مسئلہ خلافت میں اہل تشیع کا دوسرا مؤقف نبوت کے آخری سال…

مسئلہ خلافت میں اہل تشیع کا دوسرا مؤقف نبوت کے آخری سال آخری حکم حضرت علی کی خلافت کا اعلان کرنا تھا  یہ حکم  پہلے نہیں دیا گیا تھا!(قسط 3)

  علامہ علی شیر رحمانی

صفحہ 10 از 10

(ضمیمہ مقبول ص ۱۰۷ بحوالہ احتجاج طبرسی۔)

نتیجہ:

شیعہ مذہب کے بڑے بڑے محققین اور مفسرین و محدثین و مورخین کی تحقیق جو اس دوسرے رخ میں انہوں نے صحیح صریح اور اجتماعی و متواتر احادیث سے نقل کر کے لکھا ہے ، اس کا واضح طور پر یہ نتیجہ ظاہر ہوتا ہے کہ خلافت علی آخری فریضہ یعنی آخری حکم تھا اس سے پہلے اللہ تعالی کی طرف سے خلافت علی کے متعلق کوئی حکم نازل نہیں ہوا تھا اور رسول اللہ ﷺ نے بھی کبھی خلافت علی کی بات کا ذکر تک نہیں کیا تھا۔ اس لیے اللہ تعالی نے خلافت علی کے اہم کام کو بڑی شدت اور تاکید کے ساتھ نازل فرمایا تھا کہ اگر آپ نے اس ایک حکم یعنی خلافت علی کی تبلیغ نہیں فرمائی تو اتنا بڑا جرم سمجھو کہ آپ نے رسالت کا کوئی ایک حکم بھی نہیں پہنچایا، اس سے پہلے ایسا تاکیدی حکم نازل نہیں فرمایا تھا۔

اس رخ میں اللہ تعالی کی طرف سے رسول اللہ ﷺ پر خلافت علی کے متعلق انتہائی زور ڈانٹ ڈپٹ تہدید وعید اور خلافت علی کا اعلان نہ کرنے کی صورت میں رسالت کے نہ پہنچانے کی دھمکی بتائی گئی ہے اور رسول اللہ ﷺ کا خلافت علی کے اعلان سے گھبرانا، تنگ دل ہونا، لوگوں سے ڈرنا، اور رونا بتایا گیا ہے۔ بالآخر رسول اللہ ﷺ کا مجبور ہو کر

’’من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ”

سے مبہم الفاظ میں خلافت علی کا اعلان ذکر کیا گیا ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ آخری فرض اور آخری اعلان تھا اس سے پہلے کوئی اعلان نہیں کیا گیا تھا۔ اگر یہ رخ اور یہ تحقیق حق ہے تو پہلا رخ اور وہ تحقیق کہ نبوت کے تیسرے سال خلافت علی کا اعلان ہو گیا تھا اور وہ اعلان والا قصہ مشہور بھی ہو گیا تھا وہ باطل ہے۔ اگر پہلا رخ اور وہ تحقیق حق ہے تو یہ دوسر ارخ اور تحقیق بالکل باطل ہے۔ محترم قارئین اب آگے دیکھتے ہیں کہ کیا ہے ؟

(جاری ہے)


صفحہ 10 از 10