عزاداری (جواد محدثی کی کتاب پر ایک نظر) - ردِ رافضیت | دفاع…

عزاداری (جواد محدثی کی کتاب پر ایک نظر)

  آیت اللہ برقعی

صفحہ 4 از 5

قال الصّادق عليه السّلام : اَللّهم ... وَ ارْحَمْ تِلْكَ الاَعْيُنَ الَّتى جَرَتْ دُمُوعُها رَحْمَةً لَنا وَ ارْحَمْ تِلْكَ الْقُلُوبَ الَّتى جَزَعَتْ وَ احْتَرَقَتْ لَنا وَ ارْحَمِ الّصَرْخَةَ الّتى كانَتْ لَنا. 

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: اے خدا ! ہمارے غم میں آنسو بہانے والی آنکھوں پر رحم فرما، ان دلوں پر رحم فرما جو ہمارے غم غمگین ہوں۔ اور ہمارے لئے آہ وبکا کرنے والوں پر رحم فرما۔

بحارالانوار، ج 98، ص 8 

یہ راوی اصل میں غسان البصری ہے نہ کہ حسن البصری ،اور یہ راوی مجہول ہے۔ اور الکافی میں یہ روایت ضعیف ہے۔

حدیث نمبر :28

قالَ الصّادقُ عليه السّلام : مَنْ دَمِعَتْ عَيْنُهُ فينَا دَمْعَةً لِدَمٍ سُفِكَ لَنا اَوْ حَقٍّ لَنا نُقِصْناهُ اَوْ عِرْضٍ اُنْتُهِكَ لَنا اَوْلاَِحَدٍ مِنْ شيعَتِنا بَوَّاءهُ اللّهُ تَعالى بِها فِى الْجَنَّةِ حُقُباً. 

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: جو آنکھ ہماری مظلومیت پر روئے یا ہمارا حق غصب ہونے پر روئے یا ہماری اور ہمارے اصحاب کی آبرو کی حرمت پر روئے تو خداوند عالم اسے ہمیشہ رہنے والی جنت میں داخل کرے گا۔

امالى شيخ مفيد، ص 175 

محمد بن ابی عمارہ الکوفی مجہول ہے۔

حدیث نمبر :29

قالَ الصّادقُ عليه السّلام : لِكُلّ شَيْئٍ ثَوابٌ اِلا الدَمْعَةٌ فينا. 

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: ہر چیز کا کچھ نہ کچھ ثواب ملتا ہے لیکن ہم پر بہائے گئے آنسو کا بے حساب ثواب ملے گا۔

جامع احاديث الشيعه ، ج 12، ص 548 

یہ بحار الانوار کی جلد 44 میں باب ثواب البکاء میں روایت نمبر 25 ہے جو کہ آیت اللہ آصف محسنی کے نزدیک غیر معتبر ہے۔

حدیث نمبر :30

قالَ الصّادقُ عليه السّلام : ما مِنْ عَيْنٍ بَكَتْ لَنا اِلاّ نُعِّمَتْ بَالنَّظَرِ اِلَى الْكَوْثَرِ وَ سُقِيَتْ مِنْهُ. 

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: ہم پر رونے والی آنکھ کا اجر کوثر سے سیراب ہونا ہے۔

جامع احاديث الشيعه ، ج 12، ص 554 

یہ روایت بحار الانوار میں بھی جلد 44 میں صفحہ 278 پر موجود باب ثواب البکاء کی روایات میں سے روایت نمبر 31 کا ایک حصہ ہے جو کہ آیت للہ محسنی کے نزدیک غیر معتبر ہے۔

حدیث نمبر :31

عَنِ الصّادقُ عليه السّلام : يا زُرارَةُ! اِنَّ السَّماءَ بَكَتْ عَلَى الْحُسَيْنِ اَرْبَعينَ صَباحاً. 

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا :اے زرارہ ! آسمان نےچالیس دن تک امام حسینؑ کے غم میں گریہ کیا ہے۔

جامع احاديث الشيعه ، ج 12، ص 552 

اصل میں یہاں راوی علی بن محمد بن سلیم کی بجائے علی بن محمد بن سلیمان ہے جو کہ مجہول ہے۔ 

حدیث نمبر :32

قالَ الصّادقُ عليه السّلام : كُلُّ الْجَزَعِ وَ الْبُكاءِ مَكْرُوهٌ سِوَى الْجَزَعُ وَ الْبُكاءُ عَلَى الحُسَينِ عليه السّلام 

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: مظلومیت امام حسینؑ کے علاوہ غیر کے لئے گریہ کرنا مکروہ ہے۔

بحارالانوار، ج 45، ص 313 

اس باب سے کسی معتبر روایت کی نشاہندہی شیخ محسنی نے نہیں کی البتہ جلد 44 میں صفحہ 280 یہی روایت ہے اور روایت نمبر 9 ہے جو کہ آیت اللہ محسنی کے نزدیک غیر معتبر روایت ہے۔

حدیث نمبر :33

قالَ الصّادقُ عليه السّلام: اِنَّ النَّبىَّ لَمّا جائَتْهُ وَفاةُ جَعْفَرِ بنِ اَبى طالبٍ وَ زَيْدِ بنِ حارِثَةَ كانَ اَذا دَخَلَ بَيْتَهُ كَثُرَ بُكائُهُ عَلَيْهِما جِدّاً وَ يَقولُ: كانا يُحَدِّثانى وَ يُؤانِسانى فَذَهَبا جَميعاً. 

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جب جعفربن ابی طالبؑ و زید بن حارثؒ کی شہادت کی خبر رسول خدا ۖ کو ملی تو اس کے بعد جب آپۖ گھر میں داخل ہوئے، گریہ کیا اور فرمایا: یہ دونوں شہید مجھ سے باتیں کرتے تھے اور میرے مونس تھے، لیکن دونوں دنیا سے چلے گئے ۔

من لايحضره الفقيه ، ج 1، ص 177 

شیخ صدوق نے اس کی کوئی سند نقل نہیں کی ہے۔

حدیث نمبر :34

قالَ الصّادقُ عليه السّلام : نَفَسُ الْمَهْمُومِ لِظُلْمِنا تَسْبيحٌ وَ هَمُّهُ لَنا عِبادَةٌ وَ كِتْمانُ سِرّنا جِهادٌ فى سَبيلِ اللّهِ. ثَمَّ قالَ اَبُو عَبدِاللّهِ عليه السّلام : يَجِبُ اَنْ يُكْتَبَ هذا الْحَديثُ بِالذَّهَبِ. 

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: ہماری مظلمومیت پر غمگین سانس لینا تسبیح شمار ہوتا ہے اور یہ غم عبادت ہے، ہمارا راز چھپانا جہاد ہے، اسکے بعد امام صادق علیہ السلام مزید فرماتے ہیں، یہ حدیث سونے سے لکھنے کے قابل ہے۔

امالى شيخ مفيد، ص 338 

عیسی بن ابی منصور اور مھمد بن سعید بن غزوان مجہول ہیں۔

حدیث نمبر :35

قالَ الصّادقُ عليه السّلام : اَرْبَعَةُ الا فِ مَلَكٍ عِنْدَ قَبْرِ الْحُسَيْنِ عليه السّلام شُعْثٌ غُبْرٌيَبْكُونَهُ اِلى يَوْمِ القِيامَةِ. 

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: چار ہزار غبار آلود فرشتے امام حسینؑ کی قبر کے قریب قیامت تک آپ پر روئیں گے۔

كامل الزيارات ، ص 119 

القاسم بن محمد الجوہری مجہول ہے۔

حدیث نمبر :36

قالَ الرّضا عليه السّلام : يَا ابنَ شَبيبٍ! اِنْ كُنْتَ باكِياً لِشَئٍ فَاْبكِ لِلْحُسَيْنِ بْنِ عَلىّ بْنِ اَبى طالبٍ عليه السّلام فَاِنَّهُ ذُبِحَ كَما يُذْبَحُ الْكَبْشُ. 

امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: اے فرزند شبیب! اگر گریہ کرنا چاہتے ہو تو امام حسینؑ پرگریہ کرو کیونکہ انھیں جانور کی طرح ذبح کیا گیا تھا۔

بحارالانوار، ج 44، ص 286

محمد بن علی ماجیلویہ قمی مجہول ہے۔

حدیث نمبر :37

قالَ الرّضا عليه السّلام : مَنْ جَلَسَ مَجْلِساً يُحْيى فيهِ اَمْرُنا لَمْ يَمُتْ قَلْبُهُ يَوْمَ تَمُوتُ الْقُلُوبُ. 

امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص کسی مجلس میں بیٹھ کر ہمارے ذکر کو زندہ کرے تو ایسا دل قیامت میں نہیں مرے گا جس دن تمام دل مردہ ہوں گے۔

بحارالانوار، ج 44، ص 278 

محمد بن ابراہیم بن اسحاق طالقانی کی توثیق ثابت نہیں۔

حدیث نمبر :38

قالَ الرّضا عليه السّلام : فَعَلى مِثْلِ الْحُسَينِ فَلْيَبْكِ الْباكُونَ فَاِنَّ البُكاءَ عَلَيهِ يَحُطُّ الذُّنُوبَ الْعِظامَ. 

امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: گریہ کرنے والوں کو حسینؑ جیسی شخصیت پر گریہ کرنا چاہیے کیونکہ آپ پر رونے سے بڑے گناہ معاف ہوتے ہیں۔

بحارالانوار، ج 44، ص 284 

جعفر بن محمد بن مسرور مجہول ہے۔

حدیث نمبر :39

صفحہ 4 از 5