آپ رضی اللہ عنہ کا علم - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

آپ رضی اللہ عنہ کا علم

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تعبیر بیان کرو۔

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بیان کرتے ہوئے فرمایا بدلی سے مقصود اسلام ہے اور اس سے جو گھی اور شہد ٹپک رہا ہے وہ قرآن ہے۔ اس کی حلاوت ٹپک رہی ہے، کوئی کم اور کوئی زیادہ قرآن سے لے رہا ہے۔ اور وہ رسّی جو زمین سے آسمان تک ملی ہوئی ہے وہ حق ہے جس پر آپﷺ قائم ہیں۔ آپﷺ اس کو تھامے رہیں گے پھر اللہ آپﷺ کو بلندی پر فائز کرے گا۔ پھر آپﷺ کے بعد ایک شخص اس کو تھامے گا وہ بھی اس کے ذریعہ سے بلندی پر پہنچے گا، پھر ایک اور شخص اس کو تھامے گا وہ بھی اس کے ذریعہ سے بلندی پر پہنچے گا۔ پھر ایک اور شخص اس کو تھامے گا، وہ رسّی اس سے ٹوٹ جائے گی، پھر اس کے لیے جوڑ دی جائے گی اور وہ بلندی پر پہنچے گا۔ اے اللہ کے رسولﷺ! آپﷺ پر میرا باپ قربان جائے آپﷺ مجھے بتائیں، میں نے صحیح تعبیر بیان کی ہے یا غلطی کی ہے؟

نبی کریمﷺ نے فرمایا کچھ صحیح بیان کیا ہے اور کچھ غلطی ہوئی ہے۔

حضرت ابوبکرؓ نے کہا اللہ کی قسم آپﷺ ضرور بیان فرمائیں کہ مجھ سے کیا غلطی ہوئی ہے؟

آپﷺ نے فرمایا قسم مت کھاؤ۔

(البخاری: التعبیر صفحہ، 7046)

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے خواب دیکھا گویا ان کے حجرے میں تین چاند اتر آئے ہیں۔

انہوں نے یہ خواب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا۔ وہ خواب کی تعبیر کے بڑے ماہر تھے۔ تو آپؓ نے فرمایا اگر تمہارا خواب سچا ہے تو تمہارے حجرے میں روئے زمین کے تین افضل اشخاص دفن ہوں گے۔

جب رسول اللہﷺ کی وفات ہوئی تو فرمایا اے سيده عائشہؓ! یہ تمہارے چاندوں میں سے افضل ترین چاند ہے۔

(تاریخ الخلفاء للسیوطی: صفحہ، 129)

چنانچہ سیدنا ابوبکرؓ نبی کریمﷺ کے بعد اس امت میں تعبیر خواب کے سب سے بڑے عالم تھے۔

(تاریخ الخلفاء للسیوطی: صفحہ، 130)

باوجود یہ کہ آپؓ اعلم الصحابہ تھے لیکن پھر بھی تکلف سے سب سے زیادہ دور تھے۔ ابراہیم نخعیؒ کا بیان ہے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے وَفَاکِہَۃً وَّاَبًّا (سورۃ عبس: آیت نمبر، 31) کی تلاوت کی۔ 

لوگوں نے کہا اب کیا چیز ہے؟

لوگوں نے اپنی اپنی رائے دی، تو سیدنا ابوبکرؓ نے فرمایا یہ تکلف ہے۔

ای ارض تقلُّنی وای سمائٍ تُظلُّنی اذا قلت فی کتاب اللہ ما لا اعلم۔

ترجمہ: کون سی زمین مجھے جگہ دے گی اور کون سا آسمان مجھے سایہ دے گا اگر میں کتاب اللہ سے متعلق ایسی بات کہوں جس کا مجھے علم نہیں۔

(فتح الباری: جلد، 13 صفحہ، 258 اس کی سند میں ابراہیم نخعی اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے)


صفحہ 2 از 2