مسئلہ خلافت میں اہل تشیع کا دوسرا مؤقف نبوت کے آخری سال…

مسئلہ خلافت میں اہل تشیع کا دوسرا مؤقف نبوت کے آخری سال آخری حکم حضرت علی کی خلافت کا اعلان کرنا تھا  یہ حکم  پہلے نہیں دیا گیا تھا!(قسط 3)

  علامہ علی شیر رحمانی

صفحہ 2 از 10

اس شیعہ مصنف نے تفسیر صافی کے حوالے سے لکھا ہے کہ تفسیر الصافی صفحہ ۱۲۹ پر بحوالہ کافی جناب امام محمد باقر سے ایک حدیث کے ضمن میں منقول ہے کہ حضرت علی کی ولایت کے اعلان کا حکم جمعہ کے دن اور عرفہ کے دن آیا تھا، آیت ولایت اسی دن نازل ہوئی تھی اور دین کی تکمیل بھی علی کے اعلان ولایت پر ہوئی تھی۔ آنحضرت ﷺ نے عرض کی کہ میری امت ابھی ابھی کفر سے اسلام میں داخل ہوئی ہے اگر میں اپنے ابن عم کے بارے میں اطلاع دوں گا تو کوئی کچھ کہے گا تو کوئی کچھ ، آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ یہ بات میں نے زبان سے کسی سے نہیں کی تھی صرف میرے دل میں ہی ایساخیال گزرا تھا کہ خدا کا دوسرا حکم پہنچا جس میں مجھے عذاب سے ڈرایا گیا تھا اگر میں نے اس حکم کو نہ پہنچایا چنانچہ یہ آیت

"يا أيها الرسول بلغ ..... الآية ،

پوری کی پوری نازل ہوئی .... ( جس میں ہے کہ علی کی خلافت کا اعلان نہیں کیا تو رسالت کا حق ادا نہیں کیا) چنانچہ امام باقر فرماتے ہیں کہ چونکہ جناب رسول خدا ﷺ خلق خدا پر ، خدا کے علم اور اس کے دین کے امین تھے جو اللہ تعالی نے پسند فرمایا تھا امانت کا حق ادا کر گئے۔ نیز حضرت نے یہ بھی فرمایا ہے کہ خدا نے اپنے رسول ﷺ کو ولایت علی کا حکم دیا اور ان پر آیت

إنما ولیکم اللہ ..... الآیۃ

نازل فرمائی اور اولو الامر کی اطاعت واجب کی مگر لوگ نہیں سمجھتے تھے کہ وہ کیا چیز ہے بس اللہ تعالی نے اپنے رسول کو حکم دیا کہ ولایت کی تفسیر ان کے لیے ایسے بیان کر دے جیسا کہ نماز ، روزہ، زکوۃ اور حج کی تفسیر کی تھی۔ جب خدا کا یہ حکم پہنچا تو آنحضرت ﷺ کو کسی قدر تردد (شک) ہوا، ڈر یہ تھا کہ لوگ مرتد نہ ہو جائیں اور میری تکذیب نہ کریں  پس اللہ کی طرف سے رجوع کیا...... ادھر سے وحی نازل ہوئی

"يا أيها الرسول بلغ.. ... الآية

(تفسیر المتقين، سورہ مائدہ آیت ۶۷ کی تفسیر ،ص ۱۵۳۔)

[۴] ترجمه و تفسیر مقبول احمد : 

مصنف دقیقه شناس رموز قرآنی متکلم و مناظر لاثانی جناب مولوی حکیم سید مقبول احمد دہلوی۔

الجوامع میں حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت جابر بن عبد اللہ سے منقول ہے کہ خدا تعالی نے اپنے نبی کو یہ حکم دیا کہ علی المرتضی کو اپنے کُل آدمیوں کا حاکم مقرر کر دیں اور لوگوں کو بھی اس عمل سے مطلع کر دیں پس آنحضرت کو یہ اندیشہ ہوا کہ یہ امر میرے صحابہ میں سے ایک گروہ کو ناگوار گزرے گا اور لوگ یہ کہیں گے کہ آنحضرت ﷺ اپنے ابن عم کے نفع کے لیے کہہ رہے ہیں، اس وقت یہ آیت

( يا أيها الرسول بلغ ..... الآية )

(سورۃ المائدہ آیت ۶۷۔)

نازل ہوئی اور بروز غدیر خم آنحضرت ﷺ علی المرتضی کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیکر لوگوں کو دکھایا اور بتلایا

’’من کنت مولاہ فعلی مولاہ‘‘

مصنف نے آگے اصول کافی کی وہی روایت نقل کی ہے جس میں ہے کہ ولایت جناب امیر المؤمنین کا حکم جمعہ کے دن یوم عرفہ کو آیا تھا اور خدا کا یہ حکم تھا کہ اکمال دین اور اتمام نعمت علی بن ابی طالب کی ولایت کا حکم دینے پر موقوف ہے۔ جناب رسالتمآب ﷺ نے عرض کیا کہ میری امت چونکہ ابھی ابھی کفر سے داخل اسلام ہوئی ہے تو اگر میں اپنے ابن عم کے بارے میں یہ اطلاع دوں گا تو کوئی کچھ کہے گا کوئی کچھ ... تو خدا کا دوسرا حکم تاکیدی پہنچا جس میں مجھے عذاب سے ڈرایا گیا تھا اگر میں اس حکم کو نہ پہنچاؤں ، چنانچہ پوری آیت

” يا أيها الرسول بلغ ...... الآیۃ

نازل ہوئی۔ (ترجمہ مقبول ص ۱۸۸، مذکورہ آیت کی تفسیر میں۔)

اور اس مصنف نے کافی کی روایت نقل کی ہے کہ جناب امام باقر  فرماتے ہیں کہ ایک فریضہ کے بعد دوسرا فریضہ برابر نازل ہوتا رہا تھا اور ولایت و امامت سب سے آخری فریضہ ہے اس کے نازل ہو چکنے کے بعد خدا تعالی نے یہ آیت نازل کی

اليوم أكملت لكم دينكم وأتممت عليكم نعمتي

(سورۃ المائدہ آیت نمبر ۳۳)

گویا کہ خدا تعالی فرماتا ہے کہ اب میں کوئی اور واجب نازل نہیں کروں گا۔

(ضمیمہ مقبول ، ص۱۰۰۔)

( یعنی حضرت محمد باقر صاف بتا رہے ہیں کہ ولایت علی کا حکم سب احکام سے آخر میں نازل ہوا)۔ 

احتجاج طبرسی میں انہی حضرت سے منقول ہے کہ جناب رسول خدا ﷺ مدینہ منورہ سے حج کرنے چلے اس حالت میں کہ اپنی قوم کو سوائے حج اور ولایت کے کُل احکام پہنچا چکے تھے۔ جبرئیل امین آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آئے تھے اور یہ پیغام لائے تھے کہ یارسول اللہ ﷺ خدا تعالی آپ کو سلام پہنچاتا ہے اور یہ فرماتا ہے کہ اب آپ پر دو واجب باقی ہیں جن کی ضرورت ہے کہ آپ اپنی قوم کو پہنچادیں ایک فریضہ حج اور دوسرا فریضہ ولایت و خلافت ( اس کے بعد مصنف نے ایک لمبی کہانی ذکر کی ہے جس میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حج کے لیے لوگوں میں اعلان کیا اور ستر ہزار یا ان سے بھی زیادہ لوگ حج پر آئے جب آنحضرت ﷺ نے موقف میں جاکر قیام فرمایا تو جبرئیل امین نے آکر اللہ کا حکم سنایا کہ اب اپنے وصی اور خلیفہ کا اعلان کر دیں ۔  پس جناب رسول خدا ﷺ اپنی قوم سے عموماً اور اہل نفاق و شقاق سے خصوصاً اندیشہ ناک (خوفناک) تھے کہ یہ پھوٹ ڈالیں گے اور کفر کی طرف عود کر یں گے اس لیے جبرئیل امین سے کہا کہ پروردگار عالم سے سوال کرو کہ لوگوں کے شر سے مجھے محفوظ رکھے (یعنی جان کا خطرہ تھا)

پھر جس وقت مسجد خیف میں پہنچے تو جبر ئیل پھر حکم لائے مگر منجانب اللہ حفاظت کا وعدہ نہیں آیا یہاں تک کہ مکہ اور مدینہ کے مابین ”کراع الغمیم“ تک پہنچے پھر جبرئیل امین وہی حکم لائے مگر حفاظت کا وعدہ اب بھی نہیں تھا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اے جبرئیل! مجھے اپنی قوم سے اندیشہ (خوف) ہے ، پھر جب غدیر خم پر پہنچے تو اس وقت جبرئیل انتہائی تاکیدی حکم مع وعدہ حفاظت لے کر آۓ فرمایا

’’یا أيها الرسول بلغ ...... الآية،

صفحہ 2 از 10