مختلف اسلامی فرقوں اور متعدد اھل فقہ کے درمیان قرب و اتحاد…

مختلف اسلامی فرقوں اور متعدد اھل فقہ کے درمیان قرب و اتحاد (​​​​​​​​محب الدین اخطیب)

  مُحِبُ الدین اخطیب

صفحہ 10 از 13

اب اس پچھلے دور تک شیعہ حضرات ہلاکو کی ظالمانہ حرکتوں سے جو مسلمانوں کو تکالیف پہنچی ہے اس میں خوشی محسوس کرتے ہیں، جس کا جی چاہے وہ نصیر طوسی کی سوانح و حالات کی کتب کا مطالعہ کرے جس کی آخری کڑی (روضات الجنات) خونساری کی مؤلف کتاب ہے۔ جلاد ہلاکو کی پارٹی کے سفاحوں اور خائنوں کی تعریف و مدح سے پُر ہے اور اس پر خوشی کا اظہار ہے کہ مسلمان مردوں عورتوں بچوں اور بوڑھوں کا قتل عام کیا گیا۔ یہ ایسے مظالم تھے کہ ان پر خوشی کا اظہار اسلام کا بڑے سے بڑا دشمن اور انتہائی سنگدل وحشی کرتے ہوئے شرماتا ہے۔
یہ موضوع باوجود اس کوشش کے کہ مختصر ہے کچھ طویل ہو گیا۔ اس میں ہم نے شیعہ مذہب کی مستند کتابوں کے حوالے پیش کئے ہیں۔ اب ہم اس کو ایک اور عبارت پر ختم کریں گے جس کا ہمارے موضوع اتحاد و تقریب سے بہت گہرا تعلق ہے۔ تاکہ ہر مسلمان پر دیگر مذاہب کے ساتھ تقریب و اتحاد کا مسئلہ واضح ہو جائے اور شیعہ مذہب کے ساتھ تقریب و اتحاد کا مسئلہ واضح ہو جائے اور شیعہ مذہب کے ساتھ اتحاد و تقریب کا محال و ناممکن ہونا آشکار ہو جائے۔ جس کا انہوں نے برملا اعتراف کیا ہے جو آگے آرہا ہے۔ خوانساری جو شیعہ مذہب کے مشہور مؤرخین میں سے ہیں اپنی کتاب روضات الجنات مطبوعہ تہران طبع ثانی سنہ 1367ھ کے صحفہ 579 میں نصیر طوسی کے مفصل حالات میں نقل کیا ہے کہ علامہ نصیر کے کلام میں بہترین قابلِ رشک کلام جو حق و تحقیق میں انتہائی باکمال ہے وہ فرقہ ناجیہ کے تعین کے بارے میں ہے کہ تہتر فرقوں میں نجات پانے والا فرقہ صرف امامیہ یعنی شیعہ ہے۔ وہ لکھتا ہے: شیعہ کا اہل اسلام سے فقط فروع ہی میں نہیں بلکہ اصول میں اختلاف ہے۔ طوسی موسوی خوانساری نے سچ کہا ہے اور جھوٹ کہا ہے۔ سچ کہا ہے کہ تمام اسلامی فرقے اصول میں ایک دوسرے کے قریب ہیں اور دوسرے درجے کے مسائل میں مختلف ہیں۔ اس لئے ان کے درمیاں باہمی مفاہمت و اتحاد اصول میں ہو سکتا ہے اور یہ اتحاد شیعہ امامیہ کے ساتھ محال و ناممکن ہے اس لئے کہ انہیں تمام اہل اسلام سے اصولی اختلاف ہے اور مسلمانوں سے صرف اسی صورت میں راضی ہو سکتے ہیں کہ وہ شیخین ابوبکر و عمر سے لیکر ان کے بعد آج تک کے تمام مسلمانوں پر لعن طعن کریں اور یہاں تک کہ اہل بیت رسول علیہ السلام سے جو شیعہ نہیں حضور نبی علیہ السلام کی صاحبزادیاں اور ان کے شوہر عثمان زوالنورین اور اموی عاص بن ربیع اور ان کے علاوہ امام زید بن علی زین العابدین اور ان اہل بیت پر بھی تبرا کریں جو رافضی جھنڈے کے نیچے نہیں آئے اور رافضی عقیدہ کے مطابق قرآن پاک کو محرف نہیں جانتے۔ جیسے کہ شیعہ علماء کی ترجمانی کرتے ہوئے مرزا حسین بن محمد تقی نوری طبرسی نے اپنی کتاب " فصل الختاب فی اثبات تحریف کتاب رب الارباب" میں لکھا ہے:

یہ ہے وہ شیعہ کی طرف سے اتفاق و اتحاد کے لئے شرط کہ ہم اصحاب رسول علیہ السلام پر لعنت کریں اور ہر وہ شخص جو شیعہ کے دین پر نہیں ہے اس سے اظہار برأت کریں خواہ آنحضرتﷺ کی بیٹیاں ہوں، داماد ہوں یا سادات میں سے جو ان کے ہمنوا نہ ہوں۔ یہ ہے وہ سچی بات جو نصیر طوسی سے منقول ہے۔ جس کی اتباع نعمت اللہ موسوی اور مرزا محمد باقر خوانساری کرتے ہیں۔ اسمیں کوئی شیعہ ان کے خلاف نہیں ہے۔ رہی وہ بات جس میں انہوں نے جھوٹ کہا ہے وہ ہے ان کا وہ دعویٰ کہ صرف شہادتوں کے اقرار پر غیر شیعہ مسلمانوں کے ہاں نجات کا دارومدار ہے۔ اگر انہوں نے عقل و خرد کا کوئی ادنیٰ حصہ ہوتا تو سمجھتے کہ شہادتوں کا اقرار ہمارے ہاں اسلام میں داخل ہونے کا عنوان اور دروازہ ہوتا ہے۔ کلمے کا اقرار کرنے والا کوئی کافر حربی جنگ لڑنے والا ہی کیوں نہ ہو دنیا میں کلمہ کے اقرار کے بعد اس کی جان و مال محفوظ ہو جائیں گے رہا آخرت میں نجات کا دارومدار تو ایمان پر موقوف ہے۔

ایمان کیا ہے اسے امیر المؤمنین عمر بن عبد العزیز کی زبانی سنتے وہ فرماتے ہیں:
"ایمان نام ہے فرائض حدود سنت رسول علیہ السلام اور تمام شریعت کی تصدیق کا جس نے اس کی تکمیل کی ایمان کو مکمل کر لیا اور جس نے اس کو نہیں اختیار کیا اس نے ایمان کو کامل و مکمل نہیں کیا۔"
اور اس ایمان میں بارہویں امام کی تصدیق شرط نہیں اس لئے کہ وہ ایک موہوم شخصیت ہے۔ حضرت حسن عسکری کی طرف جھوٹی نسبت ہے جو اس دنیا سے لاولد مرے ہیں اور ان کے بھائی جعفر نے ان کو لاولد قرار دیا ہے۔ علوویوں کے پاس شجرہ نسب کے لئے ایک رجسٹر تھا جس میں پیدا ہونے والے بچے کا نام درج کرتے تھے اور اس میں امام حسن عسکری کے کسی بیٹے کا نام نہیں درج کیا گیا اور ان کے معاصر علوی حضرات اس بات کو نہیں تسلیم کرتے کہ امام حسن عسکری کسی بیٹے کو چھوڑ کر مرے ہیں۔ ہوا یہ کہ حضرت امام عسکری کے لاوارث فوت ہونے کی وجہ سے سلسلہ امامت ان ماننے والے امامیہ کے ہاں موقف ہو گیا تو ان میں سے ایک نیا فرقہ نصیریہ پیدا ہوا۔

فرقہ نصیریہ کا وجود: ایک بڑے مکار نے جس کا نام محمد بن نصیر تھا بنی نمیر کے موالی میں سے تھا اس نے ایک شوشہ چھوڑا کہ حسن عسکری کا ایک بیٹا باپ کے گھر کے ایک غار میں چھپا ہوا ہے۔ تاکہ اس نام سے عوام شیعہ کو گمراہ کر سکیں اور ان سے زکوٰۃ و دیگر اموال وصول کر سکیں اور دعویٰ کر سکیں کہ مذہب امامیہ کا امام، امام غائب ہے۔

اس ملعون شخص نے سوچا کہ میں امام اور عوام کے درمیان غار کا دروازہ بن جاؤں۔ اس طرح ان میں ایک نیا فرقہ نصیریہ وجود میں آیا۔ اب یہ اس انتظار میں ہیں کہ بارہویں امام غار سے نکلیں گے اور ان کی شادی ہوگی اور ان کے بیٹے ہونگے پوتے ہونگے اور وہ امامت کریں گے اور حاکم بنیں گے اور مذہب امامیہ ہمیشہ باقی رہے گا ان سطور کے لکھتے وقت وہ امام غار میں چھپے بیٹھے ہیں ظاہر نہیں ہوئے۔

صفحہ 10 از 13