مسئلہ خلافت میں اہل تشیع کا دوسرا مؤقف نبوت کے آخری سال…

مسئلہ خلافت میں اہل تشیع کا دوسرا مؤقف نبوت کے آخری سال آخری حکم حضرت علی کی خلافت کا اعلان کرنا تھا  یہ حکم  پہلے نہیں دیا گیا تھا!(قسط 3)

  علامہ علی شیر رحمانی

صفحہ 6 از 10

اس بات کا جواب کوئی مشکل اور پیچیدہ نہیں ہے کیونکہ ہر غیر جانبدار جانتا ہے کہ علی کی دوستی کے ذکر کے لیے ان مقدمات و تشکیلات و خشک جلا دینے والے بیابان کے وسط میں خطبہ پڑھنے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ مسلمانوں کا ایک دوسرے سے دوستی رکھنا ایک بدیہی ترین مسئلہ تھا جو آغاز اسلام سے ہی موجود تھا۔ علاوہ ازیں یہ کوئی ایسا مطلب نہیں تھا جس کی پیغمبر نے اس وقت تک تبلیغ نہ کی ہو ، (یعنی یہ وہ حکم ہوگا جس کی اس سے پہلے پیغمبر نے تبلیغ نہیں کی تھی) بلکہ آپ ﷺ تو بارہا اس کی تبلیغ کر چکے تھے۔ اور یہ کوئی ایسی چیز بھی نہیں تھی جس کے اظہار سے آپ پریشان ہوں اور خدا کو اس کے لیے تسلی اور حفاظت کی ضمانت دینی پڑے، کیا مسلمانوں کے لئے آپس میں ایک دوسرے سے دوستی کر نا کوئی نئی بات تھی جس کے لئے مبارکباد دینے کی ضرورت ہو اور وہ بھی رسول اللہ ﷺ کی عمر کے آخری سال میں۔

تفسیر نمونه جلد نمبر ۳ صفحه ۱۷۵ تا۱۸۶۔

سورۃ المائدہ کی آیت ۶۷ کی تفسیر میں ۔

نوٹ!

شیعہ مذہب کے ان بڑے بڑے آقائوں کی تحقیق کا نتیجہ بھی یہی ہوا کہ مذکورہ آیت کریمہ کا نزول آپ ﷺ کی عمر کے آخری سال میں ہوا اور آیت کریمہ کا انداز بیاں بھی انہوں نے یہ بتایا کہ کوئی ایک نیا پیغام بتایا جارہا ہے جو اس سے پہلے نہیں بتایا گیا دوسرے احکام کی تو آپ سے باربا تبلیغ کر چکے تھے یہ آخری نیا پیغام ایسا اہمیت والا اور مشکل تھا جو آپ ﷺ اس کے ظاہر کرنے سے پریشان ہوئے، جس کی وجہ سے اللہ تعالی کو تسلی اور حفاظت کی ضمانت دینی پڑی اور آیت کریمہ کا نزول بھی خاص علی المرتضی کے لئے تھا اور جو لوگ اس سے حضرت سے دوستی کرنا مراد لیتے ہیں تو شیعہ مصنفین نے ان کو جواب دیا کہ کیا مسلمانوں کی آپس میں ایک دوسرے سے دوستی کرنا کوئی نئی بات تھی؟ اس جواب کا واضح طور پر تقاضا یہ ہے کہ اس آیت کریمہ میں کسی نئی بات کا ذکر ہے اور شیعہ مصنفین کی نظر میں وہ حضرت علی کی خلافت کا حکم ہے۔

اس نتیجے کی بنا پر معلوم ہوا کہ اس (آیت کریمہ) سے پہلے حضرت علی کی خلافت کا ذکر تک نہیں ہوا تھاجب ہی تو یہ نیا حکم کہا گیا ہے۔ ایسی صورت میں شیعہ مصنفین کی وہ تمام روایات جو انہوں نے آیت کریمہ

’وأنذر عشيرتك الأقربين‘‘

کی تفسیر میں نقل کی ہیں کہ نبوت کے تیسرے سال دعوت ذوالعشیرہ میں حضرت علی کی خلافت کا اعلان ہو گیا تھا یہ تمام روایتیں من گھڑت اور بے بنیاد ثابت ہوئیں کیونکہ خلافت علی کا حکم رسول اللہ ﷺ کی آخری عمر میں تازہ حکم آیا تھا۔

[۱۰] تفسیر صافی : 

تالیف فیلسوف الفقہاء، وفقیہ الفلاسفة علامہ استاذ العصر ، ووحيد دھر ہ الولی محمد بن المرتضى الحسن الفیض الکاشانی الملقب ’’بالفیض‘‘ الکاشانی (المتوفی ۱۰۹۱ھ بیروت لبنان ).

شیعہ مذہب کے اس بڑے فلاسافر و محقق نے بھی اپنی تحقیق یہی لکھی ہے کہ یہ آیت حضرت علی کی ولایت کے متعلق نازل ہوئی اور آپ کو حکم ہوا

’ان ينصب عليا للناس وخبرهم بولاية فتخوف‘‘

یعنی حضرت علی کو لوگوں پر (حاکم) مقرر کرو اور ان کو اس کی ولایت کی خبر دے دو۔ پس رسول اللہ ﷺ اپنے اصحاب میں سے ایک جماعت سے ڈرتے تھے (اس لئے علی کو خلیفہ مقرر نہیں کر رہے تھے)۔

(تفسیر صافی، ج ۲، ص ۵۱۔)

اور حضرت امام باقر سے روایت ہے کہ ولایت علی کا حکم جمعہ کے دن جو عرفہ کا دن بھی تھا، نازل ہوا اور دین کا مکمل ہونا ولایت علی بن ابی طالب سے تھا تو رسول اللہ ﷺ نے امت کے خوف کی وجہ سے دل ہی دل میں ولایت علی کو نہ پہنچانے کا سوچا تو اللہ تعالی کی طرف سے دھمکی کے ساتھ حکم آیا

” ان لم ابلغ ان يعذ بنی‘‘

یعنی اگر میں ولایت علی کی تبلیغ نہ کروں گا تو اللہ تعالی مجھے عذاب کرے گا۔ امام باقر سے روایت ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے رسول کو فرمایا کہ ولایت علی کی فرضیت کا اعلان کرو تو لوگوں نے نہیں سمجھا کہ یہ کیا ہے

’’ فامرالله محمداً ان يفسر لهم الولاية كما فسر لهم الصلواة والزكاة والصوم والحج فلما اتاه ذالك من الله ضاق بذالك صدر رسول اللہ و تخوف۔

تو اللہ تعالی نے محمد ﷺ کو حکم کیا کہ نماز ، ز کوۃ، روزہ اور حج کی طرح ولایت یعنی خلافت علی کو کھول کھول کر بیان کرو۔ جب یہ حکم آیا تو رسول اللہ ﷺ کا سینہ تنگ ہوا اور ڈرنے لگے کہ لوگ مجھے جھٹلائیں گے اور پھر جائیں گے (یہ ہی ڈر تھا کہ غدیر پر بھی کھول کھول کر خلافت علی کا اعلان نہیں کیا) امام باقر نے فرمايا:

كانت الفريضة تنزل بعد الفريضة الاخرى وكانت الولاية آخر الفرائض۔۔۔۔قال يقول الله تعالى عزو جل لا انزل علیکم بعدها فريضاً۔

یعنی ایک فرض کے بعد دوسرا فرض نازل ہوتا رہا اور ولایت یعنی خلافت علی آخری فرض تھا۔۔۔امام نے فرمایا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ اس (یعنی خلافت علی کے بعد کوئی فرض نازل نہیں کروں گا۔ اور کتاب الاحتجاج میں امام باقر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ سے حج کے ارادے سے نکلے

’’وقد بلغ جميع الشرائع قومہ غیر الحج و الولایت فاتاہ جبرئیل عہ فقال لہ یا محمد ان اللہ عزوجل يقرئك السلام ويقول......وقد بقى عليك من ذالك فريضتان بما يحتاج ان تبلغهما قومك ’’فريضة الحج و فريضة الولايت والخلافت من بعدك ‘‘

 یعنی آپ ﷺ نے حج اور ولایت کے علاوہ تمام شرعی احکام کی تبلیغ فرمائی تھی تو جبرئیل نے آکر کہا یا محمد ﷺ اللہ تعالی آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ میں کسی نبی اور رسول کو دین مکمل ہونے سے پہلے نہیں اٹھاتا اور تحقیق آپ پر دو فرض باقی ہیں جو اپنی قوم کو پہنچانے کی ضرورت ہے ایک حج اور دوسرا آپ کے بعد ولایت اور خلافت کا فرض (اس کے بعد اس روایت میں ہے کہ ) آپ ﷺ نے جب موقف یعنی عرفہ پر قیام فرمایا تو جبرئیل نے آکر اللہ کا سلام دے کر پیغام دیا کے علی بن ابی طالب کو میرے بندوں پر اپنا خلیفہ مقرر کرو اور ان کو بتاؤ کہ جو اس کو پہچانے وہ مومن ہے اور جو اس کا انکار کرے وہ کافر اور جو اس کی بیعت میں کسی کو شریک کرے وہ مشرک ہے ۔

صفحہ 6 از 10