شیعہ ختم نبوت کے منکر ہیں سنی و شیعہ مکالمہ (مولانا علی…

شیعہ ختم نبوت کے منکر ہیں سنی و شیعہ مکالمہ (مولانا علی معاویہ، رانا سعید)

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 1 از 2

شیعہ ختم نبوت کے منکر ہیں (سنی و شیعہ مکالمہ)

6/6/2020

مکالمہ: بین السنہ والشیعہ

موضوع: کیا شیعہ ختم نبوت کے منکر ہیں؟

واٹس ایپ گروپ دفاع مکتب اہل بیت (اہل تشیع)

اہلسنت متکلم: مولانا علی معاویہ( فخرالزمان )

شیعہ متکلم: رانا محمد سعید

دعویٰ اہلسنت: شیعہ ختم نبوت کہ منکر ہیں

شیعہ جواب دعویٰ: ہم شیعہ اثنا عشری حضرت محمدﷺ کو آخری نبی مانتے ہیں اور ان کے بعد آئمہ اثنا عشریہ کی امامت کے قائل ہیں اور ان ائمہ میں سے کسی ایک کو نبی نہ تو مانتے ہیں نہ کہتے ہیں۔ جو ہماری طرف یہ بہتان منسوب کرے وہ ملعون ہے۔ کذاب ہے۔


گفتگو 31 مئی 2020 سے 6 جون 2020 سات دن مسلسل جاری رہی۔ سنی مناظر علی معاویہ صاحب مدعی تھے اور پہلے ہی اپنا دعویٰ پیش کر دیا کہ

شیعہ ختم نبوت کے منکر ہیں۔

فریق مخالف شیعہ رانا سعید صاحب تھے، انہوں نے اگرچہ جوابِ دعویٰ پیش کر دیا لیکن اس کے بعد مدعی کو دلائل دینے کا موقعہ دینے کے بجائے ان سے مسلمان ہونے کے تمام شرائط اور کفر کے  تمام لوازمات پوچھنا شروع کر دیے، جبکہ دعویٰ میں نہ مسلمان کا  ذکر تھا اور نہ کافر کا ذکر تھا۔

اس کے بعد شیعہ مناظر نے خاصہ نبوت پر گفتگو شروع کی اور بالآخر عصمت پر لے جا کر گفتگو کو بریک لگادی کیونکہ اس کے بعد وہی مجرم اور  وہی منصف بن گئے۔

بجائے مدعی علی معاویہ صاحب کو دلیل پیش کرنے کا کہتے انہوں نے خود دلیل دے کر اہلسنت کو ہی ختمِ نبوت کا منکر ثابت کرنے کی مذموم کوشش کی۔



 شیعہ دجل:

دونوں فریقین کے بیچ طے یہ ہوا تھا کہ گفتگو اس نکتہ پر ہو گی کہ ختم نبوت کے منکر “شیعہ” ہیں یا نہیں! لیکن کمال مہارت سے ساتوں دن  یہ مسئلہ زیرِ بحث رہا کہ اہلسنت ختم نبوت کے منکر ہیں یا نہیں۔

 رانا سعید صاحب نے ساتوں دن اپنے علم کے بھرپور جوہر  دکھائے۔ موصوف نے اولیاء اور انبیاء کی عصمت ایک جیسی ثابت کرنے کے لئے شاہ اسماعیل  کی ایک عبارت پیش کی



 اور شیعہ مناظر بضد رہے کہ اہلسنت کے ہاں عصمت اولیاء اور عصمتِ انبیاء کرام میں کوئی فرق نہیں ہے، جبکہ انہی کے پیش کئے ہوئے عکس میں خود شاہ اسماعیل کی وضاحت کو سمجھنے سے بھی قاصر رہے کہ اولیاء کی عصمت اور نبیوں کی عصمت ایک جیسی ہونے کے باوجود "حفظ" کہلاتی ہے کیونکہ نبی کا احترام و فضیلت ولی سے کہیں اونچی ہوتی ہے۔

گفتگو اصل دعویٰ: شیعہ ختم نبوت کے منکر ہیں  پر نہ کرنے کی وجہ بھی کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ اہل تشیع کے ہاں منصبِ امامت انبیاء کرام سے بھی اعلی و ارفع ہے۔ (معاذاللہ ثم معاذاللہ)

 اب جو لوگ امام کو انبیاء سے بڑھ کر درجہ دیتے ہوں، ان کے لئے ختم نبوت ہونے یا نہ ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے جو لوگ انبیاء کرام کے تمام اوصاف و اختیارات بلکہ ان سے بڑھ کر اوصاف و اختیارات امام کے لئے مانتے ہوں ختم نبوت مان کر بھی ان کی صحت پر کیا فرق پڑتا ہے،  شیعوں سے اگر پوچھا جائے تو وہ یہی کہیں گے کہ سوا لاکھ انبیاء کرام تو خوامخواہ بھیجے گئے بہتر ہوتا کہ انسانوں کی رہنمائی کے لیے سوا لاکھ امام ہی بھیج دیے جاتے!! (معاذاللہ) جبکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ بعد از نبی کسی ایک امام نے وہ فرائض پورے تک نہ کئے جو خود شیعوں نے اپنی کتب میں ان کے لئے بیان کئے ہیں۔ جب کوئی ان سے پوچھے کہ آخر اتنے امام دنیا میں عوام کو وہ حق تو پہنچا نہ سکے جو شیعیت کے مطابق حق ہے تو جواب آتا ہے کہ سب امام مجبور تھے، پوری زندگی حالتِ تقیہ میں رہے۔

اللہ نہ کرے! اگر سوا لاکھ انبیاء کی جگہ سوا لاکھ امام بھیجے گئے ہوتے اور سب مجبور ہو کر واپس چلے جاتے تو دنیا کا کیا حال ہوتا۔!؟

دوران گفتگو رانا صاحب نے کئی ایسے اقرار بھی کئے جو شیعہ عام طور پر تقیہ کی چادر میں چھپاتے ہیں۔ مثلاً: امام کسی بھی چیز کو حلال وحرام کر سکتا ہے۔ شیعہ امام کو نبی کی طرح واجب الاطاعت مانتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔

حتیٰ کہ یہ اقرار بھی کر لیا کہ نبی کے بعد دین کا اختیار امام کو ہے مطلب واقعی شیعہ ختم نبوت کے منکر ہیں کیونکہ شیعہ کے نزدیک دین بعد از نبی بھی مکمل نہیں ہوا، امام ہر دور میں آ کر دین کو مکمل کرنے میں مصروف رہے۔

تمام اماموں کا طریقہ کار یہ رہا کہ چھپ چھپ کر چند مخصوص لوگوں تک دین کے احکام پہنچاتے رہے۔


بقول رانا صاحب کے۔۔۔

 امام نبی نہیں کہلاتا لیکن دین کا مکمل اختیار اسے حاصل ہے۔ معاذاللہ ثم معاذاللہ 

امام اگر کسی بھی چیز کو حلال و حرام کرسکتا ہے تو مطلب وہ نبی نہیں لیکن کام وہ نبیوں کا ہی کر سکتا ہے۔ معاذاللہ امام اگرچہ نبی نہیں لیکن نبی کی طرح ہی من وعن واجب الاطاعت ہے۔ معاذاللہ 

اب ایک عام بندہ شیعوں سے یہ پوچھنے کا حق تو رکھتا ہے کہ بھائی امام کو صرف نبی نہ مان کر کون سا احسان کر لیا؟؟

میں ایک آسان سی مثال سے شیعوں کے عقیدہ امامت اور ان کے اختیارات کو سمجھاتا ہوں۔

ایک مسافر بس (دین اسلام) کو انجنیئر  (نبی کریمﷺ) نے کمپنی  (اللہ عزوجل) کی خواہش پر بنایا اور اس کی ہدایات کے مطابق ڈرائیور (خلیفہ/جانشین/نمائندہ)  گاڑی چلاتا ہے اور کمپنی کی ہدایات اور انجنیئر کی تربیت کے مطابق مکمل گاڑی کو کنڑول کر کے مسافروں کو بحفاظت منزل تک پہنچاتا ہے۔

ڈرائیور (خلیفہ/جانشین/نمائندہ) بس کے انجن اور کنٹرول (شریعت کے احکام) کو تبدیل کرنے کا اختیار نہیں رکھتا کیونکہ کمپنی نے اعلان کر دیا ہے کہ اب قیامت تک یہی گاڑی منزل تک پہنچائے گی کیونکہ انجنیئرز کے آنے کا سلسلہ روک دیا گیا ہے۔ اس گاڑی کے بنیادی ڈھانچے اور کنٹرول کے طریقے میں تبدیلی کا کسی کو اختیار نہیں ہے۔

اب اگر کوئی طرم خام ڈرائیور کو انجنیئر تو نہ کہے لیکن  انجنیئر والے سب کام  و ذمہ داریاں سونپ دے۔ بلکہ ڈرائیور کو انجنیئر سے بھی بڑھا دے اور اسے انجن میں یا گاڑی کے  کنٹرول میں یعنی گیر ،بریک وغیرہ میں تبدیلی کا اختیار بھی دے دے تو مطلب اس نے کمپنی کے واضح اعلان کا انکار کیا اور اصل انجنیئر کی اہلیت پر بھی سوالیہ نشان لگا دیئے کہ اس نے گاڑی درست نہیں بنائی بلکہ کئی نقص چھوڑ کے گیا ہے۔

صفحہ 1 از 2