عزاداری (جواد محدثی کی کتاب پر ایک نظر) - ردِ رافضیت | دفاع…

عزاداری (جواد محدثی کی کتاب پر ایک نظر)

  آیت اللہ برقعی

صفحہ 2 از 5

یہ بحار الانوار میں بھی موجود روایت ہے ، جلد نمبر 76 میں باب نمبر 108 میں۔لیکن آیت اللہ آصف محسنی فرماتے ہیں کہ باب نمبر 104 سے باب 108 تک مجھے کوئی معتبر سند و مصدر والی روایت نہیں ملی۔ لم اجد فیھا روایۃ معتبرۃ سندا ومصدرا۔

حدیث نمبر :10

قال الصّادق عليه السّلام : اَلْحَمْدُ لِلّهِ الَّذى جَعَلَ فىِ النّاسِ مَنْ يَفِدُ اِلَيْنا وَ يَمْدَحُنا وَ يَرْثى لَنا. 

امام صادقؑ فرماتے ہیں: خدا کا شکر ہے کہ اس نے لوگوں میں سے کچھ ایسے مدح خوان قرار دئے جو ہم اہل بیت کے پاس آتے ہیں اور مرثیہ خوانی کرتے ہیں۔

وسائل الشيعه ، ج 10، ص 469 

علی بن محمد بن سلیمان مجہول ہے۔بحار 98 کا ص 74 ،باب 10 روایت 21 ۔ آیت اللہ محسنی کے مطابق غیر معتبر ہے۔

حدیث نمبر :11

قالَ الرّضا عليه السّلام: يا دِعْبِلُ! اُحِبُّ اَنْ تُنْشِدَنى شِعْراً فَاِنَّ هذِهِ الا يّامَ اَيّامُ حُزْنٍ كانتْ عَلَينا اَهْلِ الْبَيْتِعليهم السّلام . 

امام صادقؑ نے دعبل شاعر سے فرمایا: اے دعبل! مجھے غم حسینؑ کے اشعار پسند ہیں کیونکہ یہ دن ہم خاندان اہل بیتؑ کےلئے غم و اندوہ کے دن ہے، 

جامع احاديث الشيعه ، ج 12، ص 567 

یہ باب باب 44 ما قيل من المراثي فيه صلوات الله عليه میں روایت نمبر 15 ہے جو کہ آیت اللہ آصف محسنی کے نزدیک غیر معتبر ہے۔‏

حدیث نمبر :12

عَن الرّضا عليه السّلام: يا دِعبِلُ! اِرْثِ الحُسَيْنَعليه السّلام فَاَنْتَ ناصِرُنا وَ مادِحُنا ما دُمْتَ حَيّاً فَلا تُقصِرْ عَنْ نَصْرِنا مَا اسْتَطَعْتَ. 

امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: اے دعبل! حسین بن علیؑ کے لئے مرثیہ پڑھو ،تم جب تک زندہ ہو ہمارے مددگار اور مدح خوان رہو اور جتنا ممکن ہوسکے ہمارے ذکر سے کوتاہی نہ کرو۔

جامع احاديث الشيعه ، ج 12، ص 567 

یہ باب باب 44 ما قيل من المراثي فيه صلوات الله عليه میں روایت نمبر 15 ہے جو کہ آیت اللہ آصف محسنی کے نزدیک غیر معتبر ہے۔‏

حدیث نمبر :13

* قال علىُّ عليه السّلام : اِنَّ اللّهَ ... اِخْتارَ لَنا شيعَةً يَنْصُرُونَنا وَ يَفْرَحُونَ بِفَرَحِنا وَ يَحْزَنُونَ لِحُزْنِنا. 

علی علیہ السلام فرماتے ہیں: خدا وند عالم نے ہمارے لئے شیعہ لوگوں کو ہماری مدد کے لئے انتخاب کیا جو کہ ہماری خوشی میں خوشحال اور غم میں غمگین ہوتے ہیں۔

غررالحكم ، ج 1، ص 235 

غرر الحکم میں یہ بلا سند نقل ہے،اصل میں یہ خصال صدوق سے منقول ہے سند کے ساتھ لیکن اس کی سند میں 3 راوی ضعیف ہیں

كتاب الطهارة – السيد الخوئي – ج 8 – شرح ص 350 – 351

على أن سندها ضعيف بمحمد بن سنان وأحمد بن محمد الكوفي وابن جمهور وأبيه أي جمهور نفسه لأنه مهمل ،وقد وردت في طريق آخر للصدوق وهو ضعيف أيضا لوجود القاسم بن يحيى وجده الحسن بن راشد فيه، وهما ضعيفان والحسن هو مولى المنصور ( الضعيف ) بقرينة رواية القاسم عنه 

كتاب الطهارة – السيد الخوئي – ج 8 – شرح ص 442

حدیث نمبر :14

قاَلَ الْحسین عَلَیْہِ السَّلاٰمُ اَنَا قَتِیْلُ الْعِبْرَةِ لَاَیَذْکُرُنِیْ مُوْمِن اِلَّا بَکٰی

حضرت امام حسینؑ فرماتے ہیں: میں عبرت آموز مقتول ہوں اور ہر مومن مجھ پر میری مصیبت کے لئے روئے گا۔

بحارالانوار، ج 44، ص 279 

بحار میں باب 34 میں یہ روایت نمبر 5 ہے جو کہ آیت اللہ آصف محسنی کے نزدیک غیر معتبر ہے۔

حدیث نمبر :15

قالَ الحسينُ عليه السّلام : مَنْ دَمِعَتْ عَيناهُ فينا قَطْرَةً بَوَّاءهُ اللّهُ عَزَّوَجَلّ الجَنَّةَ. 

حسین بن علی علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص ہماری مصیبت پر آنسو کا ایک قطرہ بہائے خدا وند عالم اسے جنت نصیب فرمائےگا۔

احقاق الحق ، ج 5، ص 523 

یہ شرح اخبار اور وسائل الشیعہ میںں بھی قدرے مختلف الفاظ سے منقول ہے ربیع بن المنذر سے جو کہ مجہول راوی ہے۔بشارۃ المصطفی میں جس سند سے یہ روایت ہے اس میں محمد بن ابی عمارہ مجہول راوی ہے۔حسین الاشقر بھی مجہول ہے۔اور محمد بن عمرو بن عقبہ بھی مجہول ہے۔

حدیث نمبر :16

قال على بن الحسين السجّاد عليه السّلام : اَيُّما مُؤ مِنٍ دَمِعَتْ عَيْناهُ لِقَتْلِ الْحُسَيْنِ وَ مَنْ مَعَه حَتّى يَسيلَ عَلى خَدَّيْهِ بَوَّاءَهُ اللّهُ فىِ الْجَنَّةِ غُرَفاً.

امام سجاد علیہ السلام فرماتے ہیں: ہر وہ مومن جو امام حسینؑ اور آپ کے شہداء کے غم میں روئے تو خداوند عالم اس کے بدلے اسے جنت میں ایک مقام عطا کرے گا۔

ينابيع الموده ، ص 429 

یہ روایت تفسیر قمی سے منقول ہے جو کہ آیت اللہ آصف محسنی وغیرہ کے نزدیک غیر معتبر ہے۔بلکہ بھار جلد 44 میں ثواب بکاء میں یہ روایت 21 نمبر پر ہے جو کہ آیت اللہ محسنی کے مطابق غیر معتبر ہے۔

حدیث نمبر :17

قالَ السجّادُ عليه السّلام : اِنّى لَمْ اَذْكُرْ مَصْرَعَ بَنى فاطِمَةَ اِلاّ خَنَقَتْنى لِذلِكَ عَبْرَةٌ. 

امام سجاد علیہ السلام فرماتے ہیں :مجھے جب بھی اولاد فاطمہؑ کی شھادت یاد آتی ہے تو میری آنکھوں سے آنسوجاری ہوجاتے ہیں۔

بحارالانوار، ج 46، ص 109 

باب 6 میں 4 روایات ہیں جو چاروں ہی آیت اللہ محسنی کے مطابق غیر معتبر ہے بشمول اوپر کی روایت جو روایت نمبر 2 ہے۔

محمد بن سہیل البحرین اور امام جعفر کے درماین سند منقطع ہے۔

حدیث نمبر :18

قال الباقرُ عليه السّلام : ْكيهِ وَ يَاءْمُرُ مَنْ فى دارِهِ بِالْبُكاءِ عَلَيْهِ وَ يُقيمُ فى دارِهِ مُصيبَتَهُ بِاِظْهارِ الْجَزَعِ عَلَيْهِ وَ يَتَلاقُونَ بِالبُكاءِ بَعضُهُمْ بَعْضاً فِى البُيُوتِ وَ لِيُعَزِّ بَعْضُهُمْ بَعْضاً بِمُصابِ الْحُسَيْنِ عليه السّلام . 

امام باقر علیہ السلام نے ان افراد کے لئے جو عاشورا کو امام حسینؑ کی زیارت نہیں کرسکتے،فرمایا: ہر شخص اپنے گھر امام حسینؑ پر نوحہ خوانی وعزاداری کرے اور اپنے اہل خانہ کو بھی ایسا ہی دستور دے اور گھر میں عزاداری کے مراسم برپا کرے اور ایک دوسرے کو تعزیت پیش کرے۔

كامل الزيارات ، ص 175 

مالک الجہینی کی وچاقت ثابت نہیں۔

بحار الانوار جلد 98 صفحہ 290 پر باب 24 كيفية زيارته صلوات الله عليه يوم عاشوراء

روایت نمبر 1 ہے ۔جو کہ آیت اللہ محسنی کے مطابق غیر معتبر ہے۔ 

حدیث نمبر :19

صفحہ 2 از 5