مسئلہ خلافت میں اہل تشیع کا دوسرا مؤقف نبوت کے آخری سال…

مسئلہ خلافت میں اہل تشیع کا دوسرا مؤقف نبوت کے آخری سال آخری حکم حضرت علی کی خلافت کا اعلان کرنا تھا  یہ حکم  پہلے نہیں دیا گیا تھا!(قسط 3)

  علامہ علی شیر رحمانی

صفحہ 9 از 10

اس آیت اللہ کی تحقیق کا نتیجہ یہ ہوا کہ خلافت علی کا حکم سب سے آخر میں آیا اور انتہائی تاکید کے ساتھ آیا، اس سے پہلے خلافت علی کا کبھی بھی ذکر تک نہیں ہوا تھا۔ اگر یہ تحقیق حق ہے تو پہلے مؤقف/ رخ والی تحقیق کہ نبوت کے تیسرے سال علی کی خلافت کا اعلان ہو چکا تھا وہ باطل ہے اور اگر وہ تحقیق حق ہے تو یہ تحقیق باطل ہے ۔

 [۱۴] شیعت کا مقدمہ:

مصنف حسین الامینی شیعہ مذہب کا انعام یافتہ ہے۔

انتہائی قابل غور امر یہ ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے نماز ، روزہ ، حج ، زکوۃ وغیرہ فرض ہو چکے تھے۔ اب وہ کونسا اہم کام باقی تھا کہ جس کے لئے خداوند متعال کی طرف سے اتنا تاکیدی حکم نازل ہوا، اور عوام الناس کو اس حکم کی اہمیت جتلانے کے لئے اللہ تعالی اپنے رسول ﷺ سے یہ فرمارہے ہیں کہ

”وان لم تفعل فما بلغت رسالتہ“

یعنی اگر تم نے (اے رسول) یہ بات لوگوں تک نہ پہنچائی تو تم نے رسالت کا کوئی کام بھی سر انجام نہیں دیا اور ساتھ ہی یہ بھی کہا جارہا ہے کہ

”والله يعصمك من الناس“

یعنی خدا تمہیں لوگوں کی مخالفت سے محفوظ رکھے گا۔ گویا یہ ایسا حکم تھا کہ جس کے سنانے سے لوگوں کی مخالفت کا بھی اندیشہ تھا۔ (شیعیت کا مقدمہ ، مصنف حسین الامینی ، صفحه ۱۶۵، اشاعت بار چهارم اگست ۲۰۰۴۔) اور اس کتاب کے صفحہ نمبر ۱۶۸ پر لکھا ہے کہ شیعہ اس حدیث میں لفظ مولا سے مراد حاکم و سر دار لیتے ہیں۔

ٹوٹ:

اس انعام یافتہ محقق کی تحقیق بھی یہ ہی ہے کہ نماز ، روزہ ، حج ، زکوۃ کا حکم پہلے نازل ہو چکا تھا، اس کے بعد بھی جو حکم باقی تھا وہ علی کی خلافت یعنی حاکمیت تھا یعنی یہ آخری حکم تھا۔

اس کے علاوہ یہی روایت:

[۱۵] تفسیر قمی: مصنف علی بن ابراہیم قمی، جلدا صفحہ ۱۶۲۔

[۱۶] تفسیر عیاشی: مصنف محمد بن مسعود ابن عیاش، جلد اصفحہ ۳۲۲۔

[۱۷] امالی شیخ صدوق: مصنف شیخ صدوق ، جلد ا صفحه ۳۵۵۔

[۱۸] احتجاج طبرسی: مصنف ابی منصور احمد بن علی بن ابی طالب الطبرسی ، جلد ا صفحہ ۷۰۔

[۱۹] جوامع: مصنف ابي على الفضل بن حسن الطبرسی ، جلد ۱ صفحہ ۳۱۲۔

[۲۰] مجمع البیان: مصنف ابي على الفضل بن حسن الطبرسی ، جلد ۳ صفحہ ۱۵۹۔

[۲۱] البحار الانوار: مصنف ملا باقر مجلسی، جلد ۹ صفحه ۳۰۶۔

[۲۲] بصائر : مصنف محمد بن حسن العطار ، جلد اصفحہ ا، میں بھی موجود ہے۔

خلاصہ:

شیعہ مذہب کے مطابق غدیر خم کے موقع پر حضرت علی کے خلافت کے متعلق متواتر احادیث جن پر تمام مفسرین و محدثین اور مؤرخین کا اتفاق بلکہ اجتماع ہے ان تمام عبارتوں کا مختصر خلاصہ یہ ہے:

ا۔ رسول اللہ ﷺ کو خلافت علی کے لیے ایسی تاکید کی گئی کہ اگر آپ نے اس حکم کی تبلیغ نہیں کی تو یقینا آپ نے دین کے کسی حکم کی تبلیغ نہیں کی ، ایسی تاکید دین کے کسی دوسرے حکم کو پہنچانے کے لیے نہیں کی گئی تھی۔

(نور الثقلین ، ج ۱، ص ۲۵۴۔) 

۲۔ آپ نے پورے دین کی تبلیغ فرمائی صرف دو فرض باقی رہ گئے تھے ایک حج اور دوسرا علی کو خلیفہ مقرر کرنا۔

۳۔ حج کے بعد آخری فرض تھا کہ علی کو خلیفہ مقرر کرو۔

۴۔ اس حکم کے پہنچانے میں یعنی علی کو خلیفہ مقرر کرنے سے رسول اللہ ﷺ تنگ دل ہو رہے تھے ، مضائقہ کا کر رہے تھے، گھبر ارہے تھے اور اتنے رو رہے تھے کہ داڑھی مبارک تر ہو گئی اور اپنے اصحاب سے ڈرتے تھے اس لئے پیغام نہیں پہنچا رہے تھے۔ پھر فرمایا کہ جبرئیل میرے پاس تین بار پیغام لے آئے کہ تمام لوگوں کو اطلاع دو کہ علی میرے وصی ، میرے خلیفہ اور میرے بعد امام ہیں (لیکن پھر بھی ان الفاظ میں اعلان نہیں کیا)۔

(ضمیمہ مقبول، ص ۱۰۰ تا ۱۰۷۔)

۵۔ لفظ مولی سے وہ ہی معنی مراد لی جاۓ گی جو اس میں حضرت علی کا کوئی شریک نہ ہو اور خود حضرت علی کو بھی اس دن سے پہلے وہ خصوصیت حاصل نہ ہو صرف اسی دن ایک اور اہم عہد ہ (یعنی خلافت ) معنی مراد ہو۔

۶- حارث بن نعمان فہری نے کہا ہم نے آپ کی دین کے تمام کاموں میں اطاعت کی لیکن تم نے ان امور پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ اب علی بن ابی طالب کو ہمارے او پر حاکم بنادیا، کیا یہ آپ کی مرضی ہے یا اللہ کا حکم ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہ اللہ کا حکم ہے۔ اس نے انکار کیا تو اس پر اللہ کا عذاب آیا اور اللہ نے یہ آیت نازل کی

’’سال سائل بعذاب واقع.....۔

۷۔ حضرت علی کی خلافت کا حکم لے کر جبرئیل امین عرفات میں آیا اور رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ مجمع عام میں اس مقام پر علی کی خلافت کا اعلان فرمائیں آپ نے لوگوں کے ڈر سے اعلان نہیں کیا۔ پھر مسجد خیف کے مقام پر دوبارہ جبرئیل آیا کہ اس مقام پر خلافت علی کا اعلان کریں ۔ آپ ﷺ نے لوگوں کے ڈر سے پھر بھی اعلان نہیں کیا۔ پھر ”کراع الغمیم “ کے مقام پر جبرئیل نے آکر کہا کہ اس مقام پر خلافت علی کا اعلان فرمائیں لیکن آپ ﷺ لوگوں سے ڈرتے ہوئے اس مقام پر بھی اعلان نہیں کیا حتی کہ اس چوراہے پر پہنچے جہاں سے پورا جمع ایک دوسرے سے جدا ہونا تھا، جس کا نام غدیر خم تھا اور اللہ تعالی نے بھی دیکھا کہ میرے علی کی خلافت کا اعلان نہیں ہو رہا بالآخر ڈانٹ ڈپٹ اور جھڑکوں کے ساتھ پیغام بھیجا کہ اگر اب بھی علی کی خلافت کا اعلان نہیں کیا تو آپ نے رسالت کا کوئی پیغام نہیں پہنچایا۔ باقی آپ کو لوگوں سے جو اپنی جان کا ڈر ہے تو اسکی میں ضمانت لیتا ہوں کہ لوگوں سے میں آپ کو بچاؤں گا۔ تب آپ نے خلافت علی کا اعلان نہ کرنے کی وجہ سے کار رسالت کے ضائع ہونے کے ڈر سے شدید گرمی کے باوجود علی کی خلافت کا صاف لفظوں میں اعلان کرنے کے بجائے متشابہ یعنی گول مول لفظ ”مولی“ کہہ کر اور ”لفظ مولی“ کو محبت کی طرف موڑ کر کہ

’’اللهم وال من والاہ‘‘

یعنی اے میرے اللہ جو علی سے محبت کرے تو بھی اس سے محبت کر۔ اللہ کا حکم بھی پورا کیا اور لوگوں کے نقصان دینے سے بھی بچ گئے۔

[۸] اللہ کی طرف سے تہدید عتاب اور جھڑکنے کے بعد مجبوراً رسول اللہ ﷺ نے

من کنت مولاہ فہذا علی مولاہ

(مبہم) الفاظ سے خلافت علی کا اعلان فرمایا یعنی صاف لفظوں میں دعوت ذوالعشیرہ کی طرح نہیں فرمایا کہ میرے بعد یہ علی میرا خلیفہ ہے جبکہ آپ ﷺ کو حکم تھا کہ ہر گورے و کالے کو یہ اطلاع دو کہ علی بن ابی طالب میرے بھائی، میرے وصی، میرے خلیفہ اور میرے بعد امام ہیں۔

صفحہ 9 از 10