مسئلہ خلافت میں اہل تشیع کا دوسرا مؤقف نبوت کے آخری سال…

مسئلہ خلافت میں اہل تشیع کا دوسرا مؤقف نبوت کے آخری سال آخری حکم حضرت علی کی خلافت کا اعلان کرنا تھا  یہ حکم  پہلے نہیں دیا گیا تھا!(قسط 3)

  علامہ علی شیر رحمانی

صفحہ 4 از 10

اور صاحب بصائر نے اپنی سند کے ساتھ ابو جعفر سے روایت کی ہے کہ یہ آیت ( بلغ ما انزل) علی کی ولایت کے بارے میں نازل ہوئی ہے ، اور کلینی نے کافی میں بھی یہی روایت نقل کی ہے ۔

( تفسیر المیزان ج ۶ ، صفحہ ۷۸۔)

تفسیر مجمع البیان میں طبرسی نے امام جعفر صادق سے اپنے آباواجداد سے روایت ذکر کی ہے کہ جس وقت رسول اللہ ﷺ نے روز غدیر خم علی کو خلیفہ مقرر کر کے فرمایا کہ جس کا میں مولا ہوں اس کا علی بن ابی طالب مولی ہے اور یہ بات مشہور ہو کر نعمان بن حارث فہری تک پہنچی تو حارث نے عرض کیا کہ آپ نے کلمہ لا الہ الا اللہ اور اپنی رسالت کا دستور دیا تو ہم نے اس کی گواہی دی اور آپ نے جہاد ، حج ، نماز ، روزہ اور زکوۃ کا حکم دیا (ہم نے عمل کیا) لیکن آپ نے اس تمام اطاعت پر اکتفاء نہیں کیا جب تک کہ اس بچے کو ہمارا سردار مقرر نہیں کیا اور کہا کہ جس کا میں مولا ہوں علی اس کا مولا ہے۔ ابھی بتاؤ کہ یہ حکم آپ کی طرف سے ہے یا خدا کی طرف سے ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے یہ حکم بھی اسی اللہ کی طرف سے ہے ، حارث بن نعمان فہری نے کہا

’’اللهم ان كان هذا هوالحق من عندك فامطر علينا حجارة من السماء‘

‘یہ کہہ کر رسول اللہ ﷺ کی مجلس سے اٹھ کر چلے گئے تو اللہ تعالی نے اس پر پتھر برساۓ اور اس کو ہلاک کر دیا۔ (تفسیر المیزان، جلد نمبر ۶ صفحه ،۸۴،۸۳۔)

اور تفسیر المیزان کے مصنف نے اس آیت کے بیان میں لکھا ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے رسول کو ایک حکم دیا جس میں تاکید اور تہدید ( دب دینا ہے ) وہ یہ کہ

”پیغام تازه این را ببشر ابلاغ کند“

یعنی یہ تازہ پیغام لوگوں کو پہنچائیں اور ایک یہ کہ اس پیغام پہنچانے میں جو خطرہ ممکن تھا اللہ تعالی نے اس سے نگہبانی کا وعدہ دیا۔

(تفسیر المیزان، جلد نمبر ۶ صفحه ،۵۹۔)

اور آگے لکھا ہے کہ یہ آیت

’’جایش اینجا نیست“

یعنی یہ آیت ( قرآن میں جہاں موجود ہے) اس جگہ کی نہیں ہے”

آگے لکھتا ہے کہ

’’خدابہ رسول خود در صورتی کہ پیغام تازہ را بہ آناں بر ساند وعده حفظ و حر است از خطر د دشمنش رابدهد

یعنی اللہ تعالی نے اپنے رسول کا اس صورت میں کہ یہ تازہ پیغام ان کو پہنچائے تو دشمنوں کے خطرے سے اللہ تعالی حفاظت کا وعدہ دے ۔

(تفسیر المیزان، جلد نمبر ۶ صفحه ۶۷)

اور آگے لکھا ہے کہ

معلوم می شود پیغام تازه خطرناک ترین موضوعاتی است که رسول صہ بہ تازگی مامور آن شده است ‘‘

یعنی معلوم ہوا کہ یہ تازہ پیغام جس کی تبلیغ پر رسول ﷺ کو تازہ طور پر مامور کیا گیا ہے انتہائی خطرناک ہے۔

(تفسیر المیزان، جلد نمبر ۶ صفحه ۶۱)

اور آگے لکھا ہے کہ اس آیت کا رخ اور لہجہ بتا رہا ہے کہ یہ حکم تازہ نازل ہوا ہے۔

’’پس از همه این وجود بخوبی استفاده شد کہ آں چیزی را کہ بتازگی بہ رسول اللہ صہ نازل شدہ‘‘

یعنی ان وجوہات سے بخوبی معلوم ہوا کہ یہ چیز جو رسول اللہ ﷺ پر تازہ نازل کی گئی ہے ، جس کے ساتھ تاکید بھی ہے۔

(تفسیر المیزان، جلد نمبر ۶ صفحه ۶۵)

تبصرہ:

اس سے معلوم ہوا کہ علی کی ولایت کا حکم کلمہ شہادت ، نماز ، روزہ ، حج اور زکوۃ کے بعد نازل ہوا اور یہ خطر ناک موضوع تھا اور تازہ حکم تھا۔ اس کا مطلب کہ پہلے اس کا ذکر تک نہیں ہوا تھا، تب تو امام فرمارہے ہیں کہ یہ آخری حکم تھا اور اس حکم کو امت تک پہنچانے میں رسول اللہ ﷺ لوگوں سے ڈر رہے تھے ، تو اللہ تعالی کی طرف سے تہدید (دھمکیاں) آنے کے بعد بھی مبہم الفاظ میں یہ حکم پہنچایا۔ 

اس تمام تحقیق کا مطلب ہے کہ اس سے پہلے علی کی خلافت کا کوئی نہ حکم آیا تھا اور نہ ہی اعلان ہوا تھا۔ اگر یہ سچ ہے تو پہلا مؤقف /  رخ جس میں ہے کہ نبوت کے تیسرے سال علی کی خلافت کا اعلان ہوا اور وہ مشہور بھی ہوا تھا اس کو کاری ضرب لگتی ہے اور پہلا رخ بالکل باطل ہو جاتا ہے ۔

[۶] البرہان فی تفسیر القرآن: 

مصنف علامة، الثقہ، الثبت، المحدث الخبير والناقد البصیر، السید ہاشم بن السید سلیمان بن السید اسماعیل بن السید عبد الجواد الحسینی البحرانی المتوفی ۱۱۰۷ھ۔

شیعہ مذہب کے اتنے بڑے محقق نے مذکورہ آیت کی تفسیر میں اپنی سند سے آئمہ حضرات سے بارہ عدد روایات نقل کی ہیں ۔ ان تمام روایات کا خلاصہ وہی ہے جو دوسرے مفسرین نے بیان کیا ہے مثلاً رسول اللہ ﷺ پر پہلے نماز، زکوۃ، روزہ پھر حج کا حکم نازل ہوا، اس کے بعد ولایت علی کا حکم جمعہ کے دن جو عرفہ کا دن بھی تھا نازل ہوا، تو رسول اللہ ﷺ لوگوں کی چہ مگوئیوں اور ڈر کی وجہ سے یہ حکم نہیں سنا رہے تھے اس طرح تین دن گزر گئے تو اللہ تعالی نے تاکید کرتے ہوۓ غدیر خم کے مقام پر

“یا أيها الرسول بلغ‘‘

نازل فرمائی اور ساتھ تنبیہ بھی فرمائی کہ اگر آپ نے علی کی ولایت یعنی خلافت کا حکم نہیں پہنچا تو گویا کہ رسالت کا کوئی حکم نہیں پہنچایا۔

’’اتخشی الناس و اللہ یعصمک من الناس‘

کیا تو لوگوں سے ڈرتا ہے ؟ پس اللہ تجھے لوگوں سے بچاۓ گا نازل ہوا۔ 

(البرہان فی تفسیر القرآن ج ۱، ص ۴۸۶،۴۹۰۔)

نوٹ! اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ پر علی کی خلافت کے اعلان کا حکم تمام فرائض کے بعد حجۃ الوداع کے موقع پر نازل ہوا تھا اور رسول اللہ ﷺ نے تین دن تک لوگوں کے ڈر کی وجہ سے خلافت کا اعلان نہیں فرمایا ، جب غدیر خم پر پہنچے تو یہ آیت کریمہ لے کر جبرئیل امین نازل ہوا جس میں ایک قسم کی دھمکی بھی ہے اور لوگوں سے حفاظت کی ضمانت بھی ، اس کے بعد آپ نے فرمایا میں جس کا مولا ہوں علی بھی اس کا مولا ہے۔ 

[۷] تفسير التبيان: 

للشيخ طائف ابي جعفر محمد بن الحسن الطوسى المتوفی ۴۶۰ ہجری مکتب الامین نجف اشرف (عراق) شیعه مذہب کے اس بڑے محقق نے بھی امام باقر اور امام جعفر کا قول نقل کیا ہے ۔

صفحہ 4 از 10