مسئلہ خلافت میں اہل تشیع کا دوسرا مؤقف نبوت کے آخری سال…

مسئلہ خلافت میں اہل تشیع کا دوسرا مؤقف نبوت کے آخری سال آخری حکم حضرت علی کی خلافت کا اعلان کرنا تھا  یہ حکم  پہلے نہیں دیا گیا تھا!(قسط 3)

  علامہ علی شیر رحمانی

صفحہ 7 از 10

”فخشی رسول اللہ صہ قومہ ...... وسأل جبر ئیل ان يسال بہ العصمت من الناس...... فأخر ذالک الی ان بلغ مسجد الخیف فاتاه جبرئیل في مسجد الخیف فامره ...... حتى الى كراع الغمیم بین المکہ و المدینہ فأتاہ جبرئیل و امره فقال ياجبرئیل انی اخشی قومی ان يكذبوني ولا يقبل قولي في على فرحل فلما بلغ غدير خم قبل الجحفۃ ثلاثۃ امیال اتاہ جبر ئیل علی خمس ساعات من النهاه بالزجر والانتهاء والعصمت من الناس... ... يا ايها الرسول بلغ...... الآية۔

تو رسول ﷺ اپنی قوم سے ڈر رہے تھے اور جبرئیل امین سے کہا کہ وہ اللہ سے سوال کرے کہ وہ مجھے لوگوں سے بچائے ..... تو مسجد خیف تک علی کی خلافت کے اعلان کو مؤخر کر دیا (ٹال دیا) پھر مسجد خیف (منی ) میں جبرئیل نے آکر حکم کیا کہ علی کے خلافت کا اعلان کرو لیکن لوگوں سے بچانے کی اللہ کی طرف سے کوئی ضمانت نہیں لایا (پھر بھی آپ ﷺ نے اللہ کا پیغام نہیں پہنچایا) حتی کہ مکہ اور مدینہ کے در میان ”کراع الغمیم” مقام پر پہنچے پھر جبرئیل نے آکر اللہ کا وہی حکم سنایا (کہ علی کی خلافت کا پیغام پہنچاؤ) لیکن لوگوں سے بچانے کی کوئی ضمانت نہیں آئی ( آپ ﷺ نے پھر بھی پیغام نہیں پہنچایا) پس جب خم غدیر جو جحفہ سے تین میل پہلے ہے پہنچے، جبرئیل دن چڑھے اللہ کی طرف سے ڈانٹ ڈپٹ اور جھڑکیں لے کر آئے اور لوگوں سے بچانے کی ضمانت بھی لے آئے ...... اور یہ آیت سنائی

“یا ایها الرسول بلغ ..... الآیۃ۔”

پھر جب اللہ کی طرف سے یہ حکم آیا تو آپ نے ایک طویل خطبہ دیا جس میں آپ ﷺ نے یہ بتایا کہ اگر میں یہ پیغام نہیں پہنچاتا

’فیحلی منہ قارعة لايدفعها عنی احد“

تو میں عذاب کا مستحق ہو جاؤں گا اور مجھے اس سے کوئی نہیں بچا سکے گا (اور اس میں یہ بھی ہے کہ )

’’ان جبرئیل هبط الى مراراً يامرنی“

جبرئیل میرے پاس بار بار آکر حکم کرتا رہا (لیکن میں ٹالتا رہا) اور اس میں یہ بھی ہے کہ

”وسئلٹ جبرئیل عہ ان یستعفی لی عن تبلیغ ذالک الیکم‘‘

کہ میں نے جبرئیل سے سوال بھی کیا کہ وہ اس (یعنی خلافت) کی تبلیغ کی میرے لیے اللہ سے معافی طلب کرے......

و كل ذالک لایرضی اللہ منی الا ان ابلغ ما انزل الى ثم تلا يا ايها الرسول بلغ ...... الآیۃ

لیکن کسی صورت میں بھی اللہ میرے سے راضی نہیں ہوا سوائے اس کے جو اس نے نازل کیا وہ پہنچاؤں پھر آپ ﷺ نے یہ آیت

”یاایھاالرسول بلغ ..... الآية

تلاوت فرمائی۔

تفسیر صافی ، ج ۲، ص ۵۱ تا ۵۸ بیروت۔

سورۃ المائدہ کی آیت ۶۷ کی تفسیر میں ۔

نوٹ!

شیعہ مذہب کے اس بڑے محقق نے بھی صاف طور پر لکھا ہے کہ خلافت علی کا حکم تمام فرائض کے آخر میں نازل کیا گیا یعنی اس سے پہلے خلافت علی کا حکم نہیں آیا تھا اور یہ بھی وضاحت کے ساتھ لکھا ہے کہ اللہ تعالی کا رسول اللہ ﷺ پر انتہائی زور تھا کہ علی کی خلافت کا اعلان فرمائیں کیونکہ علی کی خلافت سے ہی دین کی تکمیل ہونی ہے لیکن رسول اللہ ﷺ لوگوں کی مخالفت کا بہانہ بناتے ہوئے خلافت علی کا اعلان نہیں فرما رہے تھے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے دیکھا کہ حج کے موقع پر جو اجتماع ہوا ہے، جو دوسری جگہ ممکن نہیں اور اتنے بڑے اجتماع میں مقام عرفات پر بھی آپ ﷺ نے خلافت علی کا پیغام نہیں پہنچایا۔ پھر مسجد خیف میں بھی جبرئیل کے آنے کے باوجود پیغام نہیں پہنچایا اور پھر ”کراع الغمیم‘‘ کے مقام پر بھی اللہ تعالی نے جبرئیل کو بھیجا کہ اس مقام پر علی کی خلافت کا اعلان کرو تب بھی آپ نے اعلان خلافت نہیں فرمایا تو بالآخر غدیر خم کے مقام پر جہاں سے یہ اجتماع منتشر ہونا تھا، ہر ایک اپنے اپنے علاقے کی طرف جانے والا تھا تو اللہ تعالی نے ڈانٹ ڈپٹ اور جھڑکیں دے کر پیغام بھیجا کہ اگر آپ نے اس مقام پر بھی علی کی خلافت کا اعلان کہ علی بن ابی طالب کو میرے بندوں پر اپنا خلیفہ مقرر کرو اور ان کو بتاؤ کہ جو اس کو پہچانے وہ مومن ، اور جو انکار کرے وہ کافر اور جو اس کی بیعت میں کسی کو شریک کرے وہ مشرک ہے ، اگر ان الفاظ میں اعلان نہیں کیا تو سمجھ لو کہ آپ نے رسالت کا کوئی حکم نہیں پہنچایا باقی رہا آپ کو لوگوں کا ڈر تو اس کی میں ضمانت لیتا ہوں کہ لوگ آپ کو کچھ نہ کر سکیں گے (لیکن پھر بھی آپ ﷺ نے اس طرح کہ علی میرا خلیفہ ہے جو اس کو پہچانے وہ مومن اور جو انکار کرے وہ کافر اور جو اس کی بیعت میں کسی کو شریک کرے وہ مشرک، ان الفاظ میں اعلان نہیں کیا)۔

[۱۱] ترجمه و تفسیر فرمان علی: 

از فاضل جلیل حجت الاسلام سید فرمان علی ، ناشر : چاند کمپنی کشمیری بازار لاہور۔

(اس حجۃ الاسلام نے بھی اپنی تحقیق یوں لکھی ہے کہ ) سچ یوں ہے کہ جناب رسالتمآب ﷺ ایک عرصہ سے چاہ رہے تھے کہ علی بن ابی طالب کو اپنا خلیفہ نامزد کر دیں، مگر کچھ ساتھیوں کی مخالفت کے خوف سے اس پر اقدام نہیں کرتے تھے۔ آخر خدا نے یہ تاکیدی حکم یعنی علی کو اپنا خلیفہ نامزد نہ کیا تو رسالت کا کوئی حق ہی ادانہ کیا ( یہ حکم ) نازل کیا تب تو حضرت مجبور ہو گئے اور ایک مقام پر جس کا نام غدیر خم تھا ایک لاکھ آدمیوں کے سامنے اپنا خلیفہ نامزد کیا (لیکن پھر بھی آپ ﷺ نے صاف لفظوں میں خلیفہ نامزد نہیں کیا)۔

ترجمہ و تفسیر فرمان علی شیعہ ، ص ۱۴۲۔

سورۃ المائدہ کی آیت ۶۷ کی تفسیر میں ۔

[۱۲] حق الیقین: 

از تالیفات علامه سید محمد باقر مجلسی، انتشارات علمیہ اسلامیہ بازار شیرازی ایران۔

حدیث غدیر خم امیر المومنین کی امامت کے لئے نص صریح اور متواتر ہے...... مکہ میں جبرئیل امین حجۃ الوداع کے موقع پر آئے اور رسول خدا ﷺ کو اللہ تعالی کی طرف سے سلام پہنچا کر حکم فرمایا کہ علی کو لوگوں کا ہادی اور پیشوا مقرر کرو یہ سن کر آنحضرت ﷺ اس قدر روئے کہ آپ ﷺ کی ریش مبارک تر ہو گئی اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ اے جبرئیل! میری قوم ابھی ابھی جاہلیت و کفر سے نکلی ہے پس اگر میں ان پر کسی اور کو مسلط کروں گا تو کیسے مان سکتے ہیں ؟ جبرئیل واپس چلا گیا۔...... پھر جبرئیل آیا اور کہا کہ

’’یا محمد تمام کن امر خلافت علی را‘‘

یعنی علی کی خلافت کا کام پورا کرو ، پھر آنحضرت ﷺ نے جبرئیل کو منافقوں کی تدبیر سے آگاہ کیا

’’پس جبرئیل بالا رفت‘‘ پھر جبرئیل اوپر گیا۔۔۔

صفحہ 7 از 10