شیعہ ختم نبوت کے منکر ہیں سنی و شیعہ مکالمہ (مولانا علی…

شیعہ ختم نبوت کے منکر ہیں سنی و شیعہ مکالمہ (مولانا علی معاویہ، رانا سعید)

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 2

اس کے علاوہ اگر اس بدبخت نے اصل انجنیئر کی بنائی ہوئی  گاڑی کا بنیادی ڈھانچہ بدلنے کا اختیار بھی کسی دوسرے کو دے دیا یا دوسرے ڈرائیور کو بھی اصل انجنیئر جیسا بااختیار سمجھ لیا کہ وہ اپنی مرضی سے انجنیئر (نبی) سے بہتر گاڑی (دین اسلام) بنا سکتا ہے تو مطلب اس کے نزدیک گذشتہ  انجنیئرز( انبیائے کرام) کا سلسلہ ختم نہیں ہوا بس انہیں انجنیئرز نہیں کہنا چاہئے لیکن کام وہی انجنیئرز والے جاری رہیں گے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون

دوسری طرف کمپنی (اللہ عزوجل) نے واضح اپنی ہدایات کی کتاب (قرآن کریم) میں اعلان بھی کر دیا ہے کہ اس انجنیئر (نبی کریم) کے بعد گاڑی (دین اسلام) میں مزید کوئی تبدیلی ممکن نہیں ہے بلکہ گذشتہ سوا لاکھ انجنیئرز کی بنائی گئی گاڑیوں میں سے یہ ماڈل سب سے  بہترین ماڈل ہے۔ اب جسے بھی منزل تک پہنچنا ہے وہ اسی گاڑی (دین اسلام) میں بیٹھ کر پہنچ سکتا ہے۔

ایک عام فہم بھی سمجھ سکتا ہے ختمِ نبوت کا مطلب ہی یہ ہے کہ شریعت کی تعلیمات، وحی کا سلسلہ، پیدائشی عصمت کا حامل ہونا اور حلال و حرام کا اختیار وغیرہ اختتام پذیر ہو چکے ہیں، اگر کوئی ختمِ نبوت کا اقرار بھی کرے اور شریعت میں تبدیلی، غیر نبی کی پیدائشی عصمت کا قائل، وحی کے ذریعے حلال و حرام کا اختیار یا دین میں ردّ و بدل کا اختیار کسی اور کی طرف بھی منسوب کرتا رہے تو یہ براہِ راست  ختم نبوت کا انکار ہے چاہے وہ لاکھ بار ختمِ نبوت کا اقرار کرے۔

جب تک نبوت کے تمام لوازمات کا سلسلہ بھی نبوت کے ساتھ ختم نہ سمجھا جائے اس وقت تک ختم نبوت کا اقرار کوئی معنیٰ نہیں رکھتا۔

پوری گفتگو میں رانا صاحب شاہ اسماعیل کی عبارت کو لے کر اپنا دفاع کرنے کے بجائے اہلسنت پر الزامات کی بوچھاڑ کرتے رہے اور ایسا پہلی بار نہیں ہوا، شیعوں سے جب بھی ان کے  عقائد پر گفتگو کی جائے تو وہ دفاع کرنے کے بجائے گفتگو اور اسی اعتراض کو اہلسنت کی طرف موڑ کر عوام کو گمراہ کرنا  شروع کر دیتے ہیں۔ تحریفِ قرآن ہو یا ختم نبوت! شیعہ دفاع کے بجائے اہلسنت کو ہی تحریف قرآن کا قائل اور ختم نبوت کا منکر ثابت کرنے لگ جاتے ہیں!!

شیعوں کی اس روش سے ثابت ہوتا ہے ان پر لگائے گئے الزامات اتنے مضبوط ہوتے ہیں کہ وہ ان پر گفتگو کرنے سے زیادہ انہی الزامات کو اہلسنت پر عائد کر کے اپنے لوگوں کو مطمئن کرتے ہیں کہ ہم تحریف قرآن کے قائل یا ختم نبوت کے منکر ہیں تو کیا ہوا! اہلسنت بھی تو تحریف قرآن کے قائل اور ختم نبوت کے منکر ہیں!! اس کے علاوہ ان کے پاس کوئی اور آپشن بھی نہیں ہے۔

یہ بھی غور طلب بات ہے کہ شیعہ اہلسنت پر جب وہی الزام عائد کرتے ہیں تو ایسے دلائل دیتے ہیں جن سے اہلسنت کے عقائد بنتے ہی نہیں۔

عقائد اہلسنت قرآن و احادیث نبوی بلکہ شیعہ کے نزدیک بھی  عقائد ائمہ معصومین کے فرامین سے بنتے ہیں، لیکن کمال سادگی سے رانا سعید صاحب اہلسنت  عالم کی ایک عبارت کو اپنی مرضی کا مفہوم پہنا کر مسلسل سات دن اہلسنت عقیدہ ثابت کرتے رہے اور ممبرز کا وقت ضائع کرتے رہے۔

دورانِ گفتگو کئی مواقع پر رانا صاحب کا انداز غیر سنجیدہ اور ہتک آمیز رہا۔ ایک ہی سوال بار بار پوچھ کر یہ ظاہر کرتے رہے کہ سامنے والا عاجز ہے جبکہ سنی مناظر علی معاویہ صاحب انہیں سمجھاتے بھی رہے کہ شرائط طے کر کے اصل مدعا کو زیر بحث لایا جائے جو دعویٰ میں بیان ہوا ہے۔ انہوں نے موضوع اور دعویٰ کے مطابق مختلف شیعہ معتبر کتب کے اسکینز بھی پیش کئے تاکہ گفتگو اصل ٹاپک پر شروع  ہو سکے لیکن ان اسکینز پر بھی کوئی توجہ نہ دی گئی۔


اہل تشیع  امامیہ کے ہاں اجماع ہے کہ امام بھی مثل پیغمبر کی طرح  ابتدائے عمر سے آخر تک (پیدائشی، وھبی) تمام صغییرہ و کبیرہ گناہوں سے پاک و معصوم ہوتا ہے! اس موضوع پر احادیث متواترہ ہیں۔


شیعہ کے نزدیک حضرت آدم علیہ السلام میں کفر کے اصولوں میں سے ایک اصول حرص والا تھا (معاذاللہ) جب ان کو اللہ نے درخت کھانے سے منع کیا تو حرص کی وجہ سے وہ درخت کھایا! اس روایت کو شیعہ محدث علامہ باقر مجلسی نے صحیح  قرار دیا ہے۔


شیعہ کے نزدیک  امامت وہ منصب ہے جو نبوت کی طرح پروردگار عالم کی جانب سے ہدایت خلق کے لئے عطا ہوتا ہے! معاذاللہ  (اصل و اصول شیعہ علامہ سید  ابن حسن نجفی)


شیعہ محدث علامہ مجلسی  کے مطابق انبیاء اور رسولوں میں فرق کرنا ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ بس یہی فرق سمجھ اتا ہے کہ امام کو نبی نہیں کہا جاتا!! (بحار الانوار)


شیعہ کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دین کا اختیار اماموں کے پاس ہے! (اصول کافی)


نبوت غیب کی خبریں آنے کو کہتے ہیں، جب نبوت ختم تو غیب کی خبریں بھی ختم (المیزان فی تفسیر القرآن شیعہ عالم سید محمد حسین الطباطبائی) اس کے باوجود شیعہ کے نزدیک امام غیب کی خبریں بتاتے ہیں۔ (معاذاللہ)

شیعہ فریق رانا سعید صاحب کی طرف سے میں نہ مانوں والی روش شروع سے آخر تک برقرار رہی اور گفتگو بظاہر بے نتیجہ ثابت ہوئی۔ اس کے باوجود رانا سعید صاحب نے دورانِ گفتگو جو اقرار کئے ان کے اسکرین شاٹس دیکھتے ہوئے اہل علم کے لیے ان کے جوابات سے درست نتیجہ نکالنا اتنا مشکل بھی نہیں ہے۔

وَ مَا عَلَیۡنَاۤ  اِلَّا  الۡبَلٰغُ  الۡمُبِیۡنُ ﴿17﴾

اور ہمارے ذمہ تو صرف واضح طور پر پہنچا دینا ہے۔ (سورہ يس: آیت 17)

 

 نوٹ: کتب سیکشن میں اس مناظرے کی پی ڈی ایف موجود ہے۔

لنک


صفحہ 2 از 2