کیا مروان کی طرف سے اہل بیت اور امام حسن رضی اللہ عنہ کو…

کیا مروان کی طرف سے اہل بیت اور امام حسن رضی اللہ عنہ کو معلون قرار دیا گیا ؟ (معاذاللہ )

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 1 از 3

کیا مروان کی طرف سے اہل بیت اور امام حسن ؓ کو معلون قرار دیا گیا؟ (معاذاللہ )

*سب سے پہلے ایک رافضی کی تحریر نقل کرتے ہیں جس میں مذکورہ دعویٰ اپنی طرف سے ایک دلیل پیش کرکے ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی گئی ہے جو کہ درج ذیل ہے :*

مروان نے حسنین ؓ و اہل بیت کو معلوم قرار دیا ؟

*حدثنا إبراهيم بن الحجاج السامي، حدثنا حماد بن سلمة، عن عطاء بن السائب، عن أبي يحيى، قال: كنت بين الحسين والحسن، ومروان يتشاتمان فجعل الحسنُ يكفُّ الحسين، فقال مروان: أهل بيت ملعونون. فغضب الحسن، فقال: أقلت: أهل بيت ملعونون؟ فوالله لقد لعنك الله على لسان نبيه صلى الله عليه وسلم وأنت في صلب أبيك)*

*[مسند أبي يعلى الموصلي، ج١٢، ص١٣٥، رقم الحديث ٦٧٦٤)*

*ترجمہ ( بحذفِ اسناد) ابو یحیی فرماتے ہیں کہ میں حسن و حسین کے پاس تھا کہ مروان ان دنوں کو شتم کر رہا تھا اور امام حسن امام حسین کو روکنا شروع کیا( کہ* *مروان کو جواب نہ دیں ) اتنے میں مروان نے کہا :*

*اَھلُ البَیتِ مَلعُونُونَ*

*اہل بیت ( نعوذ باللہ ) ملعون ہیں*

*امام حسن نے فرمایا: کیا کہا تم نے کہ اہل بیت ملعون ہیں؟!!*

*اللہ کی قسم اللہ نے اپنے نبی کی زبان پر تجھ پر لعنت کی جبکہ تو اپنے باپ کی صُلب میں تھا۔*

*اسناد : محقق حسین سلیم اسد نے اس روایت کی سند کے بارے میں لکھا:*

*(إسناده صحيح)*

*یعنی اس حدیث کی اسناد صحیح ہے*

*ایک ضمنی اعتراض کا جواب :*

*حماد بن سلمة کے بارے میں امام دار قطنی کا قول نقل کیا جاتا ہے کہ انہوں نے عطاء بن سائب سے بعد از اختلاط سنا لیکن جمہور محدثین نے حماد کی عطاء سے مرویات کو ” مستقیم” کہا ہے جن میں "علامہ طحاوی” بھی ہیں چنانچہ اس جمہور کے مقابلہ میں علامہ دارَقطنی کے قول پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔*

*نیز یہ کہ مروان کا سبّ اور اہل بیت سے بغض سے متعلق اور بھی مروایات ہیں*

*اور اگر مختلط روای کی روایت کی کوئی متابعت تامہ یا قاصرہ ہی مل جائے صحیح مانی جائے گی۔*


*الجواب :*

*روایت کی سند کا حال!*

*اس مذکورہ روایت کا بنیادی راوی امام عطاء بن سائب ہے جن کو اختلاط ہو گیا تھا اور حافظہ متغیر ہو گیا تھا جسکی وجہ سے متقدمین ناقدین نے اس کے تلامذہ کی تخصیص کی ہے کہ عطاء سے انکے قدیم تلامذہ کا سماع صحیح ہے اور عطاء کے متاخرین تلامذہ کا سماع ضعیف ہے ۔*

*ناقدین سے عطاء بن سائب کے بارے میں تفصیلی کلام درج ذیل ہے :*

*امام یحییٰ بن سعید القطان*

*وقال يحيى القطان: ما سمعت أحدا من الناس يقول في عطاء بن السائب شيئا في حديثه القديم، قيل ليحيى: ما حدث سفيان وشعبة أصحيح هو؟ قال: نعم إلا حديثين كان شعبة يقول: سمعتهما بأخرة*

*امام یحییٰ کہتے ہیں میں نے عطاء بن سائب کی احادیث ان لوگوں سے سماع کی ہےجنکا سماع (عطاء) سے قدیم ہے ۔ تو امام یحییٰ سے کہا گیا کہ سفیان اور شعبہ کا سماع ان سے صحیح ہے ؟ تو کہا ہاں سوائے شعبہ کی ان دو احادیث کے جو انہوں نے (عطاء) سے آخری دور میں سنی*

*[تاریخ الکبری للبخاری برقم: 3000] [الجرح والتعدیل ابن ابی حاتم]*

*امام احمد بن حنبل :*

*وقال عبد الله: سألته (يعني أباه) عن عطاء بن السائب. فقال: صالح، من سمع منه ـ يعني قديماً ـ وقد تغير، فإنه ليس بذاك،*

*امام عبداللہ بن احمد بن حنبل ؒ کہتے ہیں میں نےاپنے والد سے سوال کیا عطاء بن سائب کے بارے تو انہوں نے کہا یہ صالح ہے جب ان سے سماع کرنے والے قدیم (تلامذہ) ہو۔ اور جنہوں نے (اسکے)تغیر میں (سماع) کیا ہے تو وہ کچھ بھی نہیں ہے (یعنی ضعیف ہے)*

*[العلل برقم: 882]*

*وقال أبو طالب: سألت أحمد، يعني ابن حنبل، عن عطاء بن السائب. قال: من سمع منه قديماً كان صحيحاً، ومن سمع منه حديثاً لم يكن بشيء، سمع منه قديماً شعبة، وسفيان*

*امام ابو طالب کہتے ہیں میں نے امام احمد سے سوال کیا عطاء بن سائب کے بارے تو انہوں نے کہا : جس نے اس سے قدیم (زمانے) میں سماع کیا ہے وہ صحیح ہے ۔ اور جس نے (بعدمیں ) سماع کیا ہے وہ کوئی شی نہیں ہے ۔ اور اس سے قدیم سماع کرنے والوں میں امام شعبہ اور امام سفیان ثوری ہیں ۔*

*[الجرح والتعدیل برقم: 1848]*

*امام ابن سعد :*

*وكان ثقة. وقد روى عنه المتقدمون. وقد كان تغير حفظه بآخره واختلط في آخر عمره.*

*یہ ثقہ تھا جب اس سے روایت کرنے والے اسکے قدیم (تلامذہ) ہوں ۔ اسکا حافظہ متغیر ہو گیا تھا آخر میں اور اسکی عمر کے آخر میں اسکو اختلاط واقع ہو گیا ۔*

*[الطبقات الكبرى بن سعد برقم: 2510]*

*امام عجلی*

*كوفى تابعي جائز الحديث وقال مرة كان شيخا قديما ثقة روى عن بن أبي أوفى ومن سمع من عطاء قديما فهو صحيح الحديث منهم سفيان الثوري فأما من سمع منه بأخرة فهو مضطرب الحديث منهم هشيم وخالد بن عبد الله الواسطي إلا أن عطاء كان بأخرة يتلقن*

*یہ کوفی تابعی ہے اور جائز الحدیث ہے اور پھر کہا یہ ثقہ تھا قدیم (زمانے کے حوالے سے)۔ ا س نے ابن ابی اوف سے ۔ اور جو عطاء سے قدیم تلامذہ کا سماع ہے وہ صحیح ہے حدیث میں ان میں سفیان ثوری ہے ۔ اور جن کا سماع ان سے آخری زمانہ کا ہے اس میں یہ مضطرب الحدیث تھا متاخرین سماع میں ھشیم ، خالد بن عبداللہ ہیں اسکے علاوہ عطاء آخری عمر میں تلقین بھی (قبول)کرتے۔*

*[الثقات للعجلی برقم: 1237]*

*امام ابو حاتم:*

*نا عبد الرحمن قال سمعت أبي يقول كان عطاء بن السائب محله الصدق قديما قبل ان يختلط صالح مستقيم الحديث ثم بأخرة تغير حفظه في حديثه تخاليط كثيرة وقديم السماع من عطاء سفيان وشعبة، وحديث البصريين الذين يحدثون عنه تخاليط كثيرة لانه قدم عليهم في آخر عمره، وما روى عنه ابن فضيل ففيه غلط واضطراب*

*"امام ابن ابی حاتم کہتے ہیں میں نے اپنے والد کو کہتے سنا: عطاء بن سائب سچا تھا ۔ اور محفوظ حدیث والا تھا کہ پھر عمر کے آخری حصے میں اسکا حافظہ متغیر ہو گیا ۔ اور اسکی احادیث میں کثیر غلطیاں واقع ہوئیں ہیں ۔ جس نے قدیم سماع کیا عطا ء سے ان میں سفیان اور شعبہ ہیں ۔ اور جو بصرہ میں اس نے لوگوں کو احادیثث بیان کی وہ اختلاط کی حالت کثیر غلطیاں کی ۔ کیونکہ عمر کے آخری حصے میں یہ وہاں آئے تھے۔ اور جو ابن فضیل ان سے روایت کرتا ہے اس میں بھی غلط احادیث ہیں اور اضطراب ہے ۔*

صفحہ 1 از 3