جنگ صفین اور واقعہ تحکیم کے متعلق تاریخی روایات کا حقیقت…

جنگ صفین اور واقعہ تحکیم کے متعلق تاریخی روایات کا حقیقت پسندانہ تجزیہ

  علی رضوان

صفحہ 5 از 6

حضرت ابو وائل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ہم صفین میں تھے تو جب اہل شام کے ساتھ جنگ خوب زور پکڑ گئی ، شامی ایک ٹیلے پر چڑھ گئے ، پھر حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے  امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ علی رضی اللہ عنہ کی طرف قرآن بھیج کر ان کو کتاب اللہ کی طرف دعوت دیں، وہ ہرگز انکار نہ کریں گے، تب قرآن لیکر ایک آدمی معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے آیا پھر اس نے کہا کہ ہمارے اور آپ کے درمیان یہ اللہ کی کتاب فیصلہ کرنے والی ہے تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا ہاں میں تو اس کا زیادہ حقدار ہوں ، ٹھیک ہے ہمارے اور تمہارے درمیان یہ کتاب اللہ ہے جو فیصلہ کرے "۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے جنگ صفین میں شرکت کرنے والے صحابی حضرت ابو وائل رضی اللہ عنہ کی اس روایت سے پتا چلتا ہے کہ عمرو بن العاص رضی اللہ کے مشورے سے نہ تو قرآن کو نیزوں پر بلند کرکے بے حرمتی کی گئی ، نہ علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں تفرقہ پھیلانے کے لیے اور شکست سے بچنے کے لیے یہ ایک جنگی چال تھی ۔ حضرت عمرو رضی اللہ عنہ کو اس بات کا احساس تھا کہ سبائیوں اور قاتلان عثمان نے اپنی جان بچانے کے لیے یہ جنگ ایک چال کے طور پر مسلمانوں کے درمیان شروع کروا دی ہے جس سے دونوں طرف مسلمان شہید ہورہے ہیں ، انہوں نے مسلمانوں کو اس بڑے جانی نقصان سے بچانے کے لیے یہ مخلصانہ کوشش کی اور ایک آدمی کو قرآن دے کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج کر ان کو یہ پیش کش کی ہم اس فتنہ میں قرآن کو اپنا حکم بنا لیں اور اسی کے مطابق فیصلہ کرلیں، جسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہ کہہ کر منظور کرلیا کہ میں تو قرآن کے فیصلہ کی طرف دعوت دینے اور اس پر عمل کرنے کا ذیادہ حقدار ہوں ، چنانچہ بعد میں اسی مشورہ کے مطابق واقعہ تحکیم ہوا اور اللہ نے مسلمانوں کو حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے ذریعے ایک بڑے جانی نقصان اور فتنہ سے بچا لیا۔
غور کریں کہ اس واضح اور ایک صحابی کی مستند روایت کی تاریخ ابن کثیر میں موجودگی کے باوجود کس طرح ابو مخنف سبائی کی اس داستان کا انتخاب کرکے گرما گرم سرخیوں کے ساتھ اسلامی تاریخی کتابوں میں پیش کیا گیا ہے۔ ابو مخنف اپنی گھڑی ہوئی اس روایت میں آگے حضرت علی رضی اللہ کی ایک تقریر بھی پیش کرتا ہے جو انہوں نے حضرت عمرو بن العاص کی اس ' جنگی چال ' کو سمجھ کر عراق والوں کے سامنے کی ۔ پڑھیے اور سردھنیے

" یہ معاویہ، یہ عمرو بن العاص، یہ ابن ابی معیط اور حبیب بن مسلمہ اور یہ ابن ابی سرح اور ضحاک بن قیس نہ اصحاب دین ہیں نہ اصحاب قرآن ، میں انہیں تم سے ذیادہ جانتا ہوں، بچپن سے ان کا میرا ساتھ رہا ہے، یہ بدترین بچے تھے اور بدترین مرد ہیں، انہوں نے قرآن بلند کرنے کی یہ حرکت محض دھوکہ دینے کے لیے کی ہے ، خود انہیں قرآن سے کچھ تعلق نہیں ہے"۔ 

کیا اس پر یقین کیا جاسکتا ہے کہ داماد رسول حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان جلیل القدر اصحاب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ، حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ، حضرت ابن ابی معیط رضی اللہ عنہ حضرت حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ حضرت ابن ابی سرح رضی اللہ عنہ اور حضرت ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتنی بازاری زبان استعمال کی ہو ؟

کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان اعتماد یافتہ صحابیوں کو حضرت علی رضی اللہ عنہ دین وایمان سے خارج گردان سکتے تھے ؟ 

بدترین بچے اور بدترین مرد کون ہیں؟ 

وہ کاتب وحی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ جن کے لیے حضور نے ھادی ومہدی کی دعا کی ، وہ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ جنکو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نے غزوہ ذات السلاسل کا کمانڈر مقرر فرمایا اور ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہ جیسے اجلہ صحابہ کو انکی ماتحتی میں جہاد کرنے کے لیے بھیجا اور اپنی وفات تک انہیں عمان کا والی مقرر کیے رکھا ؟ 

کیا یہ لوگ اپنے مقصد کے لیے قرآن پھاڑ کر ان کے اوراق نیزوں پر بلند کراسکتے ہیں، کیا ان کے ساتھ پانچ سو لوگ اور صحابہ قرآن کی اس طرح بے حرمتی کرسکتے ہیں اور پھر خود حضرت علی رضی اللہ عنہ قرآن کے نیزوں پر بلند ہونے کے بعد بھی ایسی جنگ جاری رکھنے کے لیے تقریر کرسکتے ہیں جس کے نتیجے میں قرآن کا لوگوں کے پاؤں تلے روندھے جانے کا خدشہ ہو؟ 

غور فرمائیں کہ یہ سبائی رافضی دروغ گو راوی صحابہ و اہلبیت کے کردار کو مجروع کرنے کے لیے کس حد تک گئے ہیں کہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ذمہ بھی ایک ایسی تقریر لگادی جو بالکل ان کے شایان شان نہیں۔ 

اور پھر حیرت ہے ان سنی مؤرخین پر جنہوں نے بغیر تحقیق کے ان کہانیوں کو اسلامی تاریخ کے نام پر اپنی کتابوں میں ذکر کردیا ۔ 

مزید حضرت علی رضی اللہ عنہ کیسے حضرت معاویہ کے خلاف یہ زبان درازی کرسکتے ہیں حالانکہ تاریخ بتاتی ہے کہ وہ خود لوگوں کو اس سے روکتے تھے ۔ 

جنگ صفین کے سلسلے میں جو لوگ حضرت معاویہ کے متعلق زبان درازی کرتے تھے، تو آپ نے انہیں اس سے روک دیتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ امارت معاویہ رضی اللہ عنہ کو برا نہ سمجھو، کیونکہ وہ جس وقت نہ ہوں گے تو تم سروں کو گردنوں سے اڑتے ہوئے دیکھو گے ۔ ( تاریخ ابن کثیر جلد8 صفحہ 131)

حقیقت میں جنگ صفین کو ختم کروا کر ثالثی کے ذریعے مستقل جنگ بندی کروادینا ہی حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کا وہ کارنامہ تھا جس نے سبائیوں کی مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کے لیے کی جانے والی ساری محنتوں اور تمام منصوبوں پر پانی پھیر دیا ، اس لیے انہوں نے انہی واقعات کو لے کر انکی کردار کشی کی مہم چلائی ۔

صفحہ 5 از 6