آپ رضی اللہ عنہ کی دعا و شدت تضرع - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

آپ رضی اللہ عنہ کی دعا و شدت تضرع

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

ترجمہ: (اہلِ جنت سے کہا جائے گا) کہ مزے سے کھاؤ اور پیو، اپنے ان اعمال کے بدلے جو تم نے گذشتہ زمانے میں کیے۔

کیونکہ رسول اللہﷺ نے اپنے ارشاد میں اس ب کی نفی کی ہے جو مقابلہ اور معادلہ کے معنیٰ میں ہے اور قرآن نے اس ب کو ثابت کیا ہے جو اسباب کے معنیٰ میں ہے۔ (یعنی اعمال صالحہ جنت کی قیمت نہیں ہیں بلکہ حصول جنت کے اسباب میں سے ہیں اور حصول جنت کے لیے صرف یہی سبب کافی نہیں بلکہ رحمت الٰہی کا شامل حال ہونا ضروری ہے)۔

اور بعض لوگوں کے اس قول کہ جب اللہ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اس کو گناہ نقصان نہیں پہنچاتے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اس کو توبہ و استغفار کی توفیق دے دیتا ہے لہٰذا وہ گناہوں پر اصرار نہیں کرتا اور جو اس کا یہ مطلب سمجھتا ہے کہ گناہوں پر اصرار کے باوجود یہ گناہ اس کے لیے نقصان دہ نہیں ہوتے، تو ایسا شخص گمراہ ہے اور کتاب و سنت اور اجماع سلف و ائمہ کرام کا مخالف ہے۔ جو ذرّہ برابر نیکی کرے گا وہ اسے دیکھ لے گا اور جو ذرّہ برابر برائی کرے گا وہ اسے دیکھ لے گا۔

(مجموع الفتاویٰ لابن تیمیہ: جلد، 11 صفحہ، 142)

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ برابر اللہ کے ذکر میں مشغول رہتے، اللہ سے بڑی آہ و زاری اور تضرع کرتے، کثرت سے اللہ کی طرف متوجہ ہوتے اور کسی بھی حال میں دعا سے بے نیاز نہ ہوتے، آپؓ کی بعض دعائیں منقول ہوئی ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں

الف: اسألک تمام النعمۃ فی الاشیاء کلہا، والشکرلک علیہا حتی ترضی، وبعد الرضی، والخیرۃ فی جمیع ما تکون الیہ الخِیَرَۃُ، بجمیع میسور الامور کلہا، لا بمعسورہا یا کریم۔

(لابن ابی الدنیا: صفحہ، 109 بحوالہ خطب ابی بکر: صفحہ، 39)

ترجمہ: اے کریم! میں تجھ سے تمام چیزوں میں نعمت کا سوالی ہوں اور تو مجھے اس پر اپنا شکر ادا کرنے کی توفیق عطا فرما، یہاں تک کہ تو خوش ہو جائے اور خوش ہونے کے بعد بھی اور تمام خیر کے کاموں میں

افضل ترین خیر کی توفیق دے، تجھ سے تمام آسان کاموں کا سوالی ہوں اور مشکل امور سے پناہ کا طالب ہوں۔

ب: اللہم انی اسألک الذی ہو خیر لی فی عاقبۃ الخیر، اللہم اجعل آخر ما تعطینی من الخیر رضوانک و الدرجات العُلا من جنات النعیم۔

(خطب ابی بکر الصدیق: صفحہ، 139)

ترجمہ: الٰہی میں تجھ سے اس چیز کا سوالی ہوں جو انجام خیر میں میرے لیے بہتر ہو۔ الٰہی آخری خیر جو تو مجھے عطا فرما وہ تیری رضا اور جنات نعیم میں بلند درجات ہوں۔

ج: اللہم اجعل خیر عمری آخرہ وخیر عملی خواتمہ وخیر ایامی یوم القاک۔

(کنزالعمال: صفحہ، 5030 بحوالہ خطب ابی بکر رضی اللہ عنہ: صفحہ، 39)

ترجمہ: اے اللہ میری عمر کا آخری حصہ سب سے بہتر، میرے اعمال میں سب سے بہتر آخری عمل اور میرے ایام میں سے اس دن کو جس دن تجھ سے ملوں سب سے بہتر بنا دے۔

د: اللہم انت اعلم بی من نفسی وانا اعلم بنفسی منہم، اللہم اجعلنی خیر مما یظنون، واغفرلی مالا یعلمون، ولا تواخذنی بما یقولون۔

(اسدالغابۃ: جلد، 3 صفحہ، 324)

ترجمہ: اے اللہ! تو مجھے میرے نفس سے زیادہ جانتا ہے اور میں اپنے نفس کو ان لوگوں سے زیادہ جانتا ہوں۔ اے اللہ مجھے ان کے گمان سے بہتر بنا دے، اے اللہ! جسے یہ نہیں جانتے اسے بخش دے اور جو یہ لوگ کہتے ہیں اس پر میری پکڑ نہ کرنا۔

سیدنا ابوبکرؓ کی یہ بعض اہم صفات وفضائل ہیں، جنہیں اختصار کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ آئندہ ہم وفات نبوی کے بعد حضرت صدیقِ رضی اللہ عنہ پر تربیت نبویﷺ کا اثر دیکھیں گے کہ کس طرح اللہ کے فضل و توفیق، بہترین تربیت، ایمان عظیم، عمل راسخ اور نبی کریمﷺ کی شاگردی کی وجہ سے اس مقام پر فائز ہوئے، جہاں دوسرے نہ پہنچ سکے۔ اپنے عظیم قائد محمدﷺ کی رفاقت میں اچھی سپاہ گری سیکھی اور اس کے مختلف مراحل و ادوار کو طے کیا اور جب خلافت کی باگ ڈور سنبھالی تو کشتی اسلام کو شدید آندھیوں اور تلاطم خیز موجوں اور تاریک فتنوں کے باوجود ساحل امن و امان تک پہنچایا۔


صفحہ 2 از 2