مختلف اسلامی فرقوں اور متعدد اھل فقہ کے درمیان قرب و اتحاد…

مختلف اسلامی فرقوں اور متعدد اھل فقہ کے درمیان قرب و اتحاد (​​​​​​​​محب الدین اخطیب)

  مُحِبُ الدین اخطیب

صفحہ 2 از 13

فقہ اسلامی کے شرعی بنیاد آئمہ و اربعہ کے ہاں اور ہے اور اہل شیعہ کے ہاں اور ہے جب تک ان بنیادی اصولوں میں مفاہمت و مقاربت نہیں ہوتی اور جب تک طرفین ان کے لئے امادہ نہ ہوں اور فریقین کے دینی مدارس اور علمی معاصر میں کام شروع نہیں ہوتا، فروعات میں پڑنے سے کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔ یہ صرف اضاعت وقت شمار ہوگا۔ اصول سے ہماری مراد اصول فقہ نہیں بلکہ اصول دین ہے جو بڑا اور بنیاد کی حیثیت رکھتے ہیں۔

مسئلہ تقیہ: پہلی بنیاد جو ہمارے اور ان کے درمیان مخلصانہ کوششوں میں رکاوٹ ہے وہ مسئلہ تقیہ ہے۔ یہ وہ دینی عقیدہ ہے جو اہل شیعہ کے لئے ان باتوں کے اظہار کو مباح قرار دیتا ہے جو ان کے دلوں میں نہیں ہیں جس سے اہل سنت کے سلیم القلوب افراد دھوکہ کھاتے ہیں کہ واقعی جس اتفاق​ و اتحاد کی دعوت زبان سے دے رہے ہیں اس کو دل سے بھی چاہتے ہونگے حالانکہ شیعہ نہ اس کو چاہتے ہیں اور نہ ہی پسند کرتے ہیں اور نہ ہی اس کے لئے کوئی کام کرتے ہیں اور یہ اتحاد خالصتاً یکطرفہ ہوتا ہے۔

دوسرا فریق یعنی شیعہ ایک بال کے برابر بھی آگے نہیں بڑھتا اور اگر تقیہ کا چکر چلانے والے ہیں مطمئن کرنے کہ لئے چند قدم ہماری طرف بڑھیں تو بھی جمہور شیعہ کے خاص و عام ان ڈراما کھیلنے والوں سے بلکل الگ رہتے ہیں اور نہ ہی ان مصالحاتی کوششوں کرنے والوں کو حق دیتے ہیں کہ جمہور شیعہ ان کی کسی بات کو قبول کریں گے۔

قرآن کریم پر طعن: قرآن کریم ان کے اور ہمارے درمیان وحدت و اتحاد کے لئے ایک جامع مرجع تھا۔ مگر ان کے ہاں اصول دین میں سے ہے کہ تاویل آیات اور معانی و مقصود آیات میں صحابہ نے رسول اللہﷺ سے جو کچھ سمجھا اور حاصل کیا ہے وہ قابل اعتبار نہیں اور نیز جس جماعت کے سامنے قرآن مجید نازل ہوا ہے ان سے جن ائمہ کرام نے علم قرآن پاک کو حاصل کیا ہے وہ بھی قبل اعتبار نہیں ہیں بلکہ علماء نجف میں سے شیعہ مذہب کے ایک بڑے عالم الحاج مرزا حسن بن محمد تقی النوری البطرسی نے جس کا مقام ان کے ہاں یہ ہے کہ سنہ1320ھ میں اس کی موت ہوئی تو اسے مشہد مرتضوی کے قبلی دروازہ میں دفن کیا ہے جو انکے ہاں اقدس البقاع (نہایت مقدس ٹکڑا) شمار ہوتا ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی طرف منسوب شہر نجف اشرف میں مذکور مجتہد مرزا نے سنہ1292 ھ میں کتاب لکھی ہے جس کا نام رکھا ہے

"فصل الخطاب فی اثبات تحریف کتاب رب الارباب"

اس کتاب میں مؤلف مذکور نے سینکڑوں عبارتیں مختلف صدیوں کے علماء و مجتہدین شیعہ کی پیش کی ہیں جن سے استدلال کیا ہے کہ قرآن پاک میں کمی و بیشی کی گئی ہے طبرسی کی بھی کتاب ایران میں سنہ1289 ھ میں طبع ہوئی جس کے خلاف شیعہ کی طرف سے احتجاج کیا گیا۔ اس لئے کہ شیعہ علماء یہ چاہتے ہیں کہ قرآن مجید کے بارے میں شبہات صرف خواص تک ہی محدود رہیں اور ان کے متعد و معتبر سینکڑوں کتابوں میں محفوظ رہیں اور ان تمام کو ایک کتاب میں اکٹھا نہ کیا جائے تاکہ مخالفین کو اس مخفی راز کی اطلاع نہ ہو اور ان کے ہاتھ ہمارے خلاف ایک قومی حجت نہ آ جائے۔ جب ان کے سنجیدہ طبقے نے اس کتاب کے خلاف لکھا تو مرزا صاحب نے ان کے خلاف ایک اور کتاب لکھی اس کا نام رکھا "رد بعض الشبھات عن فصل الخطاب فی اثبات تحریف کتاب رب الارباب" یہ دفاع مؤلف نے اپنی زندگی کی آخری لمحات میں کیا اور دو سال بعد موت واقع ہوئی تو اس محنت کے صلہ میں کہ (قرآن مجید کو محرف ثابت کرنے کی کوشش کی)کہ اسے ایک ممتاز مکاں مشھد علوی میں دفن کیا گیا۔
اس نجفی عالم نے قرآن مجید میں نقص ثابت کرنے کے لئے اپنی کتاب کے صفحہ 180 پر بطور استشہاد کے پیش کیا کہ قرآن میں ایک سورۃ ہے جسے شیعہ (سورۃ الولایۃ) کہتے ہیں، اس میں حضرت علی کی ولایت کا ذکر ہے

  یاایھاالذین آمنو ابالنبی والولی الذین بعثنٰھما یھدیانکم الی الصراط المستقیم 

مصری وزارت انصاف کے بڑے باخبر عالم ال استاذ محمد علی سعودی نے جو نہایت ثقہ اور امانت دار ہیں اور حضرت شیخ محمد عبدہ کے تلمیذ خاص ہیں۔ انہوں نے ایک ایرانی مخطوط قرآن مستشرق برائن کے پاس دیکھا اور اس سے اس کا فوٹو اسٹیٹ لیا۔ عربی متن کے ساتھ فارسی زبان میں ترجمہ بھی تھا جیسا کہ طبرسی نے اپنی کتاب فصل الخطاب میں تحریف کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایسی ہی ایک دوسری کتاب " بستان مذاہب" میں جو فارسی زبان میں ہے۔ اس کے مؤلف محسن فانی الکشمیری نے بھی تحریف فی القرآن کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے اور یہ کتاب ایران میں متعدد بار طبع ہو چکی ہے۔ علامہ متشرق نولوکہ نے اس کتاب سے مذ کورہ جھوٹی سورۃ (الولایت) کو اپنی کتاب تاریخ المصاحف جلد 2 صفحہ 102 پر نقل کیا ہے جس کو روزنامہ اخبار الاسویۃ فرانس نے سنہ 1842ء کو صفحہ 439 سے 431 پر درج کیا ہے۔
اور جیسا کہ نجفی عالم نے سورۃ الولایۃ سے اتشہاد کیا کہ قرآن محرف ہے۔ ایسا ہی اس نے کافی کا حوالہ دیا جبکہ کافی مذہب شیعہ میں وہ درجہ رکھتی ہے جو اہل سنت کے ہاں صحیح بخاری کا ہے۔ مطبوعہ ایران سنہ1278ھ صفحہ 289 کی حسب ذیل نص کو پیش کیا ہمارے متعدد احباب نے سہل ابن زیاد سے انہوں نے محمد بن سلیمان سے انہوں نے ابوالحسن ثانی علی بن موسیٰ رضا(متوفی سنہ206ھ ) کے ساتھیوں سے نقل کیا ہے۔

صفحہ 2 از 13