مختلف اسلامی فرقوں اور متعدد اھل فقہ کے درمیان قرب و اتحاد…

مختلف اسلامی فرقوں اور متعدد اھل فقہ کے درمیان قرب و اتحاد (​​​​​​​​محب الدین اخطیب)

  مُحِبُ الدین اخطیب

صفحہ 13 از 13

"جو غلو اسمٰعیلیوں میں تھا وہ اب تمام شیعہ کی ضروریات مذہب میں شمار ہونے لگا ہے۔"
اب دونوں میں کوئی فرق نہیں رہا۔ صرف شخصیتوں کا فرق ہے۔ اماموں کو مقام الوہیت تک پہنچانے میں اور رسول اللہ علیہ السلام سے اونچا مرتبہ دینے میں بھی دونوں یکساں ہیں۔ جیسا کہ امامیہ کے شیخ محمد حسن اشتانی نے حضور علیہ السلام کی جنت دوزخ آسمان و زمین کی پیدائش کی خبروں کو سچا ماننے اور تصدیق کو ضروری نہیں قرار دیا اور اس کے مقابلہ میں اپنے اماموں کی طرف اور خاص طور پر بارہویں معدوم امام کی طرف وہ باتیں منسوب کرتے ہیں اور انہیں یونانیوں کی طرح خدائی کے مقام تک پہنچاتے ہیں۔
اتفاق و اتحاد کا شیعہ اور تمام اسلامی فرقوں کے درمیان غیر ممکن ہونے کا سبب ان کا اہل اسلام سے اصول میں اختلاف ہے جیسا کہ نصیر الطوسی نے اعلان کیا ہے نعمت اللہ موسوی اور باقر خوانساری نے اس کی تائید کی ہے اور ہر شیعہ اس کا یقین رکھتا ہے یہ تو باقر مجلسی کا دور تھا اب تو حالات پہلے سے بھی زیادہ سخت اور پریشان کن ہے۔
شیعہ خود ہی اتحاد کو نہیں چاہتے بلکہ ان کا مقصد مذہب کی اشاعت ہے
بے کھٹکا یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ شیعہ امامیہ ہی اتحاد و اتفاق کو نہیں چاہتے۔ اس کے لئے انہوں نے قربانی دی اور مال کو خرچ کیا۔ تاکہ اتفاق کی دعوت صرف ہمارے علاقوں (سنیوں) میں چلے اور شیعہ ریاستوں میں ادنیٰ سی آواز بھی اتفاق کی نہیں اٹھنے دی اور نہ ہی اس کی طرف کوئی قدم اٹھایا اوران کی درسگاہوں میں بھی اتفاق و اتحاد کے کوئی نشانات نہیں پائے جاتے۔ اس لئے یہ دعوت یک طرفہ ہو کر رہ گئی ہے۔ جیسا کہ ہم نے مضمون کے آغاز میں ذکر کیا۔ یہ دعوت اس طرح ہے کہ بجلی کے تاروں موجبہ کو سالبہ سے اور سالبہ کو موجبہ سے نہ ملایا جائے تو کوئی نتیجہ بر آمد نہیں ہوتا۔ ایسے ہی اس محنت کا بھی کوئی نتیجہ نہیں۔ یہ بچوں کا کھیل اور بے مقصد محنت ہے۔
اس کا فائدہ جب بھی ہو سکتا ہے کہ شیعہ حضرات ابوبکرؓ اور عمرؓ اور تمام صحابہ کرامؓ پر لعن طعن کو ترک کر دیں اور صحابہ کرامؓ سمیت دیگر اہل ایمان سے برأت و تبرے سے باز آ جائیں اور اہل بیت کے بزرگ اماموں کو بشریت کے مقام سے بڑھا کر خدائی کے مرتبہ تک یونانیوں کی طرح پہنچانے کو چھوڑ دیں۔ اس لئے کہ ان کے اس قسم کے (افکار) اسلام پر ظلم و عدوان ہے اور دین اسلام کو جس نہج پر رسول اللہ علیہ السلام اور صحابہ کرام نے بشمولیت سیدنا علیؓ اور ان کی اولاد نے آنے والی امت کے لئے چھوڑا تھا۔ اس راستے کو یکسر بدلنا ہے اور اگر شیعہ نے اسلام، عقائد اسلام اور اس کی تاریخ پر اپنی زیادتی و تعدی کو نہ چھوڑا اور اپنی اس روش کو نہ تبدیل کیا تو یہ تمام اہل اسلام سے اصولی مخالفت کر کے خود ہی تنہا رہ جائیں گے اور یہ مسلمانوں سے علیحدہ شمار ہونگے۔
ہم نے اس مقالہ میں ایک حقیقت کی طرف ہلکا سا اشارہ کیا تھا کہ کمیونزم کا اثر جو عراق میں بڑھتا چلا جا رہا ہے اور ایران میں حزبِ تودہ کے زریعے دیگر اسلامی ملکوں کی نسبت سے بہت زیادہ ہے۔ یہ شیعہ مذہب کی وجہ سے ہوا ہے اس لئے کہ دونوں ملکوں میں کمیونزم کو اختیار کرنے والے ابنائے شیعہ میں سے ہیں۔
ان نوجوانوں نے اپنے مذہب کو خرافات وادھام اور اکاذیب میں ڈوبا ہوا پایا ہے جس کا عقل و فہم کی دنیا سے کوئی علاقہ نہیں اور دوسری طرف ان کے سامنے کمیونزم کی منظم دعوت ہے اور مختلف زبانوں میں لٹریچر ہے جس میں علمی اور اقتصادی وغیرہ پروگرام کر کے انہوں نے نوجوانوں کو اپنے چنگل میں پھانس لیا ہے اور اگر یہ نوجوان دین اسلام کو اسکے فطرتی اصولوں سے پہچانتے اور شیعہ مذہب کے واسطے کے بغیر اس کو پڑھتے تو یقیناً اس گڑھے میں گرنے سے بچ جاتے۔

فتنہ بابیہ: ایک صدی سے کچھ زیادہ عرصہ ہوا کہ ایران میں فتنہ باب کھڑا ہوا علی بن شیرازی نے دعویٰ کیا کہ وہ آنے والے امام مہدی کا باب (دروازہ) ہے۔ پھر کچھ دنوں کے بعد اس نے مزید ترقی کی اور دعویٰ کردیا کہ:

مہدی منتظر وہ خود ہی ہے۔ ایرانی شیعہ میں سے بہت سے لوگ اس کے پیروکار ہوگئے۔ ایرانی حکومت نے طے کیا کے اسے آذربائیجان کی طرف جلاوطن کر دیا جائے اس لئے کہ وہاں کی آبادی سنی حنفی مسلمانوں پر مشتمل ہے متبع سنت ہونے کی وجہ سے ان میں خرافات وادہام کے گڑھے میں گرنے سے بچنے کی طاقت ہے۔ بخلاف شیعہ کہ اوہام پر ہی ان کی عمارت کی بنیاد ہے اس لئے ان کے لئے اس دھوکہ میں پھنسنا اور اس قسم کی دعوت پر لبیک کہنا آسان ہے۔ یہی وجہ تھی کہ اس کو کسی شیعہ آبادی کے علاقہ کی طرف جلاوطن نہیں کیا۔ جیسا کہ شیعہ مذہب کی ان کچی باتوں اور خرافات کی وجہ سے بابیوں اور بہائیوں کو ماضِی میں کامیابی ہوتی ہے۔ اب جبکہ شیعہ مذہب کے نوجوانوں میں بیداری پیدا ہو رہی ہے تو وہ ان بےبنیاد کو جن کی تصدیق عقل انسانی کی بس میں نہیں ہے، چھوڑ رہے ہیں اور کمیونزم کی دعوت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ کمیونسٹ انہیں پُرتپاک طریقے سے گلے لگا رہے ہیں۔ اور خوش آمدید کہتے ہوئے انہیں گود میں لے رہے ہیں۔ چناچہ کمیونزم ​کو عراق و ایران میں دیگر ممالک سے زیادہ معاونین میسر آئے۔
​​​یہ چند معروضات اس بنا پر پیش کی گئی ہیں کہ ​​​اللہ تعالیٰ نے ہر مسلمان کے ذمہ اپنی ذاتِ عالی اور جنابِ رسول علیہ السلام اور مسلمانوں کے حقوق رکھے ہیں۔ ان کو ادا کرنے اور حقِ نصیحت ادا کرنے میں کوتاہی نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ اپنے دین و ملت اور عالم اسلام کے اتحاد کی حفاظت فرمائے۔ اسلام کو نقصان، ​​​پہنچانے والوں اور اس کے خلاف سازش کرنے والوں کی شر سے قیامت تک محفوظ فرمائے۔

آمین 

بشکریہ: ​مُحِبُ الدین اخطیب


صفحہ 13 از 13