مسئلہ خلافت میں اہل تشیع کا دوسرا مؤقف نبوت کے آخری سال…

مسئلہ خلافت میں اہل تشیع کا دوسرا مؤقف نبوت کے آخری سال آخری حکم حضرت علی کی خلافت کا اعلان کرنا تھا  یہ حکم  پہلے نہیں دیا گیا تھا!(قسط 3)

  علامہ علی شیر رحمانی

صفحہ 5 از 10

ترجمہ: تحقیق اللہ تعالی نے جب نبی کی طرف علی کی خلافت کی وحی فرمائی تو آپ اس بات سے ڈر گئے کہ صحابہ کی ایک جماعت پر یہ اعلان شاق (گراں) گزرے گا، تو اللہ تعالی نے اس کو جرأت دلانے کے لئے یہ آیت نازل فرمائی اس میں نبی کو خطاب ہے اور اس کی تبلیغ کا واجب کرنا ہے۔ ’’و تہدید آلہ ان لم یفعل‘‘ اور آپ کے لئے اس میں تہدید (دب دینا۔معاذاللہ)  ہے ، اگر یہ نہیں کیا یعنی علی کو خلیفہ نہیں بنایا تو  رسالت کی کوئی بات نہیں پہنچائی۔

تفسیر التبیان، ج ۳، ص۵۸۸۔

سورۃ المائدہ کی آیت ۶۷ کی تفسیر میں۔

نوٹ ! اس سے معلوم ہوا کہ خلافت علی کا حکم سب سے آخر میں آیا اور آپ ﷺ لوگوں سے ڈر کی وجہ سے اس حکم کو نہیں پہنچا رہے تھے تو اللہ تعالی نے دھمکی دے دی۔(معاذاللہ)

[۸] تفسیر کبیر منبج الصادقین فی الزام المخالفین: 

از تصنیفات عارف ربانی ملا فتح الله بن شکر اللہ کاشانی،

شیعہ مذہب کے اس کبیر مفسر نے اپنی تفسیر کبیر میں بھی یہی لکھا ہے کہ اس بات پر اہل بیت کا اجماع ہے کہ یہ آیت غدیر خم میں علی بن ابی طالب کے حق میں نازل ہوئی تھی اور مصنف نے حارث بن نعمان فہری کا واقعہ نقل کیا ہے جس میں ہے کہ ہم نے آپ کی کلمہ شہادت کی دعوت کو قبول کر لیا اور نماز ، ز کوۃ، روزہ ، حج اور جہاد ، یہ سارا کچھ ہم نے قبول کیا لیکن آپ اس پر راضی نہیں ہوئے بلکہ اب آپ نے اپنے چچا کے بیٹے کو تمام مسلمانوں پر امیر بنادیا۔ کیا یہ محض آپ کی رائے ہے یا اللہ کا حکم ہے ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہ اللہ کا حکم ہے۔ یہ سن کر وہ اٹھا اور کہنے لگا کہ اے اللہ یہ اگر حق ہے جو محمد (ﷺ ) کہتا ہے تو ہمارے اوپر آسان سے پتھر برسا، تو اس پر پتھر برسے اور وہ ہلاک ہو گیا۔

 منہج الصادقین ، ج ۳، ص ۲۷۳ تا ۲۷۵۔

سورۃ المائدہ کی آیت ۶۷ کی تفسیر میں۔

اور ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کے سامنے امیر المؤمنین کی ولایت دو بار پیش کی ایک بار نصاری کے سامنے مباہلہ کے وقت تو انھوں نے مباہلہ کرنا چھوڑ دیا اور دوسری بار یوم غدیر میں مسلمانوں کے سامنے پیش کی تو اکثر نے موافقت کر دی۔

منہج الصادقین ، ج ۳،، ج ۳، ص۲۷۹۔

سورۃ المائدہ کی آیت ۶۷ کی تفسیر میں۔

نوٹ! اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کے سامنے خلافت حضرت علی کی بات ایک ہی بار غدیر خم کے دن کی تھی۔

[۹] تفسیر نمونه: 

یہ تفسیر دس علماء و مجتہدین کی باہمی کاوش و قلم کا نتیجہ ہے (ان کے نام قسط2 پر دیکھیں۔)

ترجمہ سید صفدر حسین نجفی زیر سرپرستی آیت اللہ العظمی الحاج سید علی رضا سیستانی، زیر نظر استاد محقق آیت اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی، ناشر : مصباح القرآن ٹرسٹ لاہور۔

(اس میں ہے کہ) انتخاب جانشین پیغمبر ہی آخری کار رسالت تھا (کیونکہ) اس آیت کا ایک مخصوص لب ولہجہ ہے جو اسے اس سے پہلی آیات اور اس کے بعد کی آیات سے ممتاز کرتا ہے ۔ اس آیت میں روۓ سخن صرف پیغمبر ﷺ کی طرف ہے اور انہی کی ذمہ داری کو بیان کرتی ہے۔ یہ آیت صراحت اور تاکید کے ساتھ پیغمبر ﷺ کو حکم دے رہی ہے کہ جو کچھ ان پر ان کے پروردگار کی طرف سے نازل ہوا ہے اسے لوگوں تک پہنچادیں۔ اس کے بعد تاکید مزید کے طور پر اس خطرے سے متنبہ کرتا ہے کہ اگر تم نے یہ کام نہ کی تو گویا تم نے کوئی کار رسالت انجام ہی نہیں دیا اس کے بعد پیغمبر کے اضطراب اور پریشانی کو دور کرنے کے لیے تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ خدا تمہیں انکے خطرات سے محفوظ رکھے گا۔ اب سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ آخر وہ کونسا ایسا اہم مقصد و مطلب تھا جس کے پہنچانے کے لئے خداوند تعالی اپنے پیغمبر ﷺ کو اتنی تاکید کے ساتھ حکم دے رہا ہے ؟

” در آں حالیکہ “ کہ جب ہم اس سورت کے نزول کی تاریخ پر غور کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہو تا ہے کہ یہ سورۃ پیغمبر ﷺ کی عمر کے آخری دنوں میں نازل ہوئی ہے ،  حقیقتا اب وہ کونسا اہم مسئلہ تھا جو پیغمبر اکرم ﷺ کی زندگی کے آخری دنوں میں باقی رہ گیا تھا کہ مذکورہ بالا آیت اس قسم کی تاکید کر رہی ہے؟ تو کیا پیغمبر ﷺ کے جانشین کے تعین کے سوا کوئی اور مسئلہ ایسا ہو سکتا ہے جس میں صفات پائی جاتی ہوں ؟ اب ہم ان مختلف روایات کی طرف لوٹتے ہیں جو اہل سنت اور اہل تشیع کے متعدد کتابوں میں آیت مذکورہ بالا کے بارے میں وارد ہوئی ہیں۔ (مصنف نے اہلسنت علماء کے چودہ عدد نام لکھنے کے بعد لکھا ہے کہ ان کے علاوہ اور بھی بہت سے علماء اہلسنت نے آیت مذکورہ میں یہی شان نزول بیان کیا ہے (کہ یہ آیت علی کی شان میں نازل ہوئی ہے اور آگے لکھتا ہے کہ ) اس سے یہ اشتباہ نہیں ہونا چاہیے کہ اس سے ہماری مراد یہ ہے کہ مذکورہ علماء و مفسرین نے اس آیت کے حضرت علی کی شان میں نزول کو قبول بھی کرلیا ہے بلکہ اس سے ہماری مراد یہ ہے کہ انہوں نے اپنی کتابوں میں ان روایات کو (صرف) نقل کیا ہے اگر چہ انہوں نے کسی مشہور روایت کو نقل کرنے کے باوجود قبول نہیں کیا بلکہ ان میں سند کی کمزوریوں کی وجہ سے انہیں رد کیا ہے۔

واقعہ غدیر کا خلاصہ :

پیغمبر اکرم ﷺ کی زندگی کا آخری سال تھا حجۃ الوداع کے مراسم پیغمبر اکرم ﷺ کی ہمراہی میں اختتام پذیر ہوئے۔ اصحاب پیغمبر کی تعداد 90 ہزار یا ایک لاکھ چوبیس ہزار تھی ـ زوال کا وقت نزدیک تھا آہستہ آہستہ جحفہ کی سرزمین اور اس کے بعد خشک اور جلانے والے ”غدیر خم“ کے بیابان نظر آنے لگےـ دراصل یہاں پر ایک چوراہا ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں پر آخری مقصد اور عظیم سفر کا اہم ترین کام انجام پذیر ہونا تھا۔ 

جمعرات کا دن تھا اور ہجرت کا دسواں سال اچانک پیغمبر کی طرف سے ٹھہر جانے کا حکم دیا گیا۔ بہرحال ظہر کی نماز پڑھ لی گئی رسول اللہ ﷺ نے انھیں آگاہ کیا کہ وہ خداوند تعالی کا ایک نیا پیغام سننے کے لئے تیار ہوں۔ جسے ایک مفصل خطبے کے ساتھ بیان کیا جاۓ گا(اس کے بعد مصنف نے حضرت علی کا ہاتھ پکڑ کر

’’من کنت مولاہ فعلی مولاہ‘‘

کی رسول اللہ ﷺ سے روایت نقل کی ہے۔ آگے لکھتا ہے کہ:

اعتراضات اور جوابات:

اہم ترین اعتراض جو حدیث غدیر کے سلسلے میں کیا جا تا ہے یہ ہے کہ ’’مولاہ‘‘ کی معانی میں سے ایک معنی دوست اور یار و مدد گار بھی ہے اور یہ معلوم نہیں کہ یہاں یہ معنی مراد نہ ہو۔

جواب:

صفحہ 5 از 10