مختلف اسلامی فرقوں اور متعدد اھل فقہ کے درمیان قرب و اتحاد…

مختلف اسلامی فرقوں اور متعدد اھل فقہ کے درمیان قرب و اتحاد (​​​​​​​​محب الدین اخطیب)

  مُحِبُ الدین اخطیب

صفحہ 12 از 13

ہم کیوں اظہار برأت کریں: اتفاق و اتحاد کی قیمت ہم سے بےجا مذہب شیعہ وصول کرنا چاہتا ہے وہ ہے اصحاب نبی علیہ السلام سے اعلان برأت اور ان کی شان میں وہی گستاخیاں جو وہ کر رہے ہیں، تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس میں پہلے خطاوار بقول ان کے حضرت علیؓ شمار ہونگے کہ انہوں نے خود اپنے بیٹوں کے نام ابوبکر، عمر، عثمان رکھے اور اس سے بھی بڑی غلطی اپنی بیٹی اُم کلثوم کو حضرت عمرؓ کے نکاح میں دینا ہے اور پھر امام محمد بن حنفیہ بن علی رضی اللہ عنہ نے یزید کے بارے میں جو شہادت دی ہے اس میں وہ جھوٹے ثابت ہونگے۔ جب ان کے پاس عبداللہ بن زبیر کا قاصد عبداللہ بن مطیع یزید کے خلاف تعاون حاصل کرنے کے لئے آیا تو اس نے یزید کے بارے میں کہا کہ وہ شراب پیتا ہے اور نماز کو چھوڑ دیتا ہے اور قرآن پاک کے حکم سے تجاوز کرتا ہے تو اس کے جواب میں محمد بن علی نے فرمایا جیسے کہ البدایہ والنہایہ جلد 8 صفحہ233 میں ہے ۔ جن چیزوں کا تذکرہ تم کر رہے ہو ان میں سے میں نے اس میں کوئی بھی نہیں دیکھی میں اس کے پاس گیا اور اس کے پاس مقیم ہوا میں نے اسے ہمیشہ نماز کا پابند اور اچھائی کی تلاش کرنے والا پایا۔ مسائل فقہ کو پوچھتا تھا اور سنت رسول علیہ السلام کی تابعداری کرتا تھا۔ ابن مطیع اور اس کے ساتھیوں نے عرض کیا حضرت یہ سب کچھ اس کی ظاہرداری اور تصنع ہے۔ آپ نے جواب دیا اسے مجھ سے کیا خوف تھا اور کونسی لالچ تھی کہ وہ تصنع کا مظاہرہ کرتا اور کیا اس نے تم سے شراب پینے کی بات کی ہے اور تمہیں مطلع کیا ہے تو پھر تم شراب پینے میں اس کے شریک کار ہو اور اگر اس نے تمہیں کوئی اطلاع نہیں دی تو پھر تمہارے لئے حلال نہیں کہ اس بات کی شہادت جس کا تمہیں علم ہی نہیں تو انہوں نے عرض کیا اگرچہ ہم نے اس کو دیکھا تو نہیں مگر ہمارے نزدیک یہ بالکل حق ہے تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس بات سے انکار فرماتے ہیں اور حکم دیتے ہیں: "الا من شھد بالحق وھم یعلمون" "شہادت حق وہ ہے کہ اس کا علم ہو۔ میں تمھارے ساتھ اس کام میں شریک نہیں ہوں۔
جب حضرت علیؓ کی اولاد کی یزید تک کے بارے میں یہ شہادت ہے تو ہم شیعہ کے کہنے سے حضرات صحابہ کرامؓ (بلا استثناء، انبیا علیہ السلام ) اللہ تعالیٰ کی ساری مخلوق سے بہتر ہیں۔ حضرت ابوبکرؓ،  عمرؓ، عثمانؓ، طلحہؓ، زبیرؓ، عمرو بن عاصؓ اور دیگر تمام صحابہؓ جنہوں نے ہمارے تک اللہ تعالیٰ کی کتاب کو اور جناب رسول اللہ علیہ السلام کے مبارک طریقوں کو پہنچایا ہے اور ہمیں یہ عالمِ اسلامی دیا ہے جس میں رہ رہے ہیں ان حضرات کو نہیں چھوڑ سکتے۔ بلاشبہ قرب و اتحاد کے لئے شیعہ جو ہم سے قیمت مانگتے ہیں اور سودا کرنا چاہتے ہیں یہ زبردست خسارہ کا سودا ہے۔ اپنی تمام متاع ثمین دے کر صرف خسارہ ہی لینا ہے۔ تو اس قسم کا سودا کرنے والا احمق ہے۔ اس لئے کہ ولایت اور برأت جن کی بنیاد پر مذہب شیعہ قائم ہے، جس کو نصیر طوسی نے ثابت کیا ہے اور نعمت اللہ اور خوانساری نے اس کی تائید کی ہے اس کا سوائے اس کے کوئی مقصد نہیں ہوسکتا کہ دین اسلام کو بدل دیا جائے اور جن حضرات کے کاندھوں پر اسلام کی عمارت کھڑی ہے ان سے دشمنی کی جائے۔ بلاشبہ انہوں نے جھوٹ کہا ہے کہ صرف ان کا فرقہ ہی نجات پانے والا ہے جو تمام اہل اسلام سے مخالف ہے۔

اسماعیلیہ فرقہ: اسمعیلی فرقہ بھی عقائد میں دوسرے شیعہ فرقوں کی طرح ہے اور اہل اسلام کی مخالفت میں دیگر شیعہ فرقوں کے برابر ہے ان میں فرق صرف آل بیت کی محبت میں بعض افراد کے تعین کا ہے۔ امام جعفر صادق تک تو دونوں مشترک ہیں۔ آگے امامیہ فرقہ والے موسیٰ بن جعفر اور ان کی نسل کی ولایت کے مدعی ہیں اور اسمٰعیلیہ فرقہ والے اسمٰعیل بن جعفر اور ان کی اولاد کی ولایت اور محبت کے دعویدار ہیں۔ اسمٰعیلیہ فرقہ والوں کو اماموں کے بارے میں انتہائی غلو نے اقلیت بنا دیا ہے اور خاص طور پر صفوی حکومت کے دور میں امامیہ کے حسد کی وجہ سے نیز مجلسی اور ان کے معاونین کے ہاتھوں اور نقصان اٹھانا پڑا مگر اب اس غلو میں اسمٰعیلیہ سب کے سب بلا استثناء برابر ہیں اور اس کا اعتراف ان کے ایک بڑے عالم آیت اللہ مامقانی نے اپنی کتاب "الجرح والتعدیل" میں کیا ہے۔ جہان انہوں نے متقدین ​غالیوں کے عقائد کا ذکر کیا ہے وہیں انہیں یہ کہنا پڑا ہے کہ:

صفحہ 12 از 13