کیا مروان کی طرف سے اہل بیت اور امام حسن رضی اللہ عنہ کو…

کیا مروان کی طرف سے اہل بیت اور امام حسن رضی اللہ عنہ کو معلون قرار دیا گیا ؟ (معاذاللہ )

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 2 از 3

*[الجرح والتعدیل ابن ابی حاتم برقم: 1848]*

*امام ابو حاتم کا یہ کلام قابل غور ہے کہ جب دوسری بار امام عطاء بصرہ گئے تو انکا حافظہ بہت زیادہ خراب تھا اور کثیر غلطیاں کی بصرہ میں روایت کرنے میں ۔*

*امام یحییٰ بن معین کے بقول امام حماد بن سلمہ کا سماع بھی امام عطاء سے قبل از اختلاط ہے جیسا کہ امام الدوری روایت کرتے ہیں :*

*سمعت يحيى يقول حديث سفيان وشعبة بن الحجاج وحماد بن سلمة عن عطاء بن السائب مستقيم*

*امام یحییٰ بن معین سے سنا وہ کہتے ہیں کہ جو حدیث سفیان شعبہ اور حماد بن سلمہ نے عطاء سے بیان کی ہیں وہ محفوظ ہیں*

*[تاریخ یحییٰ بن معین بروایت الددوری برقم: 1465]*

*اب متعرض اگر یہ دعویٰ کرے کہ مذکورہ روایت بھی حماد بن سلمہ نے بیان کی ہے عطاء سے تو روایت صحیح ہوئی تو یہ دعویٰ ابھی بھی ناقص ہے کیونکہ امام حماد بن سلمہ کا سماع عطاء سے قبل از اختلاط بھی ہے اور بعد از اختلاط بھی ثابت ہے ۔*

*جیسا کہ امام مغلطائی الحنفی اکمال میں امام دارقطنی کی کتاب الجرح والتعدیل سے نقل کرتے ہیں :*

*وفي كتاب ” الجرح والتعديل ” عن الدارقطني: دخل عطاء البصرة دخلتين فسماع أيوب، وحماد بن سلمة في الدخلة الأولى صحيح. والدخلة الثانية فيه اختلاط.*

*اور کتاب الجرح والتعدیل میں امام دارقطنی سے روایت ہے : کہ عطاء بصرہ میں دو مرتبہ آئے تو ان سے ایوب، حماد بن سلمہ نے پہلی بار جو سماع کیا جو کہ صحیح ہے ۔ اور جب وہ دوسری بار آئے تو تب ان میں اختلاط تھا*

*[إكمال تهذيب الكمال في أسماء الرجال برقم: 3715]*

*اس سے ثابت ہوا کہ عطاء سے حماد بن سلمہ نے بصرہ میں دو بار سماع کیا ہے پہلی بار میں انکا سماع جب تھا تب عطاء ٹھیک تھا لیکن جب دوسری بار حماد بن سلمہ اور ایوب نے بصرہ میں سماع کیا تب اختلاط شدہ تھا عطا اور بقول امام ابو حاتم بصرہ میں دوسری بار جب یہ گئے تو انکی روایات میں کثیر غلطیاں تھیں ۔*

*ا ب حماد سے عطاء کی روایات میں تمیز نہیں ہو سکتی کہ کونسی روایات قبل اختلاط ہیں اور کونسی بعد از اختلاط ہیں جسکی وجہ سے یہ روایت ساقط الاعتبار ہے*

*اب کوئی یہ اعتراض کرے کہ امام دارقطنی کی بنام الجرح والتعدیل کتاب موجود نہیں ہے اور وہ امام مغلطائی اس کتاب کا حوالہ دینے میں منفرد ہیں*

*تو یہ کوئی علمی اعتراض نہیں کیونکہ امام مغلطائی حنفی ایک ثقہ جید محدث ہیں اور محدث جب کتاب کے حوالے سے کوئی روایت مصنف کی نقل کرے تووہ حجت ہوتی ہے ۔ باقی اس کتاب کا حوالہ دینے میں امام مغلطائی الحنفی منفرد بھی نہیں بلکہ امام ابن حجر عسقلانی نے بھی اس کتاب کا تذکرہ کیا ہے جیسا کہ وہ اس کتاب سے امام دارقطنی کے اقوال نقل کیے ہیں*

*وقال الدارقطني في الجرح والتعديل: "ثقة*

*[تہذیب التہذیب برقم: 199]*

*وقال الدارقطني في الجرح والتعديل ثقة.*

*[تہذیب التہذیب برقم: 15]*

*امام ابن حجر عسقلانی نے اس کتاب سے ۱۲ سے زیادہ جگہ پر فقط تہذیب میں اس کتاب کے حوالے سے امام دارقطنی کے اقوال لکھے ہیں اور اسکے علاوہ بھی اور محدثین نے نقل کیے ہیں اس کتاب سے امام دارقطنی کے اقوال تو فقط ایک مثال کافی ہے ۔*

*نیز یہ جرح نقل کرنے میں امام مغلطائی منفرد نہیں بلکہ امام سلمی نے بھی یہ جرح امام دارقطنی نے بیان کی ہے*

*وقال الشيخ: دخل عطاء بن السائب البصرة، وجلس؛ فسماع أيوب وحماد بن سلمة في الرحلة الأولى صحيح، والرحلة الثانية فيه اختلاط.*

*شیخ (دارقطنی) نے کہا کہ عطاء بن سائب بصرہ میں مجلس قائم کی پھر ان سے ایوب اور حماد بن سلمہ نے پہلی مرتبہ سماع کیا جو کہ صحیح ہےاور دوسری بار جب کیا (سماع) تو ان (عطاء) میں اختلاط تھا*

*[سؤالات السلمي للدارقطني برقم: 478]*

*اور جب تک اس علت کو رفع نہ کیا جائے کہ حماد بن سلمہ نے یہ روایت قبل اختلاط سنی یا بعد از اختلاط تو یہ علت قائم رہے گی جسکی وجہ سے روایت سے احتجاج نہیں کیا جا سکتا اور روایت ضعیف رہے گی ۔ یہی وجہ ہے کہ*

*امام ابن کثیر نے اس طریق  پر ضعف کا حکم لگایا ہے عطاء بن سائب کے سبب جیسا کہ وہ لکھتے ہیں :*

*وهذا إسناد فيه ضعف أيضا من جهة عطاء بن السائب*

*اور اس سند میں ضعف ہے عطاء بن سائب کے سبب*

*[البداية والنهاية ، ج۴، ص ۴۶]*

*اور اسی طرح امام ہیثمی کا بھی یہی موقف ہے وہ فرماتے ہیں :*

*رواه أحمد، وفيه عطاء بن السائب؛ وقد اختلط.*

*[مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 10072]*

*مزید یہ ہے حماد بن سلمہ کو بھی اختلاط ہو گیا تھا لیکن انکی روایت بعدا ز اختلاط مطلق ضعیف تو نہیں ہوتیں لیکن انکی روایات میں نکارت آگئی تھیں ۔ اور امام شعبی کا حضرت ابن مسعود سے سماع نہیں تھا لیکن یہ علت روایت کی صیحت کے منافی نہیں کیونکہ امام شعبی کی مرسیل حجت ہوتی ہیں ائمہ کے نزدیک ۔ اس لیے اصل علت اس روایت میں عطاء کا اختلاط اور حماد کا ان سے سماع کی تمیز نہیں قبل اور بعد اختلاط میں ۔*

*اگر یہ اعتراض ہو کہ حماد بن سلمہ پر عطا بن سائب سےقبل اور بعد از اختلاط سماع  پر جرح کرنے والے امام دارقطنی منفرد ہیں تو اس اعتراض کو  بھی دور کر دیتے ہیں*

*صحیح سند سے امام عقیلی نے بھی الضعفاء الکبیر میں روایت کیا ہے امام یحییٰ بن سعید القطان سے وہ فرماتے ہیں :*

*حدثنا محمد بن إسماعيل قال: حدثنا الحسن بن علي الحلواني قال: حدثنا علي بن المديني  قلت ليحيى: وكان أبو عوانة حمل عن عطاء بن السائب قبل أن يختلط؟ فقال: كان لا يفصل هذا من هذا، وكذلك حماد بن سلمة*

*امام علی بن مدینی کہتے ہیں میں نے امام یحییٰ بن سعید سے پوچھا کہ ابو عوانہ عطاء بن سائب  کے پاس قبل اختلاط گئے ؟ تو انہوں نے کہا کہ اسکے اس (قبل  اختلاط سماع )اور اس (بعد از اختلاط سماع میں ) فرق نہیں  ہے  اور ایسا ہی حماد بن سلمہ کا حال ہے*

*[الضعفاء الکبیر للعقیلی، وسندہ صحیح]*

*یعنی ثابت ہوا کہ حماد بن سلمہ کی عطاء سے روایت تمیز نہ ہونے کے سبب باطل ہیں  اور ایسی گندی گالیاں مروان نہ ہی صحابہ کی موجودگی میں کر سکتا تھا اور نہ ہی صحابہ ایسی گالیاں سن کر خاموش رہ سکتے تھے یہ سب صحابہ کو بزدل ثابت کرنے کے لیے  باطل روایتیں پھیلائی گئی ہیں*

صفحہ 2 از 3