جنگ صفین اور واقعہ تحکیم کے متعلق تاریخی روایات کا حقیقت…

جنگ صفین اور واقعہ تحکیم کے متعلق تاریخی روایات کا حقیقت پسندانہ تجزیہ

  علی رضوان

صفحہ 6 از 6

افسوس یہ ہے کہ ابو مخنف کے بیانات کو تاریخ طبری کے صفحات میں دیکھ کر بلا تحقیق اسے نقل کرنے والوں نے سبائیوں کے ہاتھ اتنے مضبوط کردیے ہیں کہ آج یہ روایتیں ہماری ایف اے ، بی اے، ایم اے کی تاریخ اسلام کی درسی کتابوں میں بھی بغیر کسی تحقیق و تبصرہ کے اسی طرح  نقل ہوتی آرہی ہیں اور امت کا ایک اچھا خاصہ طبقہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے متعمد صحابہ حضرت معاویہ، حضرت عمرو بن العاص، حضرت ابو موسی اشعری رضوان اللہ علیہم اجمعین کی طرف سے سوء ظنی کا شکار ہے۔
اس ساری تفصیل سے یہ بات واضح ہے کہ یہ ساری داستانیں حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ کے کردار کو مجروح کرنے کے لیے وضع کی گئیں ہیں ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ۔ہماری اس تفصیل کا مطلب یہ نہیں کہ صحابہ میں اختلاف ہوا ہی نہیں یا ان سے غلطی ہو ہی نہیں سکتی ، ہم اس بات کے قائل ہیں کہ صحابہ معصوم عن الخطا نہیں ہیں ، بعض احادیث میں بھی انکے اختلاف اور غلطیوں کا ذکر ہے ، ہمارا اختلاف ان تاریخی روایات پر ہے جن میں تمام صحابہ پر کرپشن، اقربا پروری، منافقت، سیاسی جوڑ توڑ اور کھینچا تانی کے الزامات ہیں۔
قرآن و حدیث تو تمام صحابہ کے عادل ہونے پر شاہد ہیں ہیں ، تاریخ سے بھی سیکڑوں مثالیں دیں جاسکتیں ہیں جن سے یہ واضح ہوتا ہے کہ صحابہ کا اختلاف شرعیت کے مطابق ہوتا تھا اور ان کا دامن ان گالیوں اور غیر اخلاقی زبان کے استعمال سے پاک ہوتا تھا جو انکے اختلاف کے واقعات میں سبائی راویوں کی ان روایتوں میں ان کے ذمہ تھونپی گئی ہیں۔
ہمارا یہ موقف ہے کہ وہ اختلاف کے اصولوں جو انہیں دین نے سکھائے تھے' کے پوری طرح پابند تھے انکے اختلاف میں بھی امت کے لیے نمونہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت علی اور معاویہ کے درمیان قاتلان عثمان کے مسئلہ پر اختلاف کے باوجود ادب و احترام کا تعلق تھا ،چنانچہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ دینی مسئلے پر فتویٰ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ہی لیتے تھے ۔

مزید شیعہ کی اپنی کتابیں گواہ ہیں کہ حضرت علی، حسن اور حسین رضی اللہ عنہ ، حضر ت عبداللہ بن عباس رضی اللہ حضرت معاویہ کا احترام کرتے اور انکے اختلاف کو دینی اختلاف سمجھتے تھے۔ 

مضمون کی طوالت کے ڈر سے ہم صرف علی رضی اللہ عنہ کا حوالہ دیتے ہیں۔
شیعہ کی مشہور کتاب نہج البلاغہ میں ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے تمام شہریوں کی طرف گشتی مراسلہ جاری کیا کہ صفین میں ہمارے اور اہل شام کے درمیان جو جنگ ہوئی اس سے کوئی غلط فہمی پیدا نہ ہو، ہمارا رب، نبی اوردعوت ایک ہے ۔ ہم شامیوں کے مقابلے میں اللہ و رسول پر ایمان و یقین میں ذیادہ نہیں اور نہ وہ ہم سے ذیادہ ہیں ۔ ہمارا اختلاف صرف قتل عثمان میں ہے ۔( نہج البلاغہ جلد2، صفحہ 114)
اللھم ثبت قلبی علی دینک
آمین


صفحہ 6 از 6