مسئلہ خلافت میں اہل تشیع کا دوسرا مؤقف نبوت کے آخری سال…

مسئلہ خلافت میں اہل تشیع کا دوسرا مؤقف نبوت کے آخری سال آخری حکم حضرت علی کی خلافت کا اعلان کرنا تھا  یہ حکم  پہلے نہیں دیا گیا تھا!(قسط 3)

  علامہ علی شیر رحمانی

صفحہ 8 از 10

آگے مصنف نے تفسیر صافی والی پوری روایت ذکر کی ہے جس میں ہے کہ آپ نے سارا دین پہنچایا ہے ، ابھی دو امر عظیم باقی ہیں جو لوگوں کو تم نے نہیں پہنچائے، ایک حج اور دوسرا خلافت (اور اس میں ہے کہ) بار بار جبرئیل امین آتا رہا اور ہر بار رسول اللہ ﷺ لوگوں کے ڈر سے اللہ کے حکم کو ٹالتا رہا، عرفات میں حکم نہیں پہنچایا پھر مسجد خیف میں جبرئیل آیا آپ ﷺ نے پھر بھی حکم نہیں پہنچایا پھر ”کراع الغمیم ‘‘ پہنچے

“بعض بار جبرئیل آمد ومبالغۃ کرد آنجناب فرمود اے جبرئیل می ترسم ‘‘

یعنی’ کراع الغمیم“ پر جبرئیل نے آکر زور ڈالا (لیکن) آپ ﷺ نے فرمایا اے جبرئیل ! میں ڈرتا ہوں۔۔

جب غدیر خم پر پہنچے جو ”جحفہ“ کے قریب تھا تو جبرئیل دن چڑھے

’’باشدت و تندی و خطاب مقرون العتاب وضامن شدن عصمت او از شر منافقان اصحاب‘‘۔

یعنی سختی اور ڈانٹ ڈپٹ اور سزا آمیز خطاب اور منافقوں کے شر سے ضمانت کا پیغام

’’یا ایہا الرسول بلغ...... الآية

لے کر نازل ہوئے۔

(حق الیقین فارسی ص ۹۶ تا ۱۰۲۔ اردوس ۱۰۸ تا ۱۶۱۔) 

نوٹ!

(اس میں بھی ہے کہ خلافت کا حکم سب سے آخر میں آیا پہلے نہیں آیا تھا لیکن یہ آخری حکم آپ لوگوں کی ڈر کی وجہ سے نہیں پہنچا  رہے تھے بلکہ رورہے تھے بالآخر اللہ تعالی نے ڈانٹ ڈپٹ اور جھڑکیں دیکر مجبور کیا تب جا کہ مبہم الفاظ

” من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ“

کہہ کر بات کو گول مول کر دیا، رحمانی)۔

[۱۳] اثبات الامامت: 

از افادات آیت الله الشيخ محمد حسین قبلہ النجفی مجتهد العصر والزمان صدر مؤتمر علماء شیعہ پاکستان ناشر : مکتبہ السبطین سرگودھا۔

عالم اسلام کے سب سے مستند و معتبر مفسرین اور محدثین اور مؤرخین کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ آیت

” دا فی هدایة“ ۱۸ ذوالج، ۱۰ ہجری

کو بمقام غدیر خم ، سر کار سید المرسلین ﷺ پر جناب امیر المومنین کے بارے میں نازل ہوئی۔ جبکہ آنحضرت ﷺ آخری حج سے واپس تشریف لا رہے تھے ( نازل ہوئی) ۔۔۔ وہ رسول اکرم ﷺ جو واجب تو واجب استحبابی اوامر کے امتثال میں بھی ذرا بھی تقصیر و کوتاہی نہیں فرمایا کرتے تھے وہ ایسے تہدید آمیز وجوبی حکم کے امتثال ( عمل کرنے) میں کس طرح سہل انگیزی کر سکتے تھے ؟ جس کی عدم بجا آوری سے تمام کار رسالت کے ضائع ہونے کا فقط شدید خطرہ ہی نہیں بلکہ یقین تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب مقام غدیر خم میں اس آیت مبارک کا نزول ہوا تو باوجود یہ کہ گرمی کی بڑی شدت تھی سایہ کا کوئی انتظام نہیں تھا عام لوگ ظاہری شدت گرما سے اور کچھ لوگ اس کے علاوہ اندرونی آتش حسد کی حدت (آگ) سے کباب ہوئے جاتے تھے لیکن آنحضرت ﷺ نے ان امور کی پرواہ نہ کی اور خود وہیں رحل اقامت ڈال دیا اور پالانوں کا ممبر تیار کر کے اس فریضہ کی تبلیغ شروع کی ..... اور فرمایا

" من كنت مولاه فعلى مولاه...... الخ

لفظ مولی :

واضح رہے کہ لفظ مولا کلام عرب میں چند معنوں میں استعمال ہوا ہے (یعنی متشابہ ہے) من جملہ ان کے آزاد کردہ غلام ، بیٹا، چچازاد بھائی ، مدد گار ، دوست ، سر دار و حاکم۔ یہاں تک کہ بعض محققین نے اسکی ستائیس معنی شمار کئے ہیں (لیکن ایک معنی بھی اس کا خلیفہ نہیں ہے ، رحمانی).... لیکن اس مقام پر اس سے قطعاً آخری معنی (اولی بالتصرف) یعنی سر دار و حاکم مراد ہیں کیونکہ یہاں پر ایسے قرائن و دلائل عقلیہ و نقلیہ موجود ہیں جو بتاتے ہیں کہ یہاں اس لفظ سے مراد فقط اولی بالتصرف ہی ہے نہ صرف محب اور نہ کوئی اور معنی ۔ جب ان قرائن کی روشنی میں اس لفظ کا بمعنی اولی بالتصرف ہونا ثابت ہو جائے گا تو اس کا خلافت و امامت حضرت امیر المومنین پر نص ہونا بھی واضح و آشکار ہو جائے گا (لیکن متشابہ الفاظ سے کوئی قطعی حکم ثابت نہیں ہوتا)۔

دوسرا قرینہ:

اس حدیث شریف میں حضرت ابن کی وہ خصوصیات بیان کی جارہی ہیں، جس میں اور کوئی شخص آپ کا سھیم و شریک نہیں اور نہ خود آپ کو آج سے پہلے یہ خصوصیت حاصل تھی اور یہ مطلب جب ہی متحقق ہو سکتا ہے کہ جب اس لفظ سے مراد اولی بالتصرف (خلیفه) مراد لیا جائے کیونکہ ناصر و محب ہونا ایسی عمومی صفات ہیں جن میں سب مومنین باہم شریک ہیں اور جناب امیر کو بھی آج سے پہلے یہ صفات حاصل تھیں۔

نوٹ:

( یعنی اس سے پہلے حضرت علی کو صرف خلیفہ نہیں کہا گیا تھا اور نہ ہی خود آپ کو آج سے پہلے یہ خصوصیت حاصل تھی۔ ماننا پڑیگا کہ آج ایک ایسی چیز اور اہم کام کے انجام دینے کا حکم دیا گیا ہے جس میں کو تاہی کرنے سے سب کار رسالت ضایع ہورہا ہے اور وہ خلافت امیر المؤمنین ہی ہے )

تیسرا قرینہ:

اگر یہی عمومی معانی از قسم نصرت و محبت مراد ہوتی تو آنحضرت ﷺ کا اس قدر اہتمام و انتظام جس کا تذکرہ ابھی اوپر کیا جاچکا ہے بالکل لغو و بے معنی ہو کر رہ جائے گا۔ ظاہر ہے کہ اس امر کی تبلیغ کرنا کہ جس کا میں ناصر و دوست ہوں اس کے علی بھی ناصر و دوست ہیں کوئی ایسا اہم کام نہیں جس کے انجام نہ دینے سے پوری رسالت پر پانی پھرتا ہو۔ علاوہ بریں ان معانی کی کئی دفعہ پہلے بھی تبلیغ ہو چکی تھی (یعنی صرف خلافت کی تبلیغ نہیں ہوئی تھی )۔ ملاحظہ ہو آیت مودۃ اور حدیث علی تیری محبت ایمان ہے اور تیرا بغض کفر و نفاق ہے اور دوسری حدیث جس نے علی سے محبت کی یقینا اس نے میرے سے محبت کی اور دوسری بھی بہت سی احادیث ایسی ہیں ( اس لیے ) ماننا پڑے گا کہ آج ایک ایسے نئے اور اہم کام کے انجام دینے کا حکم دیا گیا ہے کہ جس میں کو تاہی کرنے سے سب کار رسالت ضائع ہو رہا ہے وہ کام عملی اعلان امامت و خلافت حضرت امیر المومنین ہی ہے۔

(اثبات امامت، ص ۱۶۱ تا ۱۶۶۔)

نوٹ:

اس سے معلوم ہوا کہ حضرت علی کی خلافت کا حکم ایسا اہم تھا کہ اس کی تبلیغ میں کوتاہی کرنے سے تمام کار رسالت کے ضائع ہونے کا فقط خطرہ ہی نہیں بلکہ یقین تھا اور مولا سے مراد خلیفہ ہی ہے کیونکہ محب اور دوست جیسے القاب تو آپ کو رسول اللہ ﷺ کی طرف سے پہلے ہی مل چکے تھے۔ آج ایک نیا اور اہم لقب دینا تھا جو اس سے پہلے نہیں دیا گیا تھا اور وہ تھا خلافت کا اعلان ۔

نتیجہ:

صفحہ 8 از 10