مختلف اسلامی فرقوں اور متعدد اھل فقہ کے درمیان قرب و اتحاد…

مختلف اسلامی فرقوں اور متعدد اھل فقہ کے درمیان قرب و اتحاد (​​​​​​​​محب الدین اخطیب)

  مُحِبُ الدین اخطیب

صفحہ 1 از 13

​​​مختلف اسلامی فرقوں اور متعدد اہل فقہ

​​ ​ کے درمیان قرب و اتحاد

مسلمانو کے افکار و خیالات و مقاصد میں جوڑ و اتحاد پیدا کرنا اسلام کے اہم تقاضوں میں سے ہے۔ نیز قوت، ترقی اور اصلاح کے وسائل میں سے ہے اور یہ قرب و اتحاد اہل اسلام کے افراد اور جماعتوں کے لئے ہر زمان و مکان میں بہترین خیر ہے۔
اور اس تقریب کی دعوت دوسرے اغراض سے پاک ہو اور نیز اس کا نقصان جو اس کی تفاصیل کے بعد مرتب ہو اگر نفع سے بڑھ نہ جاۓ تو اس کا قبول کرنا ہر مسلمان پر ضروری ہے اور اس اتفاق کے سلسلہ میں کامیابیوں کے لئے تعاون کرنا بھی ضروری ہے۔
پچھلے چند سالوں میں اس دعوت کا خوب چرچا ہونے لگا اور رفتہ رفتہ اسکا اثر بڑھنے لگا یہان تک کہ یہ بات ازہر شریف تک پہنچ گئی۔ جامعہ ازہر اہل السنت والجماعت کی عظیم ترین اور مشہور دینی درسگاہ ہے جو مذاہب اربعہ کے موافق اہل سنت کی تعلیم کا پرچار ہے۔
یوں تو صلاح الدین ایوبیؒ مرحوم کے دور ہی سے مسلسل اتحاد و جوڑ کی کوشش ہو رہی تھی مگر اس کا دائرہ اب ازھر شریف نے مزید بڑھا دیا اور اہل سنت کے علاوہ دیگر مذاہب کو سمجھنے کی کوشش شروع کی اور سب سے زیادہ توجہ مذہب شیعہ اثنا عشریہ امامیہ پر مبذول کی گئی اور اب بھی اس راستے پر محنت ہو رہی ہے اسلئے یہ عظیم موضوع اس قابل ہے کہ اس کو پڑھا جائے اور اس پر بحث کی جائے اور اس کو ہر اس مسلمان پر پیش کیا جائے جس کو اس سلسلہ سے کوئی ادنیٰ سا تعلق و واقفیت ہے اور اس موضوع کی مشکلات اور نتائج تک پہنچنا چاہتا ہو جب کہ یہ دینی مسائل طبعاً مشکل بھی ہیں تو ضروری ہے کہ اس موضوع پر محنت نہایت ہی حکمت و بصیرت اور میانہ روی سے ہو۔ اس بحث کے علمی دلائل اس پر کھلے ہوئے ہوں اور اس کا قلب علم الہٰی کے نور سے منور ہو اور نیز وہ فیصلہ کرنے میں انصاف کا دامن چھوڑنے والا نہ ہو۔ تاکہ اس محنت کے مطلوبہ نتائج سامنے آ سکیں۔
اہم نکتہ: پہلی بنیاد جس کو اس کام میں ہم ضروری سمجھتے ہیں وہ یہ ہے کہ جن مسائل میں کئی ایک فریق ہوں تو ان میں تمام فریق رغبت رکھیں تو کامیابی کے امکانات روشن ہوتے ہیں اور اگر رغبت یکطرفہ ہو، فریق ثانی میں رغبت نہ ہو تو نتائج خاطر خواہ نہیں برآمد ہو سکتے۔
سنی شیعہ اتحاد پر ہم آپ کے سامنے ایک مثال پیش کرتے ہیں۔"ایک حکومت نے جس کا سرکاری مذہب شیعہ ہے مصر میں ایک دفتر بنایا اور اس کا تمام تر خرچ برداشت کیا۔ اس مہربان شیعہ حکومت نے اس سخا وجود کے ساتھ صرف ہم اہل سنت کع مخصوص کیا مگر اپنے اہل وطن و ہم مذہب لوگوں کے ساتھ بخل کا مظاہرہ کیا۔ اس قسم کا کوئی ادارہ جو شیعہ و سنی اتحاد کے لئے کام کرنا۔ تہران، قم، نجف اشرف، جبل عامل وغیرہ میں جو شیعہ مذہب کے نشر و اشاعت کے مراکز ہیں ان میں قائم نہ کیا۔ بلکہ اسکے برعکس ان پچھلے برسوں سے شیعہ مذاہب کے مراکز سے ایسی کتابیں شائع ہوتی رہیں جن کی وجہ سے باہمی افہام و تفہیم مکدر ہوئی اور اتفاق و اتحاد کی عمارت کی بنیادوں تک کو ہلا دیا۔ جن کے پڑھنے سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ان میں سے صرف ایک کتاب "الزھرا" نامی جسے علماء نجف نے شائع کیا ہے جسے استاذ البشیرالابراہیمی شیخ الجزائر نے اپنے ایک سفر عراق میں لکھا۔ اس کتاب میں انہوں نے امیر المؤمنین سیدنا عمر بن الخطابؓ کے بارے میں لکھا ہے کہ عمر ایسی بیماری میں مبتلا تھے جو صرف انسانوں کے پیشاب ہی سے شفا پا سکتی ہے۔
وہ ناپاک روحیں جن سے اس قسم کے مذہبی گناہ سرزد ہوں وہ ذیادہ مستحق اور ضرورت مند ہیں کہ ان کو روا داری کا سبق دیا جائے اور اتحاد و اتفاق کی دعوت پیش کی جائے بہ نسبت اہل السنت والجماعت کے جبکہ اہل سنت کو اہل بیت کیساتھ شیعہ سے زیادہ محبت ہے۔
افتراق کا بنیادی سبب:
 افتراق کا سبب ان کا یہ دعویٰ ہے کہ اہل بیت کے محب صرف ہم ہی ہیں اور نیز اصحابِ رسولﷺ کے ساتھ مخفی اور ظاہری کینہ اور بغض ہے۔ صحابہ کرامؓ اسلام کی عمارت کی اساس و بنیاد ہیں۔ یہ عمارت ان کے مونڈھوں پر قائم ہے۔ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ جو لوگ امیر المؤمنین عمر فاروقؓ جیسی شخصیت کے بارے میں اس قسم کا ناپاک کلام کریں یہ لوگ اس کے زیادہ مستحق ہیں کہ انکے کینہ اور کھوٹ کو دور کیا جائے اور اہل سنت والجماعت کے اس پیارے موقف کا شکریہ ادا کریں کہ اہل بیت کی محبت سے ان کے دل سرشار ہیں اور ان کی تعظیم و اکرام کے بارے میں کوئی تقصیر نہیں کرتے البتہ اگر اس کو تقصیر سمجھ کر ہم اہل السنت اہل بیت کو معبود نہیں سمجھتے اور ان کو خداوند تعالیٰ کے ساتھ کسی معاملہ میں بھی شریک نہیں سمجھتے جس کا مختلف مواقع میں فریق ثانی کی طرف سے مظاہرہ ہوتا ہے تو ہم کسی قیمت پر بھی اس اتحاد کو نہیں قبول کر سکتے جس میں ہمیں غیراللہ کی عبادت کرنی پڑے اور توحید خالص سے ہاتھ دھونے پڑے۔
اتحاد کے لئے ضروری ہے کہ طرفین میں ایک دوسرے کو سمجھنے اور قریب کرنے کا جذبہ کار فرما ہو اور جب تک سال بہ موجب سے نہ مل جائے نتیجہ نہیں بر آمد ہو سکتا یکطرفہ کوشش سعی لاحاصل ہے جس کا اب تک مظاہرہ ہو رہا ہے۔
اتحادی ادارے: اہل سنت کے ایک مرکزی مقام مصر کے علاوہ شیعہ مذہب کی ریاستوں میں سے کسی شہر میں بھی اس قسم کا کوئی ارادہ نہیں جہاں سے شیعہ سنی اتحاد کی آواز اٹھائی جاتی ہو اور نہ ہی کسی شیعہ درسگاہ میں اہل سنت کے موقف کو سمجھنے کی اور اتحاد کی تعلیم دی جاتی ہے تو اگر یہ کوشش صرف ایک فریق کے مرکز میں ہو جیسا کہ ازھر میں ہو رہا ہے اور دوسرا فریق توجہ نہ دے تو اس کی کامیابی کی کوئی امید نہں ہو سکتی اور نہ ہی کوئی نتیجہ برآمد ہو سکتا ہے۔

اسباب تعارف کے چند بنیادی مسائل

اسلامی فقہ: فقہ اسلامی کے اہل سنت و اہل شیعہ کے ہاں مصدر و مرجع ایک نہیں، کہ دونوں فریق اس کے اصول کو تسلیم کرتے ہوں۔

صفحہ 1 از 13