جابر بن یزید بن حارث جعفی کوفی - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

جابر بن یزید بن حارث جعفی کوفی

  جعفر صادق

صفحہ 1 از 2

 جابر بن یزید بن حارث جعفی کوفی

یہ شیعہ مسلک کے علماء میں سے ایک ہے۔

رجال کشی 128

عن جابر بن يزيد الجعفي قال حدثني ابوجعفر السبعين الف حديث

جابر کہتا ہے کہ میں نے امام باقر سے ستر ہزار حدیث تعلیم پائی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا علمی مرتبہ شیعہ کے ایک اور مشہور راوی محمد بن سلم سے بھی زیادہ  ہے اب اسی فضیلت مآب کی دیانت وامانت کا حال سنیے ۔

رجال کشی ص126

عن زراره قال سئلت اباعبد الله عن حديث جابر فقال مارأيته عند ابي قط الامرة واحدة ومادخل على قط

زرارہ کہتا ہے میں نے امام جعفر سے جابر کی احادیث کے متعلق پوچھا تو فرمایا کہ یہ میرے والد سے صرف ایک مرتبہ ملا اور میرے پاس تو کبھی آیا ہی نہیں۔

یہ بات شیعہ کے رئیس اعظم زرارہ بیان کر رہا ہے نہ جانے اسے اس کی ضرورت کیوی محسوس ہوئی ممکن ہے اس کا ستر ہزار احادیث کا دعوی سن لیا ہو گا ۔ تو اسے تعجب ، حسرت یا رشک پیدا ہوا ہوگا مگر جواب جو ملا اس سے زرارہ کی تشفی تو شاید ہوگئی ہو مگر امام کے بیان نے تو عجائبات کا ایک باب کھول دیا ۔ مثلاً

1- ایک ملاقات میں امام باقر نے اس جابر بن یزید جعفی کو ستر ہزار حدیثیں تعلیم فرما دیں یعنی اگر ایک منٹ فی حدیث شمار کیا جائے تو 1166 گھنٹے بنتے ہیں یعنی 48 دن سے کچھ زیادہ وقت بنتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اتنی لمبی نشست کا تصور کیا جا سکتا ہے ۔

2- اگر جابر صرف حدیثیں سنتا رہا تو اس کے حافظہ کا کمال ہے کہ ایک دفعہ سُن کر ستر ہزار احادیث یاد کر لیں۔

3- اگر یہ محال نظر آتا ہے تو پھر وہ ساتھ ساتھ لکھتا رہا اگر یہ صورت فرض کرلی جائے تو وقت کو اور بڑھانا پڑے گا۔ گویا یہ ایک ملاقات تین مہینے سے بھی تجاوز کرگئی اگر یہ مانا جائے تو دوسری صورت کوئی نہیں کیونکہ اس زمانے میں شارٹ ہینڈ کے رواج کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔

4- اگر جابر کا دعوی تسلیم کیا جائے تو سب سے پہلے عقل اسے تسلیم نہیں کرتی اور اس سے بڑی بات یہ ہے کہ امام کو جھوٹا تسلیم کرنا پڑتا ہے ۔

5- اگر امام کو سچا تسلیم کریں جیسا کہ ضروری ہے تو جابر کو پرلے درجے کا جھوٹا ماننا پڑتا ہے اوراس کے بغیر چارہ نہیں ۔

6- اگر جابر کو بد دیانت جھوٹا اور جعلساز تسلیم کیا جائے تو فقہ جعفری کے پلے کچھ نہیں رہتا۔

اصحاب آئمہ میں سے کچھ حق الیقین میں مذکور کچھ غیر مذکور کے حالات نمونہ کے طور پر شیعہ کی کتب رجال میں سے پیش کیے گئے۔

اب ذرا اس معاملے کو ایک اور زاویے سے دیکھیے ۔

1- علام مجلسی نے تو فرما دیا کہ “یہ کثیر جماعت تھی جو سب شیعوں کے رئیس تھے” مگر آئمہ کا بیان اس سے مختلف ہے مثلاً اصول کافی ص 496 امام جعفر کا بیان ہے ۔ 

”اے ابوبصیر اگر تم میں سے (جو شیعہ ہو) تین مومن مجھے مل جاتے جو میری حدیث ظاہر نہ کرتے تو میں ان سے اپنی حدیثیں نہ چھپاتا“

یہ بیان کیا ہے ، حقائق کا ایک اور بحرناپیدا کنار ہے ۔ پہلی بات یہ ہے کہ امام جعفر کو عمر بھر میں تین مومن بھی نہ ملے!  دوسری بات یہ ہے کہ وہ مومنوں کی فوج نہیں کھڑی  کرنا چاہتے تھے بلکہ اپنے علوم اور اپنی حدیثیں سنانا چاہتے تھے۔

تیسری بات یہ ہے کہ جب انہیں تین مؤمن نہ مل سکے تو انہوں نے اپنی حدیثیں کسی کو نہیں سنائیں۔  ایک عام فہم بھی منطقی طور پر نتیجہ نکال سکتا ہے کہ یہ کافی، استبصار ، تہذیب اور من لایحضرہ الفقیہ کی صورت میں ہزاروں حدیثیں جو امام باقر اور امام جعفر سے منسوب ہیں ، وہ ان سے بیزاری کا اعلان کر رہے ہیں اور یہ سب جھوٹ بناوٹی ذخیرہ ہے ۔

چوتھی بات اگر اس کا نتیجہ ہی ہے اور دوسرا کوئی ہو نہیں سکتا تو فقہ جعفری کی قدر و قیمت تو امام نے خود متعین کر دی ۔

پانچویں بات یہ ہے کہ امام کا مقصد صرف کسی محرم راز کو حدیثیں سنانا تھا۔ حدیثیں پھیلانا مطلوب نہیں تھا۔ اس لیے حدیث میں ان تین مطلوبہ مومنوں کی صفت بیان کی جو میری حدیثیں ظاہر نہ کرتے۔ لہذا معلوم ہوا کہ امام کی حدیثیں ظاہر کرنے کی چیز نہیں چھپا کر رکھنے کی چیز ہے تو پھر فقہ جعفریہ کو برسرمنبراور بر سر دار لانے کے جتن کیوں ہورہے ہیں یہ تو امام کی مخالفت کی تحریک ہے ان کے خلاف ایجی ٹیشن ہے یہ تو سٹرائیک ہے ۔ 

الاسم :

جابر بن يزيد ، وليس هو الجعفي .

أقوال العلماء :

أبو زرعة الرازي:لا يعرف .

المصادر :

الجرح والتعديل (2/498) رقم (2045) .

لسان الميزان (2/407) رقم (1740) .

 


صفحہ 1 از 2