مختلف اسلامی فرقوں اور متعدد اھل فقہ کے درمیان قرب و اتحاد…

مختلف اسلامی فرقوں اور متعدد اھل فقہ کے درمیان قرب و اتحاد (​​​​​​​​محب الدین اخطیب)

  مُحِبُ الدین اخطیب

صفحہ 11 از 13

اس قسم کی کہانیاں یونانیوں میں بھی نہیں سنی گئیں۔ اب یہ چاہتے ہیں کہ اس طرح کی خرافات پر تمام اہل ایمان جنھیں اللہ تعالیٰ نے عقل سے نوازا ہے ایمان لے آئیں گے اور ان کی تصدیق کریں تاکہ ان کے اور شیعہ کے درمیان اتفاق و اتحاد ہو سکے یہ بات انتہائی ناممکن ہے۔ اس کی صرف ایک صورت ہو سکتی ہے کہ تمام عالم اسلام دماغی امراض میں مبتلا ہو جائے اور کسی ہسپتال میں اس جنون کے علاج کے لئے داخل ہوں(العیاذ باللہ)۔ (خدا کی پناہ) اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے ہمیں عقل کی نعمت سے نوازا ہے۔ اس لئے کہ مکلف ہونے کے لئے عقل کا ہونا شرط ہے۔ ایمان کی دولت کے بعد کائنات میں سب سے بڑی نعمت عقل کی دولت ہے۔

اہلِ اسلام کی دوستی: اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اہل اسلام ہر اس شخص سے محبت رکھتے ہیں جو صحیح الایمان مومن ہو اور اہل ایمان میں تمام اہل بیت رسول علیہ السلام سے بھی (پانچ یا بارہ) کا عدد مقرر کئے بغیر بھی شامل ہیں اور ان مؤمنین میں اول اولین طور پر وہ (عشرہ مبشرہ) دس صحابیؓ ہیں جن کو حضور علیہ السلام نے دنیا ہی میں جنت کی بشارت دی۔ ان کی تکفیر کے اسباب میں اتنی بات ہی کافی ہے کہ حضور علیہ السلام کے اس قول کی مخالفت کریں کہ یہ دس صحابہ کرامؓ جنتی نہیں اور ایسا ہی اہل اسلام تمام صحابہ کرامؓ سے محبت کرتے ہیں۔ جنکے کندھوں پر اسلام اور عالم اسلام قائم ہوا ہے۔ اور صحابہ کرامؓ کی جماعت کے بارے میں شیعہ نے حضرت علیؓ اور انکی بیٹوں پر جھوٹ باندھا ہے کہ یہ ان کے دشمن تھے۔ حالانکہ صحابہ کرامؓ کی حضرت علیؓ کے ساتھ معاشرت بھائیوں کی طرح تھی۔ ایک دوسرے سے محبت و تعاون کرنے والے اور اسی محبت و دوستی پر دنیا سے رخصت ہوئے۔ سب سے سچی ذات باری تعالیٰ نے ان کی تعریف اپنی کتاب کی سورۃ الفتح میں فرمائی۔ قرآن ایسی کتاب ہے کہ باطل اس کے پاس آگے اور پیچھے کسی طرف سے نہیں آسکتا۔”لاَیَاتیۃ ِ الباَطِلُ مِن بَینِ یدیہِ وَلامِن خلفہِالایۃ۔

اس پاک کلام میں صحابہ کرامؓ کے بارے میں ارشاد ہے:
اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡ 

کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں مہربان ہیں ۔

دوسرے مقام پر سورۃ الحدید میں فرمایا ہے۔
لَا يَسۡتَوِىۡ مِنۡكُمۡ مَّنۡ اَنۡفَقَ ​​نہیں برابر تم میں سے وہ شخص کہ جس نے خرچ کیا
مِنۡ قَبۡلِ الۡفَتۡحِ وَقَاتَلَ‌  پہلے فتح مکہ سے اور لڑائی کی تھی۔ یہ لوگ بڑے میں درجۃ من الذین انفقو من بعد ​​درجوں میں ان لوگوں سے کہ خرچ کیا انہوں نے

وقاتلواوکلا وعداللہ الحسنیٰ۔​​پیچھے اس سے اور لڑائی کی اور ہر ایک کو وعدہ دیا ہے اللہ ​​​​​نے اچھا۔​
​اور کیا اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کا خلاف کرے گا؟ ہرگز نہیں۔
اور ایک مقام پر فرمایا :ـ
کنتم خیر امۃ اُخرجت للناس ​​تم بہترین امت ہو تمہیں انسانوں کے نفع کے لئے نکالا گیا ہے۔

چاروں خلفائے راشدینؓ کی باہمی محبت: حضرت علیؓ کی اپنے تین بھائیوں خلفاء راشدینؓ سے محبت کے مابین ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے حسن وحسین رضی اللہ عنہما اور ابن الخفیہ کے بعد والے بیٹوں کے نام ابوبکر، عمر اور عثمان رکھے اور اپنی بیٹی ام کلثوم الکبریٰ کو حضرت عمرؓ کے نکاح میں دیا۔ حضرت عمرؓ کی شہادت کے بعد اپنے چچازاد بھائی محمد ابن جعفر بن ابی طالب کے نکاح میں آئیں۔ عبد اللہ بن جعفر ابن ابی طالب (ذوالجناحین) نے اپنے ایک بیٹے کا نام ابوبکر دوسرے کا نام معاویہ رکھا اور انہوں نے آگے اپنے بیٹے کا نام یزید رکھا۔ اس لئے بعض حضرات نے یہ کہا ہے کہ یزید اچھے اخلاق رکھتا تھا۔ یزید کے بارے میں محمد بن حنیفہ بن علی بن ابی طالب کی رائے آگے ملاحظہ فرمائیے۔

صفحہ 11 از 13