عزاداری (جواد محدثی کی کتاب پر ایک نظر) - ردِ رافضیت | دفاع…

عزاداری (جواد محدثی کی کتاب پر ایک نظر)

  آیت اللہ برقعی

صفحہ 1 از 5

عزاداری (جواد محدثی کی کتاب پر ایک نظر)

عزاداری کے متعلق چالیس غیر معتبر احادیث 

عزاداری میں رونے رلانے کی فضیلت اور نوحہ و مرثیہ کے حق میں 40 احادیث بہت مشہور اور زبان زد عام ہیں۔ كتاب چہل حديث عزادارى جس کے مولف جواد محدّثى صاحب ہیں،ان کی اس کتاب کا مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوا ہے اور ذاکروں اور علماء کے پاس یہ کتاب عموما ہوتی ہے۔ ہم سے اکثر سوال کیا جاتا ہے کہ رائج عزاداری کے رونے رلانے اور ماتم کے فضائل والی روایات کے ہم لوگ قائل کیون نہیں ہیں،چنانچہ ہم نے ان 40 غیر معتبر روایات کو جو کہ جواد محدثی کی کتاب میں ہے جب دیکھا تو حیران رہ گئے سارے ضعیف،غالی،مجہول،فطحی المذھب لوگوں کی زبانی یہ روایات موجود ہیں۔ان احادیث کے راویوں کے احوال کے لیے ہم نے المفید من معجم الرجال اور جامع احادیث سافٹ ویر نیز درایہ النور سے استفادہ کیا ہے۔آیت اللہ آصف محسنی کی کتاب "مشرعہ بھار الانوار" یا المعتبر من البحار اور استاد علامہ باقر بھبودی کی صحیح الکافی سے بھی استفادہ کیا ہے،تاکہ ان غیر معتبر احادیث کی حقیقت کھل کر سامنے آجائے۔ 

حدیث نمبر :1

قالَ رَسُولُ اللّهِ صلّى اللّه عليه و آله: اِنَّ لِقَتْلِ الْحُسَيْنِ عليه السّلام حَرارَةً فى قُلُوبِ الْمُؤ منينَ لا تَبْرَدُ اَبَداً. 

پیغمبر اکرمۖ نے فرمایا :مومنین کے دلوں میں امام حسینؑ کی شہادت کی ایسی حرارت ہے جو کبھی خاموش نہ ہوگی 

جامع احاديث الشيعه ، ج 12، ص 556 

ابراہیم بن اسحاق الاحمری ضعیف ہے۔احمد بن ابی ھراسہ بھی مجہول ہے۔

حدیث نمبر :2

قال الرّضا عليه السّلام : مَنْ كانَ يَوْمُ عاشورا يَوْمَ مُصيبَتِهِ وَ حُزْنِهِ وَ بُكائِهِ جَعَلَ اللّهُ عَزّوَجَلّ يَوْمَ القيامَةِ يَوْمَ فَرَحِهِ وَ سُرُورِهِ. 

امام رضاؑ نے فرمایا: جو شخص عاشورا کے دن مصیبت اور حزن کی حالت میں رہے تو خداوند عالم ایسے شخص کے لئے روز قیامت خوشی وخرم قرار دیگا یعنی اس دن وہ شخص خوشحال ہوگا۔ 

بحارالانوار، ج 44، ص 284 

محمد بن ابراہیم بن اسحاق طالقانی کی توثیق ثابت نہیں۔

حدیث نمبر :3

ال الرّضا عليه السّلام : انَ اَبى اِذا دَخَلَ شَهْرُ الْمُحَرَّمِ لا يُرى ضاحِكاً وَ كانَتِ الْكِاَّبَةُ تَغْلِبُ عَلَيْهِ حَتّى يَمْضِىَ مِنْهُ عَشْرَةُ اَيّامٍ، فَاِذا كانَ الْيَوْمُ العْاشِرُ كانَ ذلِكَ الْيَوْمُ يَوْمَ مُصيبَتِهِ وَ حُزْنِهِ وَ بُكائِهِ

امام رضاؑ: نے فرمایا:جب محرم کا مہینہ آتا تو میرے والد محترم امام موسی کاظمؑ کو کوئی ہنستے نہیں دیکھتا بلکہ غم کی حالت میں رہتے اور جب دس محرم کا دن آتا تو سارا دن آہ وبکا اور رونے میں گذرتا تھا۔

امالى صدوق ، ص 111 

جعفر بن محمد بن مسرور مجہول ہے۔

حدیث نمبر :4

قالَ رسولُ اللّه صلّى اللّه عليه و آله: يا فاطِمَةُ! كُلُّ عَيْنٍ باكِيَهٌ يَوْمَ الْقيامَةِ اِلاّ عَيْنٌ بَكَتْ عَلى مُصابِ الْحُسَينِ فَاِنِّها ضاحِكَةٌ مُسْتَبْشِرَةٌ بِنَعيمِ الْجَنّةِ. 

پیغمبر اکرمۖ فرماتے ہیں: اے فاطمہ! روز قیامت غم حسینؑ میں رونے والی آنکھ کے علاوہ ہر آنکھ روئے گی بلکہ ایسی آنکھ خوشحال ہوگی اور اسے جنت کی نعمتوں کی بشارت دی جائے گی۔

بحارالانوار، ج 44، ص 293 

بحار الانوار روایت نمبر 37 ،آیت اللہ محسنی کے نزدیک غیر معتبر ہے۔

حدیث نمبر :5

عَنِ الصّادق عليه السّلام : 

نيحَ عَلَى الْحُسَينِ بْنِ عَلي سَنَةً فى كُلِّ يَوْمٍ وَ لَيْلَةٍ وَ ثلاثَ سِنينَ مِنَ الْيَوْمِ الَّذى اُصيبَ فيهِ. 

حضرت صادقؑ فرماتے ہیں: پورا ایک سال دن رات امام حسینؑ کے لئے نوحہ خوانی ہوئی اور روز شہادت سے لےکر تین سال تک سوگواری برپا رہی۔

بحارالانوار، ج 79، ص 102 

بحار کے اس باب 16 التعزية و المأتم و آدابهما و أحكامها میں روایت 2 اور 17 آیت اللہ محسنی نے معتبر کہا ہے لیکن اوپر کی روایت جو 48 نمبر روایت ہے اس باب کی یہ اوپر کی روایت آیت اللہ محسنی کے نزدیک غیر معتبر ہے۔

حدیث نمبر :6

قالَ الصّادق عليه السّلام : قالَ لى اَبى : يا جَعْفَرُ! اَوْقِفْ لى مِنْ مالى كَذا وكذا النّوادِبَ تَنْدُبُنى عَشْرَ سِنينَ بِمنى اَيّامَ مِنى

امام صادقؑ فرماتے ہیں: میرے والد امام باقرؑ نے فرمایا: اے جعفر! اپنے مال سے اتنی مقدار مال نوحہ خوانوں کے لئے وقف کرو تاکہ لوگ حج کے دوران منی میں دس سال تک سوگ منائیں ۔

بحارالانوار، ج 46، ص 220

یہ الکافی میں طبع اسلامیہ میں جلد 5 صفحہ 117 پر بَابُ كَسْبِ النَّائِحَة میں موجود ہے،اور آیت اللہ باقر بھبودی کے مطابق یہ روایت صحیح یا معتبر نہیں ہے اس لیے اس باب میں یہ روایت صحیح الکافی میں شامل نہیں کیا لہذا یہ روایت بھی غیر معتبر ہے۔

حدیث نمبر :7

عَن اَبى هارونَ المكفوفِ قال : دَخَلْتُ عَلى ابى عَبْدِاللّه عليه السّلام فَقالَ لى : اَنْشِدْنى ، فَاءَنْشَدْتُهُ فَقالَ: لا، كَما تُنْشِدوُنَ وَ كَما تَرْثيهِ عِنْدَ قَبْرِه.

ابو ہارون مکفوف نے کہا: میں امام صادقؑ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے مجھ سے اشعار پڑھنے کی فرمائیش کی میں نے شعر پڑھے لیکن آپ نے فرمایا، اس طرح نہیں ! بلکہ جس طرح تم اپنے لئے اشعار پڑھتے ہو اور جس طرح تم امام حسینؑ کی قبر پر مرثیہ خوانی کرتے ہو ۔

بحارالانوار، ج 44، ص 287 

ابوہارون المکفوف مجہیول ہے۔

حدیث نمبر :8

قال الصّادق عليه السّلام : ما مِنْ اَحَدٍ قالَ فى الحُسَينِ شِعْراً فَبَكى وَ اَبكْى بِهِ اِلاّ اَوْجَبَ اللّهُ لَهُ الْجَنّةً وَ غَفَرَ لَهُ. 

امام صادقؑ فرماتے ہیں: جو شخص غم حسینؑ میں اشعار پڑھے اور اس سے روئے اور دوسروں کو بھی رولائے تو خدا وند عالم ایسے شخص پر جنت واجب کرتا ہے اور اسے بخش دیتا ہے۔

رجال شيخ طوسى ، ص 289 

محمد بن سنان ضعیف ہے،اور یہ رجال الکشی ہے۔

نصر بن صباح کی توثقیق ثابت نہیں وہ غالی بلکہ مجہول ہے المفید من معجم الرجال کے مطابق۔

حدیث نمبر :9

قال الصّادق عليه السّلام : مَنْ قالَ فينا بَيْتَ شِعْرٍ بَنَى اللّهُ لَهُ بَيْتاً فىِ الْجَنَّةِ. 

امام صادقؑ: فرماتے ہیں: جو شخص ہم اہل بیتؑ کے لئے ایک شعر پڑھے، خداوند عالم اسے جنت میں ایک گھر عطا کرے گا۔

وسائل الشيعه ، ج 10، ص 467 

صفحہ 1 از 5