کیا کچھ صحابہ منافق تھے ؟؟ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

کیا کچھ صحابہ منافق تھے ؟؟

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 1 از 2

صحابی کی تعریف پر اہل سنت کا جو اجماع ہے وہ یہ ہے کہ

صحابی کی تعریف:

حافظ ابن حجر عسقلانی نے اپنی مشہور کتاب

"الإصابة في تمييز الصحابة"

میں "صحابی" کی تعریف یوں کی ہے :

الصحابي من لقي النبي صلى الله عليه وسلم | مؤمنا به ، ومات على الإسلام

صحابی اسے کہتے ہیں جس نے حالتِ ایمان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی اور اسلام پر ہی فوت ہوا۔

پھر درج بالا تعریف کی شرح کرتے ہوئے حافظ ابن حجر رحمة اللہ مزید کہتے ہیں :

فيدخل فيمن لقيه من طالت مجالسته له أو قصرت ، | ومن روى عنه أو لم يرو ، ومن غزا معه أو لم يغز ، ومن رآه رؤية ولو لم يجالسه ، | ومن لم يره لعارض كالعمى . | ويخرج بقيد الإيمان من لقيه كافرا ولو أسلم بعد ذلك إذا لم يجتمع به مرة أخرى .

اردو ترجمہ: ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق زاہد

اس تعریف کے مطابق ہر وہ شخص صحابی شمار ہوگا جو ۔۔۔۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حال میں ملا کہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی رسالت کو مانتا تھا

پھر وہ اسلام پر ہی قائم رہا یہاں تک کہ اس کی موت آ گئی

خواہ وہ زیادہ عرصہ تک رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کی صحبت میں رہا یا کچھ عرصہ کے لیے

خواہ اس نے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی احادیث کو روایت کیا ہو یا نہ کیا ہو

خواہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھ کسی جنگ میں شریک ہوا ہو یا نہ ہوا ہو

خواہ اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو یا (بصارت نہ ہونے کے سبب) آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کا دیدار نہ کر سکا ہو

ہر دو صورت میں وہ "صحابئ رسول" شمار ہوگا۔

اور ایسا شخص "صحابی" متصور نہیں ہوگا جو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) پر ایمان لانے کے بعد مرتد ہو گیا ہو۔

بحوالہ: الإصابة في تمييز الصحابة : أحمد بن علي بن حجر أبو الفضل العسقلاني الشافعي ،جلد 1، صفحہ 7،8

فضائل اصحاب النبی (رضوان اللہ عنہم اجمعین) کے ضمن میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

عن عبد الله بن عمر، قال: من كان مستناً فليسن. ممن قد مات، أولئك أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم كانوا خير هذه الأمة، أبرها قلوباً، وأعمقها علماً، وأقلها تكلفاً، قوم أختارهم الله لصحبة نبيه صلى الله عليه وسلم ونقل دينه، فتشبهوا بأخلاقهم وطرائقهم فهم أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم كانوا على الهدى المستقيم

اردو ترجمہ : ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق زاہد

اگر کوئی شخص اقتداء کرنا چاہتا ہو تو وہ اصحابِ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی سنت پر چلے جو وفات پا چکے ہیں، وہ امت کے سب سے بہتر لوگ تھے ، وہ سب سے زیادہ پاکیزہ دل والے ، سب سے زیادہ گہرے علم والے اور سب سے کم تکلف کرنے والے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی صحبت کے لیے ، اور آنے والی نسلوں تک اپنا دین پہنچانے کے لیے چُن لیا تھا ، اس لیے تم انہی کے طور طریقوں کو اپناؤ ، کیونکہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھی تھے ، اور صراط مستقیم پر گامزن تھے۔

بحوالہ: حلية الأولياء لأبي نعيم، جلد1، صفحہ:164)

اس تعریف میں یہ بات شامل ہے کہ:

ایسا شخص "صحابی" متصور نہیں ہوگا جو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) پر ایمان لانے کے بعد مرتد ہو گیا ہو۔

بحوالہ: الإصابة في تمييز الصحابة : أحمد بن علي بن حجر أبو الفضل العسقلاني الشافعي ، جلد 1، صفحہ 7،8 

بخاری اور مسلم میں کچھ احادیث ایسی ہیں جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو بھی "صحابی" کے لفظ سے یاد کیا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مرتد ہو گئے تھے اور جن سے خلیفۂ راشد ابوبکر صدیقؓ نے جنگ کی تھی۔

سوال یہ ہے کہ کیا یہ منافقین یا مرتدین ۔۔۔۔ ان احادیث کی رو سے "صحابی" کی اصطلاحی تعریف میں شمار ہوتے ہیں؟

یعنی ۔۔۔۔

اسی سوال کے ایک دوسرے رُخ کے مطابق ۔۔۔۔

کیا بعض صحابہ منافق تھے ؟؟

صحیح بخاری سے اسی سلسلے کی ایک حدیث ملاحظہ فرمائیں:

النبي صلى الله عليه وسلم قال يرد على الحوض رجال من اصحابي فيحلئون عنه فاقول يا رب اصحابي‏.‏ فيقول انك لا علم لك بما احدثوا بعدك، انهم ارتدوا على ادبارهم القهقرى

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

حوض (کوثر) پر میرے صحابہ کی ایک جماعت آئے گی۔ میں عرض کروں گا ، میرے رب! یہ تو میرے صحابہ ہیں۔

اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تمہیں معلوم نہیں کہ انہوں نے تمہارے بعد کیا کیا نئی چیزیں ایجاد کر لی تھیں ، یہ الٹے پاؤں (اسلام سے) واپس لوٹ گئے تھے (مرتد ہو گئے)۔

صحيح البخاري , كتاب الرقاق , باب في الحوض , حديث:6666

کتاب الرقاق کے اسی باب "فی الحوض" میں اسی نوعیت کی بہت سی احادیث ہیں۔

اگر یہ کہا جائے کہ بخاری کی روایت میں "اصحابي" کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ، یعنی ۔۔۔

نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) انہیں دیکھ کر "میرے صحابہ" کہیں گے ، اس طرح ان منافقین کے "صحابی" ہونے کی گواہی دیں گے

تو اس کا جواب درج ذیل قرآنی آیت ہے :

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ بیان کرتا ہے :

وَمِمَّنْ حَوْلَكُم مِّنَ الأَعْرَابِ مُنَافِقُونَ وَمِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مَرَدُواْ عَلَى النِّفَاقِ لاَ تَعْلَمُهُمْ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ

اور آپ کے گرد وپیش اعرابیوں میں سے منافقین بھی ہیں اور اہل مدینہ میں سے بھی چند لوگ نفاق تک پہنچ چکے ہیں، تم انہیں نہیں جانتے، ہم انہیں جانتے ہیں۔

( سورة التوبة آيت: 101 )

اس آیت سے دو باتیں واضح‌ طور پر ثابت ہو رہی ہیں :

1۔ منافقین میں مکہ کے اعرابی بھی شامل تھے اور مدینہ کے چند لوگ بھی

2۔ تمام منافقین کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہیں جانتے تھے بلکہ ان کی اصل تعداد کو صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔

اس آیت میں منافقین کا ذکر کرکے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) تمام منافقین کو نہیں جانتے۔ اور روزِ حشر تو خود حوض کوثر کے قریب اللہ تعالیٰ فرما دے گا کہ یہ متذکرہ منافقین رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی وفات کے بعد مرتد ہو گئے تھے۔

ہم کسی بھی مسلمان کو ظاہری طور پر پرکھ کر ہی مسلمان کہتے ہیں۔ کسی کے دل کا حال سوائے اللہ کے کوئی نہیں جانتا۔

اسلام کو ظاہری طور پر قبول کرنے (کلمۂ طیبہ پڑھ لینے والے) کو ہی مسلمان کہتے ہیں۔ اس بات کی دلیل یہ آیت ہے:

صفحہ 1 از 2