جنگ صفین اور واقعہ تحکیم کے متعلق تاریخی روایات کا حقیقت…

جنگ صفین اور واقعہ تحکیم کے متعلق تاریخی روایات کا حقیقت پسندانہ تجزیہ

  علی رضوان

صفحہ 1 از 6

جنگ صفین اور واقعہ تحکیم
کےمتعلق تاریخی روایات کا حقیقت پسندانہ تجزیہ

واقعہ تحکیم کا پس منظر

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں سے قصاص لینے کے مسئلے پر امت دو حصوں میں بٹ گئی تھی ۔
معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھ صحابہؓ کی جماعت کا یہ موقف تھا کہ ہم علی رضی اللہ عنہ کی بیعت اس وقت کریں گے جب تک عثمان رضی اللہ عنہ کے خون ناحق کا قصاص لیا جائے گا۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا مطالبہ تھا کہ یہ لوگ  (حضرت امیر معاویہ اور ان کا گروہ) بیعت کرلیں پھر بعد میں جب حالات سازگار ہوجائیں گے تو قصاص لے لیا جائے گا۔
معاویہ رضی اللہ عنہ اور انکے ساتھیوں کا موقف یہ تھا کہ چونکہ قاتلین عثمان ہی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خلافت قبول کرنے پر مجبور کرکے سب سے پہلے ان کے ہاتھ پر بیعت کی ہے اور ملک کے انتظام و تدبیر اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے تمام فیصلوں میں وہ پوری طرح دخیل ہیں اسی لئے حضرت علی رضی اللہ نہ خون عثمان کا قصاص لے پارہے ہیں اور نہ ہی اس صورتحال کے برقرار رہتے ہوئے وہ قصاص لے سکیں گے ، لہٰذا فتنہ کے سدباب کی بس یہی صورت ہے کہ یا تو وہ خود قصاص لیکر ان قاتل سبائیوں سے اپنی گلو خلاصی کریں یا پھر ان قاتلوں کو ہمارے حوالہ کردیں تاکہ ہم انکو کیفرکردار تک پہنچا کر پوری ملت اسلامیہ کے زخمی دلوں کو سکون پہنچا سکیں۔
یہ مطالبات ان بلوائیوں/ سبائیوں/قاتلان عثمان کے لیے انتہائی تباہ کن تھے اس لیے ان کی ریشہ دوانیوں اور کوششوں سے مسلمانوں لے ان دونوں گروہوں میں اختلاف بڑھتے گئے اور نہ چاہتے ہوئے بھی ان میں دو جنگیں جنگ جمل اور جنگ صفین ہوگئیں ۔
صفین میں جب جنگ زوروں پر تھی تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے دونوں طرف ہونے والے مسلمانوں کے اس جانی نقصان سے بچنے کے لیے حضرت علی کو قرآن پر مصالحت کی دعوت دی جس کو انہوں نے فورآ  منظور کرلیا اور دونوں طرف جنگ بندی کا اعلان ہوگیا۔
اس جگہ ہم نے تاریخ کی ان مکذوبہ سبائی تفصیلات کو بیان کرنے سے قصدا گریز کیا ہے جن میں بیان کیا گیا ہے اپنی شکست کو قریب دیکھ کر حضرت امیر معاویہ اور عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے قرآن کی بے حرمتی کرتے ہوئے اسے نیزوں پر بلند کردیا تاکہ سیدنا علی کی فوج منتشر ہوجائے اورہم شکست سے بچ جائیں اور یہ کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس جنگ بندی پر راضی نہیں تھے ، باربار اپنی تقریروں (جن میں معاویہ اور مخالف صحابہ کو منافق اور دھوکے باز کہنے اور گالیاں دینے کا ذکر ہے ) کے ذریعے اپنے ساتھیوں کو جنگ جاری رکھنے پر اصرار کرتے اور ابھارتے رہے ، لیکن آپ رضی اللہ عنہ کی اپنی جماعت کے سامنے ایک نہ چلی اور آخر بادل نخواستہ تحکیم پر رضا مند ہوئے۔ 
ان روایات میں راویوں کا جھوٹ اور بہتان کئی باتوں سے ظاہر ہے، اسکی تفصیل ان روایات پر تبصرہ میں آگے آئے گی۔

واقعہ تحکیم 

جنگ بندی کے بعد تحکیم ہوئی یعنی کتاب اللہ کے حکم کےمطابق حضرت علی رضی اللہ کی طرف سے حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ ثالث مقرر ہوئے کہ یہ دونوں کتاب وسنت کے مطابق نزاعی معاملہ کا جو فیصلہ کریں گے وہ فریقین کے لئے قابل قبول ہوگا۔
اس فیصلہ کی شرائط کے متعلق جو ابتدائی دستاویز تیار ہوئیں وہ تاریخ کی سب بڑی کتابوں میں تفصیل کے ساتھ مذکور ہیں ہم طوالت سے بچنے کے لیے اس کے بنیادی نکات کو بیان کرتے ہیں۔
 

1: حضرت علی رضی اللہ اور انکے تمام ساتھیوں اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور انکے تمام ساتھیوں کو مساویہ طور پر اہل ایمان تسلیم کیا گیا۔
2: . دونوں ثالثوں کی عدالت اور انصاف پر فریقین نے اپنے کامل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان کو اس بات کا پابند کیا کہ وہ ایسا فیصلہ کریں جس سے یہ عارضی جنگ بندی مستقل اور پائیدار امن کی صورت اختیار کرے اور دوبارہ اختلاف و جنگ کی صورت پیدا نہ ہونے پائے۔
3: . ثالثوں پر ذمہ داری ڈالی گئی کہ وہ اپنا فیصلہ تحریری طور پر پیش کریں۔
4: . شہادت و مشاورت اور دوسرے تمام ضروری مراحل سے گذرنے کے بعد ثالثوں کے فیصلہ سنانے کے لیے رمضان کا مہینہ مقرر کیا گیا۔

ثالثوں کا فیصلہ

یہ معاہدہ چونکہ خیر القرون میں نبی کامل کے تربیت یافتہ جید اصحاب کی ان دو جماعتوں کے درمیان ہوا تھا جن سے پاکیزہ اور لائق تقلید انسانی گروہ کا روئے زمین پر تصور نہیں کیا جاسکتا ، اس لیے اس تحکیم کے لیے جس طرح کی بہترین شرائط رکھی گئی تھیں فیصلہ بھی انہی کے مطابق آنا یقینی تھا ۔

جبکہ تاریخی روایتوں میں یہاں بات کو بڑے طریقے سے ایک الگ رخ پر موڑ کر فتنہ کا دروازہ کھول دیا گیا،۔تاریخ اس فیصلہ کی تفصیلات میں ان سبائی راویوں کی روایتوں کی بنیاد پر کچھ اور ہی کہانیاں سناتی ہے ۔ معاہدہ کی شرائط پرغور کیجیے ان میں کن باتون کو اہمیت دی گئی اور تاریخ فیصلہ کیا بتاتی ہے ۔ جنگیں اور پھرمعاہدہ قاتلان عثمان سے قصاص کےمتعلق ہوا اور تاریخ میں یہ سبائی راوی انتہائی مکاری سے فیصلہ میں بالکل الٹ خلافت کا تنازعہ بتاتے ہیں اور پھراپنے غیظ القلب کی تسکین کے لیے اصحاب کا ایک دوسرے کو گالیاں دینا، برا بھلا کہنا بتلاتے ہیں ۔

تاریخ طبری، ان اثیر اور ابن خلدون وغیرہ نے فیصلہ کی جو تفصیلات دیں ہیں انکا خلاصہ یہ ہے۔

صفحہ 1 از 6