مسئلہ خلافت میں اہل تشیع کا دوسرا مؤقف نبوت کے آخری سال…

مسئلہ خلافت میں اہل تشیع کا دوسرا مؤقف نبوت کے آخری سال آخری حکم حضرت علی کی خلافت کا اعلان کرنا تھا  یہ حکم  پہلے نہیں دیا گیا تھا!(قسط 3)

  علامہ علی شیر رحمانی

صفحہ 1 از 10

مسئلہ خلافت میں اہل تشیع کا دوسرا مؤقف 

نبوت کے آخری سال آخری حکم حضرت علی کی خلافت کا اعلان کرنا تھا  یہ حکم  پہلے نہیں دیا گیا تھا!

حضرت علی کی خلافت کا پیغام آخری حکم تھا جس کا پہلے حکم نہیں کیا گیا تھا، نبی کریم ﷺ لوگوں کے ڈر کی وجہ سے یہ پیغام نہیں پہنچا رہے تھے ، پھر اللہ تعالی نے ڈانٹ ڈپٹ اور جھڑکیں دے کر نبی کریم ﷺ کو مجبور کیا، تب نبی کریم ﷺ نے

”من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ”

مبہم الفاظ کی صورت میں یہ پیغام پہنچایا۔

[1] نور الثقلين : 

تالیف المحدث الجليل العلامه الخبير الشيخ عبد علی بن جمعة العروسی صحه وعلق علیہ الحاج السید ہاشم الرسولی (المتوفی ۱۱۱۲) المطبعۃ العلمیہ بقم (ایران)۔

قال ابو جعفر وكانت الفريضة تنزل بعد فريضة الاخرى وكانت الولاية آخر الفرائض و انزل اللہ عزوجل الیوم اکملت لکم دینکم ۔۔۔قال ابو جعفر یقول اللہ عزوجل لا انزل بعدها فريضة قد اكملت لكم الفرائض۔

 ابو جعفر ( امام باقر) نے فرمایا: ایک فرض کے بعد دوسرا فرض نازل ہوتا تھا اور ولایت آخری فرض نازل ہوا، اور اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی

"اليوم أكملت لكم دينكم ...... الآية۔

(نور الثقلین ، ج ۱، ص ۶۵۲ ، حدیث نمبر ۲۹۱۔)

(یعنی ولایت علی کا حکم آخر میں نازل ہوا)۔

شیخ صدوق نے ’’امالی الصدوق‘‘ میں اپنی مرفوع ( نبی کریم ﷺ تک) سند سے ایک طویل حدیث نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے علی کو فرمایا کہ اللہ تعالی نے میری طرف یہ آیت

"يا أيها الرسول بلغ ما أنزل إليك من ربك.... الآية،

نازل فرمائی ہے یعنی

”فی ولايتك‘‘

اے علی تیری ولایت کے بارے میں ہے ۔

”وإن لم تفعل فما بلغت رسالتہ” 

یعنی اگر آپ نے یہ عمل نہیں کیا تو رسالت کا کوئی پیغام نہیں پہنچایا

”ولولم اہلغ ما امرت بہ ولايتك لحبط عملی‘‘

یعنی اگر میں نے تیری ولایت کی تبلیغ نہیں کی تو یقینا میرے عمل برباد کئے جائیں گے ۔  (نعوذ باللہ )

(نور الثقلین ، ج ۱، ص ۶۵۴ ، حدیث نمبر ۲۹۶۔) 

کتاب الاحتجاج طبرسی میں مصنف نے اپنی اسناد سے محمد بن علی امام باقر سے ایک طویل حدیث نقل کی ہے۔

’’يقول فلما بلغ غدير خم قبل الجحفة بثلاثة اميال اتاه جبرئیل عہ علی خمس ساعات مضت من النهار بالزجر والانتهار والعصمت من الناس .. .. "يا أيها الرسول بلغ ما أنزل إليك من ربک‘‘ ۔

یعنی امام باقر علیہ السلام نے فرمایا کہ جب رسول اللہ ﷺ غدیر خم پر پہنچے جو مقام جحفہ سے تین میل پہلے ہے ، تو دن کے پانچ گھنٹے گزرنے کے وقت ( دن گرم ہو چکا تھا) جبرئیل ڈانٹ ڈپٹ اور جھڑکوں اور لوگوں سے بچانے کا ذمہ لے کر آئے اور یہ آیت کریمہ سنائی

يا أيها الرسول بلغ.... الآية

پھر رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو جمع کروایا اور فرمایا کہ اللہ تعالی نے میرے اوپر علی کے بارے میں ایک آیت نازل فرمائی ہے اور اگر میں وہ حکم نہیں پہنچاتا

”فتحل لى قارعةلايدفعها عنى احد‘‘

اسکی طرف سے میری پکڑ ہوگی اور اس سے کوئی ایک مجھے نہیں بچا سکے گا....

لانہ قد اعلمنی انى لم ابلغ ما انزل الى فما بلغت رسالتہ و قد ضمن لی تبارک و تعالی العصمۃ وھو اللہ الكافي. . . . يعنى في الخلافة لعلی ابن ابی طالب... الخ

یعنی اللہ نے مجھے بتایا ہے کہ جو میرے اوپر نازل کیا گیا ہے وہ نہیں پہنچاؤں گا تو فرمایا تُو نے رسالت کا کوئی حکم نہیں پہنچایا اور حفاظت کی اس نے ضمانت لی ہے ، وہ اللہ کافی ہے۔ پھر جبرئیل نے یہ وحی بتائی اے رسول اللہ ﷺ جو تیرے اوپر یعنی علی بن ابی طالب کی خلافت کا حکم نازل کیا گیا ہے وہ پہنچاؤ، اگر نہیں پہنچایا تو رسالت نہیں پہنچائی اور اللہ لوگوں کے شر سے تیری حفاظت فرمائے گا۔

(نور ثقلین ، ج ۱، ص ۶۵۵ / ۶۵۴ ، حدیث ۲۹۸۔)

[۲] تفسیر انوار النجف: 

ہجرت کے دسویں سال جناب رسالتمآب ﷺ نے حج بیت اللہ کا قصد فرمایا تو لوگوں میں اعلان کر دیا گیا ...... ساتھ جانے والوں کی تعداد کم از کم نوے ہزار ” ۹۰۰۰۰‘‘ اور زیادہ سے زیادہ سوا لاکھ تھی اور یہ تعداد ان لوگوں کی ہے جو مدینہ سے ہم رکاب ہو کر گئے تھے اور یمن ،طائف اور دیگر اطراف سے جو لوگ مکہ میں شریک حج ہوئے تھے وہ ان کے علاوہ تھے...... حج سے واپس ہو کر مقام غدیر پر پہنچے یہ جمعرات کا دن اور ۱۸ ذوالج کی تاریخ تھی پس جبرئیل امین خداوند کریم کی جانب سے

" يا أيها الرسول بلغ ...... الآیۃ،

کا پیغام لائے اور حکم سنایا کہ علی کو لوگوں کا امام و ہادی مقرر فرمائیں ...... نقل روایت کا غیر معمولی اہتمام صاف بتاتا ہے کہ اسلامی احکام و فرائض میں جو مقام اس حکم ( ولایت) کو حاصل ہے وہ کسی اور کو حاصل نہیں، کیوں نہ ہو جب صاف لفظوں میں کہا گیا کہ اگر یہ تبلیغ نہیں کی تو کوئی تبلیغ نہیں کی۔  یہی وجہ ہے کہ جب حضرت علی کی ولایت کے اعلان کا حکم پہنچا، تو حضور ﷺ چونکہ جانتے تھے کہ منافق لوگ باتیں بنائیں گے اور نہ مانیں گے اور ممکن ہے اختلاف کر کے علم بغاوت کھڑا کر دیں تو خداوند کریم نے اس امر کی ضمانت دی کہ ان کے فساد کا میں ضامن ہوں اور آپ کو محفوظ رکھوں گا ( آپ ﷺ کو جان کا خطرہ تھا) بہر کیف حضور ﷺ کو مسلمانوں کی چیرہ دستیوں کا خطرہ لاحق تھا لیکن خداوند کریم کی تاکیدی و تہدیدی ( جھڑک دینے والے) فرمان کے بعد حضور ﷺ نے مجمع عام میں امیر کی خلافت (فھذا علی مولاہ کہہ کر ) کا اعلان فرمایا۔

تفسیر انوار النجف في اسرار المصحف ، ج ۵، ص ۱۳۹ تا ۱۴۴،

مصنف علامه حسین بخش جاڑا۔

(یعنی ولایت علی کا حکم سب سے آخر میں نازل ہوا)۔

امام جعفر صادق نے فرمایا تھا کہ لوگوں کو دو گواہوں سے حق مل جاتا ہے لیکن حضرت علی کو ایک لاکھ چوبیسں ہزار گواہوں کے باوجود حق نہ مل سکا۔

(تفسیر انوار النجف في اسرار الصحف ، ج ۵، ص ۱۴۳۔)

( حق کس پر تھا؟ جبکہ شیعہ مذہب میں ہے کہ خلیفہ بنانا اللہ کے ذمے ہے لوگوں کو اس میں کوئی دخل نہیں ہے)۔

[۳] القرآن المبین یعنی تفسیر المتقین:

از حضرت امدادالملت والدین العلامہ السید امداد الحسین الکاظمی المشہدی،

ناشر : شیعہ جنرل بک ایجنسی انصاف پریس لاہور ،

صفحہ 1 از 10