جنگ صفین اور واقعہ تحکیم کے متعلق تاریخی روایات کا حقیقت…

جنگ صفین اور واقعہ تحکیم کے متعلق تاریخی روایات کا حقیقت پسندانہ تجزیہ

  علی رضوان

صفحہ 2 از 6

"دونوں ثالث مجمع میں آئےجہاں دونوں طرف چار چار سو اصحاب کرام رضوان اللہ اور ان کے علاوہ کچھ غیر جانبدار جید صحابہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ وغیرہ موجود تھے۔ حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ تقریر کرنے کھڑے ہوئے اور کہا کہ ہم دونوں اس بات پر متفق ہوگئے ہیں کہ ہم علی رضی اللہ عنہ اور معاویہ رضی اللہ عنہ دونوں کو خلافت سے معزول کرلیں، پھر لوگ باہمی مشورہ سے جس کو پسند کریں خلیفہ کی حیثیت سے منتخب کرلیں، لہذا میں علی اور معاویہ دونوں کو معزول کرکے معاملہ آپ لوگوں کے ہاتھ میں دیتا ہوں کہ اب آپ جسے چاہیں اپنا نیا امیر بنالیں۔
اس کے بعد حضرت عمروبن العاص رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا کہ جو کچھ میرے ساتھی نے ابھی کہا اسے آپ لوگوں نے سن لیا کہ انہوں نے اپنے آدمی علی رضی اللہ عنہ کو معزول کردیا میں بھی انکی طرح علی رضی اللہ عنہ کو معزول کرتا ہوں اور اپنے آدمی معاویہ رضی اللہ کو خلافت پر قائم رکھتا ہوں۔
یہ سن کر حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ نے حضرت عمرو سے کہا تم نے یہ کیا کیا ؟ خدا تمہیں توفیق نہ دے ، تم نے تو ہمیں دھوکہ دیا ہے اور گنہگار بنے ، تمہاری مثال تو اس کتے کی ہے جس پر بوجھ لادو تو بھی ہانپے ۔
اس کے جواب میں حضرت عمرو نے کہا کہ تمہاری مثال اس گدھے کی ہے جو بوجھ ڈھوئے پھرتا ہے۔
دوسرے صحابہ نے حضرت ابوموسی کو طعنے دینے شروع کیے ۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ نے کہا کہ ابو موسی تمہارے حال پر افسوس ہے کہ تم عمرو کی چالوں کے مقابلے میں بہت کمزور نکلے، حضرت عبد الرحمان بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ابو موسی اگر اس سے پہلے مر گئے ہوتے تو ان کے حق میں ذیادہ اچھا ہوتا "۔
پھر حضرت عمر و بن العاص رضی اللہ عنہ مجمع سے اٹھ کر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور انکو خلافت کی مبارکباد پیش کی ، دوسری طرف حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ اتنے شرمندہ تھے کہ وہ پھر حضرت علی رضی کو منہ بھی نہ دکھا سکے اور سیدھے مکہ چلے گئے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کوفہ پہنچ کر اپنی تقریروں میں مخالف صحابہ کو برا بھلا کہا اور دوبارہ جنگ کی تیاریاں شروع کردیں۔ لیکن ان کے لوگوں نے انکا ساتھ نہ دیا اور خوارج کے فتنے نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے مزید ایک درد سر پیدا کردیا تھا۔

وضاحت طلب امور

1. فیصلہ کی تقریروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور معاویہ رضی اللہ دونوں خلیفہ تھے، پھر حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ نے دونوں کو معزول کردیا اور عمرو رضی اللہ عنہ نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو برقرار رکھا، حالانکہ یہ کسی گری پڑی تاریخی روایت سے بھی ثابت نہیں ہوتا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس واقعہ سے پہلے یا بعد میں اپنی خلافت کا اعلان کرکے اسکے لیے کسی ایک شخص سے بھی بیعت لی ہو ، اس کے مقابلہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ پر بیعت ہوچکی تھی اور انہیں امیرالمومنین و خلیفۃ المسلمین کی حیثیت سے تسلیم کیا جا چکا تھا، صرف حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور انکے ساتھ اصحابہ نے فی الحال بیعت نہیں کی تھی ، وہ بھی اس لیے نہیں کہ وہ خود خلافت کے مدعی تھے بلکہ اس لیے کہ انکا مطالبہ تھا کہ پہلے قاتلان عثمان غنی سے قصاص لے لیا جائے پھر ہم بیعت کریں گے، پھر معاویہ رضی اللہ عنہ کو خلافت پر قائم رکھنے اور علی رضی اللہ عنہ کو معزول کرنے کی داستانیں کس بنیاد پر ؟
2. تحکیم کی دستاویز میں یہ شرط رکھی گئی تھی کہ ثالثوں کا فیصلہ تحریری ہوگا، لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ ثالثوں نے محض تقریریں کیں ،اگر فیصلہ تحریری شکل میں نہیں تھا تو فریقین کی طرف سے شریک مجلس چار چار سو اصحاب اور ان کے علاوہ دوسرے غیر جانبدار بزرگ حضرات میں سے کسی نے تحریری فیصلہ کا مطالبہ کیوں نہیں کیا ؟ روایت دونوں کا مناظرہ دکھاتی ہے جبکہ یہاں تحریری فیصلہ پڑھ کر سنایا جانا تھا۔
3. اس روایت کے مطابق حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ کی (معاذ اللہ) ناسمجھی ، بیوقوفی اور حضرت عمرو رضی اللہ عنہ کی چالاکی کے باوجود دونوں کا کوئی متفقہ فیصلہ سامنے نہیں آیا ، دونوں نے بس ایک دوسرے کو ملامت کی اور کتا گدھا بنایا، نہ مجمع نے دونوں کی تقریروں کے بعد متفقہ طور پر کسی کو منتخب کیا ۔ پھر وہ کون سا فیصلہ ہے جس پر حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ کو خلافت کی مبارکباد دی اور حضرت علی رضی اللہ نے اس پر اپنی ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے اسے رد کیا ؟
4. اس نام نہاد فیصلہ کے بعد حضرت معاویہ رضی اللہ نے اپنی خلافت کی عام بیعت کیوں نہیں لی ؟ کیا انہوں نے بھی فیصلہ کو رد کردیا تھا ؟۔
5. راوی کے مطابق حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے فیصلہ کی علی الاعلان مخالفت اور دونوں ثالثوں کو مجرم گردانے کے بعد شام پر دوبارہ چڑھائی کرنے کی تیاریاں شروع ہوئیں لیکن خارجیوں کے فتنے نے اپنی طرف متوجہ کردیا۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اس کمزوری سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فائدہ اٹھا کر کوفہ پر چڑھائی کیوں نہ کی، اگر وہ خلافت چاہتے تھے تو یہ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو راستے سے ہٹانے کا بہترین موقع تھا، اس ناکام فیصلہ کے بعد جنگ بندی مستقل کیسے ہوگئی، دوبارہ دونوں میں اختلاف کیوں نہ سامنے آیا ؟

یہ چند امور وضاحت طلب ہیں جو اس وقت تک وضاحت طلب ہی رہیں گے جب تک ان روایتوں کے راوی ابو مخنف لوط بن یحیی کی ان دروغ بافیوں کو صحیح تسلیم کیا جاتا رہے گا ۔

فیصلہ پر ایک نظر

صفحہ 2 از 6