مسئلہ خلافت میں اہل تشیع کا دوسرا مؤقف نبوت کے آخری سال…

مسئلہ خلافت میں اہل تشیع کا دوسرا مؤقف نبوت کے آخری سال آخری حکم حضرت علی کی خلافت کا اعلان کرنا تھا  یہ حکم  پہلے نہیں دیا گیا تھا!(قسط 3)

  علامہ علی شیر رحمانی

صفحہ 3 از 10

اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو جمع کر کے ایک طویل خطبہ دیا جس میں فرمایا کہ اللہ نے اس وقت مجھ پر جو حکم نازل کیا ہے اگر میں اسے نہ پہنچاؤں گا تو گویا میں نے اسکی رسالت ہی نہیں پہنچائی اور اس بات کی ضمانت فرمائی ہے کہ وہ مجھے آدمیوں کے شر سے محفوظ رکھے گا۔ جبرئیل میرے پاس تین مرتبہ آئے کہ میں ہر گورے اور کالے کو یہ اطلاع دوں کہ علی بن ابی طالب میرے بھائی اور میرے وصی ، میرے خلیفہ اور میرے بعد امام ہیں۔اے لوگو! میں نے جبرئیل امین سے خواہش کی کہ خدا تعالی مجھے اس حکم کو تم تک پہنچانے سے معافی دے اس لئے کہ میں جانتاہوں کہ متقی تم میں بہت کم ہیں اور منافق زیادہ ہیں مگر اللہ تعالی نے میرا یہ کوئی عذر قبول نہیں فرمایا۔

(ضمیمہ مقبول ، ص ۱۰۰ تا ۱۰۷۔)

نوٹ:

اس میں ہے کہ آپ لوگوں سے ڈر کی وجہ سے بار بار اللہ کا حکم پہنچانے سے انکار کر رہے تھے کہ اس حکم کے پہنچانے سے مجھے معافی دے، مگر اللہ تعالی نے کوئی عذر قبول نہیں کیا اور فرمایا کہ ہر گورے اور کالے کو یہ اطلاع دو کہ علی بن ابی طالب میرے بھائی، میرے وصی، میرے خلیفہ اور میرے بعد امام ہیں لیکن آپ نے ان میں سے کوئی ایک لفظ بھی نہیں فرمایا بلکہ

من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ  ،

مبہم الفاظ کہہ کر بات کو گول مول کر دیا۔ 

تفسیر عیاشی میں زید بن ارقم سے یہ روایت ہے کہ روح الامین عرفہ کی شام کو جناب رسول خداﷺ پر ولایت علی کا حکم لے کر نازل ہوئے اور جناب رسول خدا ﷺ نے منافقوں کی تکذیب کے خوف سے اس حکم کے پہنچانے میں مضائقہ ( تنگی محسوس) کی اور کچھ لوگوں کو جن میں سے میں بھی تھا، بلا کر اس بارے میں مشورہ کیا کہ آیا حج میں یہ احکام سنائے جائیں یا نہیں ؟ ہماری سمجھ میں کچھ نہ آیا کہ کیا جواب دیں۔ جناب رسول خدا ﷺ نے گریہ فرمایا (رونے لگے ) تو جبرئیل امین نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ امر خدا کے پہنچانے سے تنگ دل ہوتے ہیں ؟ ( اور گریہ کرتے ہیں؟) آنحضرت ﷺ نے فرمایا اے جبرئیل! یہ بات نہیں ہے بلکہ میرا پروردگار جانتا ہے کہ قریش کے ہاتھوں سے مجھے کتنی اذیتیں پہنچی ہیں جب کہ انہوں نے میری رسالت کا اقرار نہ کیا تو پروردگار عالم نے ان سے جہاد کا حکم دیا اور آسمان سے میری نصرت کے لئے لشکر بھیجے فرشتوں نے میری مدد کی پھر وہ میرے بعد علی کی ولایت کا اقرار کیونکر کر لیں گے ؟ یہ سن کر جبرئیل امین چلے گئے اور اس کے بعد پروردگار عالم نے یہ آیت نازل فرمائی

” فلعلك تارك بعض ما يوحي إليك وضائق به صدرك ...... الآية،

ترجمہ! پس کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہاری طرف جو وحی بھیجی جاتی ہے تم اس کے کسی حصے کو چھوڑ دو اور تمہارا دل اس بات سے تنگ ہو جائے کہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ ان پر خزانہ کیوں نہ اتر ایا ان کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہ آیا۔

(سورۃ ھود آیت نمبر ۱۲ ترجمه مقبول، ص ۳۵۴۔)

نوٹ:

اس میں بھی یہی ہے کہ خلافت علی کا حکم حج کے موقع پر نازل ہوا تھا، اس سے پہلے نہیں ہوا تھا اور آپ لوگوں کے ڈر کی وجہ سے رو رہے تھے  اور اللہ کا پیغام نہیں پہنچارہے تھے ۔

[۵] تفسیر المیزان: 

مؤلف علامہ فقیه سید محمد حسین طباطبائی ، مترجم فارسی سید محمد باقر موسوی ہمدانی ، دفتر انتشارات اسلامی جامعه مدرسین حوزہ علمیہ قم (ایران)۔

رسول اللہ ﷺ کفار قریش اور وہ عرب جو متعصب تھے ان کو توحید خالص کے ماننے اور بت پرستی کے ترک کرنے کی دعوت دی۔ مشرکین عرب کو جو اہل کتاب سے بڑھ کر خونریز اور خطرناک تھے آپ ﷺ نے ان کو اسلام اور توحید کی دعوت دی لیکن اس قسم کی تہدید اور حفاظت کا وعدہ جو آج کے دن اللہ تعالی نے رسول اللہ ﷺ کو دیا ہے اس وقت نہ دیا۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغام تازه خطرناک ترین ”موضوعاتی است که رسول اللہ صہ بتازگی مامور تبلیغ آن شده است، یعنی یہ نیا پیغام انتہائی خطرناک موضوع ہے جو رسول اللہ ﷺ کو اس کی تبلیغ کا حکم کیا گیا ہے ( کہ اس کے نہ پہنچانے پر سخت تہدید ہے اور لوگوں سے حفاظت کا وعدہ ہے )۔

تفسیر المیزان ج ۶ ، صفحہ ۶۱۔ سورۃ المائدہ آیت

۶۷ کی تفسیر میں

’’ولازمۃ این معنی اینست کہ مقصود از ((ما انزل)) آں حکم تازه و مقصود از ((رسالت)) مجموع دین باشد‘‘

یعنی اور اس کا لازمی معنی یہ ہوگا کہ ’’ما انزل‘‘ کا مقصد وہ تازہ حکم ہے (علی کی خلافت کا حکم ) اور اس کے پہنچانے کا مقصد مجموعہ دین کا (یعنی پورے دین کا) پہنچانا( مقصود) ہو گا۔

(تفسیر المیزان ج ۶، ص ۶۵۔) ۔

( اور المیزان کے مصنف نے تفسیر عیاشی کے حوالے سے جلد ا، اس آیت کی تفسیر میں ۱۵۲ روایت میں لکھا ہے کہ ) تفسیر عیاشی میں روایت ہے کہ خدا تعالی نے اپنے نبی محمد ﷺ کو مامور کیا کہ علی کو لوگوں کے درمیان بعنوان علمیت مقرر کرو۔

”مردم را بولایت وے آنگابی دهد و از ہمیں جھت رسول اللہ صہ تر سید مردم متھمش ساختہ و بزبان بہ طعنش گشود بگویند‘‘۔

یعنی لوگوں کو اس کی ولایت سے آگاہ کر دے اور رسول اللہ ﷺ لوگوں کے خوف سے کہ لوگ تہمت لگائیں گے اور یہ طعنہ دیں گے کہ تمام مسلمانوں میں علی کو نامزد کیا ہے ( پیغام نہیں پہنچایا) تو خدا نے یہ آیت

" يا أيها الرسول بلغ...... الآية

نازل فرمائی۔

’’ ناگزیر رسول اللہ صہ در روز غدیر خم بہ امر ولایت علی عہ قیام نمود۔ تو مجبورا رسول اللہ ﷺ نے غدیر خم کے دن علی کی ولایت کو مقرر کیا۔

(تفسیر المیزان ج ۶ ، صفحہ ۷۷۔)

اور اس کتاب میں امام جعفر صادق سے روایت ہے کہ جس وقت جبرئیل" حجۃ الوداع کے موقع پر علی کی ولایت کے اعلان کے متعلق

"يا أيها الرسول بلغ...... الآية،

لے کر نازل ہوئے تو رسول اللہ ﷺ

’’سه روز در انجام آں مکث کں دتار سید بہ جحفہ و در ایں سہ روز از ترس مردم دست علی رانگرفت واورا بالاۓ دست خود بلند نہ کرد‘‘

یعنی تین دن تک رسول اللہ ﷺ لوگوں کے ڈر سے علی کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر بلند نہیں کیا حتی کہ مقام ”جحفہ “ تک پہنچے تو غدیر کے دن جب اس جگہ پہنچے جس کو ”مھیعۃ“ کہتے ہیں تو آپ سلام پر انتہائی بوجھ رکھا گیا اور کوئی چارہ نہ رہا تو آپ نے اچانک نماز کا اعلان کروایا اور اس کے بعد علی کا ہاتھ پکڑ کر اعلان فرمایا کہ جس کا میں مولا ہوں علی اس کا مولا ہے۔

( تفسیر المیزان ج ۶ ، صفحہ ۷۷۔)

صفحہ 3 از 10