شہادت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے متعلق رسول اللہﷺ کی پیشین…

شہادت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے متعلق رسول اللہﷺ کی پیشین گوئیاں

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

(فضائل الصحابۃ: جلد، 1 صفحہ، 605 اسنادہ صحیح)

ترجمہ: ’’رسول اللہﷺ نے مجھ سے ایک عہد لیا ہے میں اس پر ڈٹا رہوں گا۔‘‘

اس حدیث پاک سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے رسول اللہﷺ کی شدتِ محبت اور اپنے بعد مصالح امت کا حرص واضح ہوتا ہے، چنانچہ آپﷺ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو بعض ان چیزوں کی خبر دی جو اس فتنہ سے متعلق تھیں یعنی فتنہ آپؓ کے قتل پر منتہی ہو گا۔ رسول اللہﷺ نے مکمل طور پر اس کو راز میں رکھنے کا اہتمام فرمایا، ہم تک صرف اتنی ہی بات پہنچی جتنی فتنہ کے دوران میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس سوال کے جواب میں فرمایا کہ کیا آپؓ ان سے قتال نہیں کریں گے؟ تو آپؓ نے فرمایا:

’’رسول اللہﷺ نے مجھ سے ایک عہد لیا ہے میں اس پر ڈٹا رہوں گا۔‘‘

(فضائل الصحابۃ: جلد، 1 صفحہ، 605 اسنادہ صحیح)

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے اس قول سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ رسول اللہﷺ نے انہیں فتنہ بھڑکنے کے وقت صحیح موقف کی طرف رہنمائی فرمائی، اور یہ اس لیے تاکہ فتنہ بڑھنے نہ پائے۔

بعض روایات میں کچھ اضافہ ہے جس سے اس سر گوشی کے بعض پوشیدہ امور سے پردہ ہٹتا ہے، چنانچہ ان روایات میں ہے کہ نبی کریمﷺ نے ان سے فرمایا:

وإن سالوك أن تنخلع من قمیص قمصک الله عزوجل فلا تفعل۔

(فضائل الصحابۃ: جلد، 1 صفحہ، 613 إسنادہ صحیح، الطبقات، ابنِ سعد: جلد، 3 صفحہ، 66۔ 68)

ترجمہ: ’’اگر لوگ تم سے اس قمیص کو اتروانا چاہیں جسے اللہ نے تمہیں پہنایا ہو گا تو ایسا مت کرنا۔‘‘

اس عہد کا مضمون جسے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے، فتنہ اور صبر کی وصیت اور خلافت سے دست بردار نہ ہونے سے متعلق ہے۔ اگرچہ ان احادیث سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ آپؓ ایک دن خلیفہ ہوں گے، اور بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس فتنہ سے متعلق دوسرے وصایا اور ارشادات بھی آپﷺ نے بہم پہنچائے ہوں گے جو صرف سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ہی جانتے تھے، کیوں کہ رسول اللہﷺ نے اس وصیت کو راز میں رکھنے کا بے حد اہتمام فرمایا، چنانچہ جس وقت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے سرگوشی کرنا چاہی آپﷺ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو وہاں سے چلے جانے کا حکم فرمایا، اور پھر وہاں کسی کے نہ ہونے کے باوجود ان سے سرگوشی کی، یہاں تک کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا رنگ متغیر ہو گیا، نیز جو باتیں ان سے سرگوشی میں کہی گئی ہیں ان کی عظمت کا پتہ چلتا ہے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا اس سرگوشی کو فتنہ سے مربوط کرنا واضح دلیل ہے کہ سرگوشی اسی فتنہ سے متعلق تھی جس میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کیا گیا۔

اسی طرح یہ سرگوشی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے ارشادات و توصیات پر مشتمل تھی تاکہ جب خلافت سے دست برداری کا مطالبہ ہو تو صحیح موقف اختیار کریں۔ رسول اللہﷺ نے صرف فتنہ کے وقوع کی خبر دینے پر اکتفا نہ کیا، کیوں کہ اس کی خبر متعدد احادیث میں رسول اللہﷺ اعلانیہ طور پر دے چکے تھے، لہٰذا آپﷺ کی سرگوشی اس بات کی دلیل ہے کہ یہ سرگوشی وقوعِ فتنہ کی خبر کے ساتھ دیگر اور امور پر مشتمل رہی ہو گی۔ رسول اللہﷺ نے اس کو کسی حکمت کے پیشِ نظر پوشیدہ رکھنا چاہا جسے اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔

یہ حدیث پاک سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دورانِ حصار میں قتال کی عدم اجازت کے اصرار کی تفسیر بیان کرتی ہے، اور اسی طرح خلافت سے عدم تنازل کی تفسیر پیش کرتی ہے۔

ان دونوں موقف کے سبب کے سلسلہ میں مؤرخین اور ریسرچ اسکالروں نے اکثر بحث و کرید کی ہے لیکن کسی حل تک نہ پہنچ سکے۔

(فتنۃ مقتل عثمان، محمد عبداللہ الغنان: جلد، 1 صفحہ، 48)

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل کا حادثہ، ان حادثات میں سے ہے جن سے متعلق رسول اللہﷺ نے اپنی زندگی میں غیب سے بیان کیا ہے اور علمِ غیب، صفاتِ الہٰی میں سے ہے، کسی مخلوق کو یہ علم حاصل نہیں، رسول اللہﷺ کو اللہ تعالیٰ نے اس سے باخبر کیا تھا اور آپﷺ کو لوگوں کو اس سے مطلع کرنے کا حکم فرمایا تھا۔

(فتنۃ مقتل عثمان، محمد عبداللہ الغنان: جلد، 1 صفحہ، 48

ارشاد الہٰی ہے:

قُلْ لَا أَمْلِكُ لِنَفْسِی نَفْعًا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللهُ وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِیَ السُّوءُ إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ

(سورة الاعراف: آیت، 188)

ترجمہ: ’’آپ فرما دیجیے کہ میں خود اپنی ذات خاص کے لیے کسی نفع کا اختیار نہیں رکھتا اور نہ کسی ضرر کا مگر اتنا ہی کہ جتنا اللہ نے چاہا ہو، اور اگر میں غیب کی باتیں جانتا ہوتا تو میں بہت سے منافع حاصل کر لیتا اور کوئی نقصان مجھ کو نہ پہنچتا، میں تو محض ڈرانے والا اور بشارت دینے والا ہوں ان لوگوں کو جو ایمان رکھتے ہیں۔‘‘


صفحہ 2 از 2