جنگ صفین اور واقعہ تحکیم کے متعلق تاریخی روایات کا حقیقت…

جنگ صفین اور واقعہ تحکیم کے متعلق تاریخی روایات کا حقیقت پسندانہ تجزیہ

  علی رضوان

صفحہ 3 از 6

ان وضاحت طلب امور کے علاوہ فیصلہ سے پہلے اور فیصلہ کے بعد کے حالات و واقعات کو بنیاد بنا کر یہ بات یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ اس واقعہ کے متعلق تاریخی کتابوں میں مذکور ثالثوں کے فیصلے کی یہ تمام تفصیلات قطعا غلط، گھڑی ہوئی اور محض اصحاب سے بدظن کرنے کی ایک رافضی سازش ہیں۔ اصل فیصلہ مجموعی طور پر انتہائی کامیاب اور فریقین کے لیے قابل قبول اور عام مسلمانوں کے بہترین مفاد میں تھا کیونکہ :
1. دونوں ثالث ناصرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم بلکہ بعد کے بھی سارے خلفائے راشدین اور صحابہ کے قابل اعتماد لوگ تھے اور ان کی فہم فراست، تدبر و سیاست اور فقہ و دیانت کو دیکھتے ہوئے ان کو ہر دور میں بڑی بڑی ذمہ داریاں اور عہدے عطا کیے گئے تھے ۔ یہ بات ناممکن تھی کہ وہ صرف اس ایک مسئلہ میں فتنہ کا دروازہ کھولنے والا انتہائی غیر دانشمندانہ فیصلہ کرتے ۔
2. اگر ثالثوں نے اپنی ذمہ داریوں کو قطعا فراموش کرکے اور خدانخواستہ دین و دیانت کو بالائے طاق رکھ کر یہ غلط فیصلہ دیا ہوتا تو مجلس میں موجود آٹھ سو سے زائد چیدہ و نمائندہ اصحاب کرام رضوان اللہ خاموش تماشائی نہ بنے رہتے۔ ایسا تو آج کے گئے گذرے دور میں بھی نہیں ہوسکتا چہ جائیکہ عہد صحابہ رضی اللہ میں جہاں منبر پر کھڑے خلیفہ کو دو چادریں پہننے پر پوچھ لیا جاتا تھا کہ سب کو مال غنیمت سے ایک چادر ملی اس نے دو کہاں سے لائیں۔
3. ثالثوں کے تقرر کا مقصد یہی تھا کہ نزاعی مسئلہ  جنگ کے بجائے امن کے ماحول میں طے ہوجائے اور امت خون خرابہ سے محفوظ ہوجائے، یہ بات واضح ہے کہ ثالثوں کے فیصلہ کے بعد رفتہ رفتہ کشیدگی کم ہوتی گئی اور پھر دوبارہ جنگ کی نوبت نہیں آئی، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ثالثوں کے اصل فیصلے (جس کو تاریخ سے غائب کردیا گیا ) سے فریقین مطمئن ہوگئے تھے۔.
4. مزید ابو مخنف لوط مردود کی ان وضعی داستانوں پر یقین کرنے سے صحابہ کرام جیسی مقدس جماعت کی جو گھناؤنی تصویر ابھرتی ہے وہ تو اپنی جگہ اس کے ساتھ یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ (نعوذ باللہ) وہ بد قسمت انسان تھے جن کا نہ کوئی سچا ہمدرد اور خیرخواہ تھا اور نہ انکی بات کو کوئی تسلیم کرتا تھا اور خود آپ اس قدر کمزور قوت فیصلہ کے مالک تھے کہ ہر دفعہ آپ کو دوسروں کی رائے تسلیم کرنی پڑتی تھی۔ آپ ابو موسی کے بجائے مالک بن اشتر کو ثالث بنانا چاہتے تھے لیکن آپکی مرضی نہ چلی ، آپ قرآن کو نیزوں پر اٹھانے کے بعد بھی جنگ جاری رکھنا چاہتے تھے، آپ نے اس کے لیے جوش آور تقریریں کیں اور دین کا واسطہ دیکر بھی جنگ کا حکم دیا اس کے علاوہ تحکیم کے فیصلہ کے بعد عراق جاکر بھی دوبارہ شام پر چڑھائی کرنے کے لیے اپنے حواریوں کو حکم دیا لیکن آپ ایسے کمزور اور مجبور خلیفہ تھے کہ آپ کے واسطے دینے پر بھی کسی نے آپکی بات نہ ما نی۔
نعوذ باللہ من ھذہ الخرافات الباطلہ۔

ثالثوں کی شخصیت

حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ

صفحہ 3 از 6