کیا کچھ صحابہ منافق تھے ؟؟ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

کیا کچھ صحابہ منافق تھے ؟؟

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 2

قَالَتِ الأَعْرَابُ آمَنَّا قُل لَّمْ تُؤْمِنُوا وَلَكِن قُولُوا أَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الإِيمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ

ترجمہ: دیہاتی لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں، آپ فرما دیجئے: تم ایمان نہیں لائے، ہاں یہ کہو کہ ہم اسلام لائے ہیں

( الحُجُرات آيت 14 )

اور حافظ ابن کثیر بھی اس آیت کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ :

اللہ اپنے نبی کو حکم دیتا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) انہیں کہئے کہ "تم یوں نہ کہو کہ ہم ایمان لائے بلکہ یوں کہو کہ ہم مسلمان ہوئے۔۔۔" ۔۔۔ ایمان اسلام سے مخصوص چیز ہے۔ حدیث جبریل بھی اسی پر دلالت کرتی ہے جبکہ انہوں نے اسلام کے بارے میں سوال کیا پھر ایمان کے بارے میں ۔۔۔۔

سوال یہ اٹھتا ہے کہ :

بخاری کی حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جن ساتھیوں کا بیان ہو رہا ہے ، آیا وہ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے سامنے اسلام لانے والے منافقین تھے یا (اصطلاحی) صحابی تھے؟

اس بات کی وضاحت میں ہم اہل سنت والجماعت کا یہ ماننا ہے کہ ۔۔۔۔

درحقیقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے بسا اوقات کلمہ "اصحابه" سے وہ تمام لوگ مراد لیے ہیں جو قبول اسلام کے ساتھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھی یعنی امتی بنے۔

ہماری اس توجیہ کے بعض مضبوط دلائل ہیں ، جو آپ ذیل میں ملاحظہ فرمائیں گے۔

1۔ بخاری کی ایک حدیث میں رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی ابن سلول کی گردن مار دینے کی اجازت جب حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) نے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) سے طلب کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے یہ کہہ کر منع کر دیا کہ :

دعه لا يتحدث الناس ان محمدا يقتل اصحابه

کہیں یوں نہ کہا جانے لگے کہ محمد اپنے صحابہ کو قتل کرتا ہے۔ صحیح بخاری، کتاب التفسیر

بتائیے کہ رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی ابن سلول کو کیا آج تک کسی مسلمان نے "صحابی" کا درجہ دیا ہے؟

2۔ بخاری ہی کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ: رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) ان کے متعلق اللہ کا کلام جاننے کے بعد ان منافقین سے فرمائیں گے:

سحقاً سحقاً

ترجمہ: تمہاری ہلاکت ہو

صحیح بخاری ، کتاب الفتن

3۔ تیسری دلیل أمتي أمتي‏ کے الفاظ والی حدیثِ بخاری ہے۔صحیح بخاری، کتاب التوحید

پس ثابت ہوا کہ بخاری کی اس روایت میں "اصحابي" سے مراد اصطلاحی صحابی نہیں بلکہ عرفاً صحابی مراد ہے۔ جیسا کہ بخاری ہی کی ایک روایت میں رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی ابن سلول کے لیے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے "اپنے ساتھی" کے الفاظ استعمال کئے ہیں۔

منافقین ہر دور میں رہے ہیں اور قیامت تک رہیں گے۔ اس کے باوجود نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے أمتي أمتي‏ کے الفاظ کے ساتھ انہیں اپنی امت میں شمار کیا ہے۔

اس کے علاوہ ۔۔۔۔۔۔

مسلم کی یہ حدیث دیکھئے جس میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کا فرمان ہے :

في أصحابي اثنا عشر منافقاً لا يدخلون الجنة، ولا يجدون ريحها

میرے ساتھیوں میں 12 منافق ہیں جو نہ جنت میں جائیں گے اور نہ اس کی خوشبو پائیں گے

صحيح مسلم ، كتاب صفات المنافقين وأحكامهم

بھلا بتائیے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ہی نبی سے ایسی بیشمار متواتر روایات منقول ہوں جن میں صحابہ کرام کے فضائل و کرام بیان کئے گئے حتیٰ کہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) یہ تک کہے کہ :

لا تسبوا أصحابي

میرے صحابہ کو برا نہ کہو

صحيح بخاری ، كتاب فضائل الصحابة

کیا یہ عجیب بات نہیں کہ ایک نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) جو اپنے صحابہ کو برا نہ کہنے کی نصیحتیں کرتا ہے ، وہ خود اپنے صحابہ کو منافق کہے؟؟ اور یہ کہے کہ وہ جنت میں نہیں جائیں گے؟؟

یا تو ان روایات کو جھوٹ ماننا ہوگا یا پھر کوئی تطبیق دینی ہوگی۔

ان روایات کو ہم اہل سنت والجماعت جھوٹ قطعاً نہیں کہتے کیونکہ صحیحین کی ان روایات پر اجماع امت ہے۔ لہذا ہمارے علماء و ائمہ ومحدثین نے یہی تطبیق دی ہے کہ :

متذکرہ منافقین عرفاً نبی کے ساتھی تھے [یعنی کہ بالکل ویسے ہی جیسے رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی ابن سلول کو نبی نے اپنے "أصحابي" میں شمار کیا]، اصطلاحی و شرعی معنوں میں وہ "صحابی" نہیں تھے ، کیونکہ صحابی کی اجماعی تعریف میں یہ بات شامل ہے کہ وفات "ایمان" پر ہوئی ہو!

اور جن منافقین کو اللہ تعالیٰ خود کہہ چکا ہے کہ وہ "مرتد" ہو چکے ، وہ بھلا کس طرح "صحابی" کی تعریف میں شمار ہو سکتے ہیں؟؟

ملت جعفریہ شیعہ سے ایک سوال : 

حضرت ابوبکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنہم کو آپ شیعہ منافق کہتے ہو آپ کو کس نے بتایا کہ یہ منافق تھے؟؟

اگر منافق تھے تو کیا اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ اللہ علیہ وسلم کو یہ بتایا؟؟؟

اگر نہیں بتایا تو بقول آپ کے اللہ تعالیٰ نے ظلم کیا نعوذباللہ،،

اور اگر بتایا تو کیا رسول اللہ ان کے بارے اعلان فرمایا یا حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ (جن کو باقی منافقین کے نام بتائے تھے ان) کو بتایا کہ یہ تین صحابہ ( یعنی حضرت ابوبکر عمر عثمان) منافق ہیں؟؟؟

اگر اعلان نہیں فرمایا یا نہیں بتایا تو بقول آپ شیعہ کے نعوذباللہ رسول اللہ نے دین میں خیانت کی ؟؟

تو شیعو......! آج تمہیں کس نے بتایا یہ رسول اللہ کے جانشین منافق تھے نعوذباللہ؟؟

اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے دلوں کو حُب صحابہ سے بھر دے اور ہمیں اتنی توفیق عطا فرمائے کہ ناموسِ صحابہ کی خاطر قصرِ صحابیت پر کئے جانے والے ہر حملے کا موثر دفاع کر سکیں ، آمین!


صفحہ 2 از 2