورة آل عمران: آیت، 155)
ترجمہ: ’’تم میں سے جن لوگوں نے اس دن پیٹھ دکھائی، جس دن دونوں جماعتوں کی مڈ بھیڑ ہوئی تھی یہ لوگ اپنے بعض کرتوتوں کے باعث شیطان کے پھسلانے میں آ گئے لیکن یقین جانو کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کر دیا، اللہ تعالیٰ ہے بخشنے والا اور تحمل والا۔‘‘
لیکن اہلِ بدعت اپنی خواہشات کے بندے ہوتے ہیں اور انہیں وہی نظر آتا ہے۔ انہیں میدانِ جنگ سے لوٹنے والوں میں صرف سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ہی نظر آئے اس لیے وہ صرف آپؓ ہی کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں حالاں کہ آپؓ اس میں تنہا نہ تھے آپ کے ساتھ دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی تھے۔ (الامین ذوالنورین؛ صفحہ، 49)
اور جب اللہ تعالیٰ نے ان سب کو معاف کر دیا تو پھر مسئلہ بالکل واضح ہو گیا کوئی التباس باقی نہیں رہا لہٰذا اس کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر انگلی نہیں اٹھائی جا سکتی۔
(ذوالنورین مع النبیﷺ، د۔ عاطف لماضۃ: صفحہ، 32)
یہ کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نصِ قرآنی سے آپؓ کی معافی کا اعلان کر دیا، آپؓ کی جہادی زندگی مجموعی طور پر آپؓ کی شجاعت پر شاہد عدل ہے۔