مختلف اسلامی فرقوں اور متعدد اھل فقہ کے درمیان قرب و اتحاد…

مختلف اسلامی فرقوں اور متعدد اھل فقہ کے درمیان قرب و اتحاد (​​​​​​​​محب الدین اخطیب)

  مُحِبُ الدین اخطیب

صفحہ 3 از 13

میں نے عرض کیا اے امام رضا! میں آپ پر قربان ہو جاؤں ہم قرآن میں آیات کو سنتے ہیں وہ ہمارے پاس نہیں جیسے ہم سن رہے ہیں اور ہم پسند نہیں کرتے کہ ایسے پڑھیں اس لئے کہ یہ قرآن ویسا نہیں جیسا ہمیں آپ کی طرف سے پہنچا ہے تو کیا ہم گنہگار تو نہیں ہونگے؟ پس انہوں نے جواب میں فرمایا کہ نہیں۔ پڑھتے رہو جیسا کہ تم نے سیکھا ہے عنقریب تمہارے پاس آئے گا جو تمہیں سکھائے گا۔" اقراوکما تعلمتم فسیجئکم من یعلمکم " اس میں کوئی شک نہیں کہ امام رضا کہ ذمہ من گھڑت بات لگائی ہے مگر اس کا مفہوم یہ نکلتا ہے کہ یہ فتویٰ امام کی طرف سے ہے جو لوگ مصحف عثمانی کو پڑھتے ہیں وہ گنہگار نہیں ہیں البتہ شیعہ مذہب کے خواص بعض بعض کو وہ قرآن سکھاتے ہیں جو اس قرآن مصحف عثمانی کے خلاف ہے جو ان کے خیال کے مطابق انکے پاس موجود ہے یا وہ آئمہ اہل بیت کے پاس تھا وہ قرآن مزعوم جس کو چھپایا ہوا ہے اور تقیہ کے عقیدہ کی وجہ سے اپنے عوام پر ظاہر نہیں کرتے اس میں اور مصحفِ عثمانی میں یہی فرق ہے کہ مصحف عثمانی خواص و عوام سب کے لئے عام شائع ہے اور اس قرآن مجید کے خلاف حسین بن محمد نقوی النوری طبرسی نے کتاب (فصل الخطاب فی الثبات تحریف کتاب رب الرباب ) تصنیف کی ہے جس نے اپنے علماء کی مستند کتابوں سے سینکڑوں حوالے پیش کیے ہیں۔ اب اس کتاب کے خلاف جو شیعہ کی طرف سے مظاہرہ ہوا ہے اور اظہارِ برأت کیا گیا؟ یہ بھی عقیدہ تقیہ کا عملی مظاہرہ ہے ورنہ شیعہ مذہب کی کتابوں کے حوالوں کی وجہ سے ان کا بھی یقین ہے کہ یہ قرآن محروف ہے۔ وہ اس بات کو روکنا چاہتے ہیں کہ قرآن پاک کے بارے میں اس عقیدہ کی وجہ سے ہنگامہ نہ پیدا ہو یہ بات اپنی جگہ باقی رہے گی کہ قرآن دو ہیں۔ ایک عام معلوم دوسرا خاص مکتوم(چھپایا ہوا)۔ اور سورۃ الولایت اسی مکتوم قرآن کی ہے۔ ​امام رضا پر جو افتراء باندھا ہے یہ عقیدہ اسی کی بنیاد پر ہے: "اقرآُّوکما تعلمتم فسجیئکم من یعلکم" اور شیعہ مزعومات میں سے ہے کہ قرآن پاک کی کچھ آیات چھوڑ دی گئی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ : وَجَعَلّنا عَلِیًاصِھرک (ہم نے علی کو آپ کا داماد بنایا ہے)۔ یہ آیات سورۃ الم نشرح مکی ہے اور حضرت علیؓ مکہ مکرمہ میں آپ کے داماد نہیں تھے۔ مکہ مکرمہ میں آپ کے داماد صرف عاص بن ربیع اموی تھے۔ جن کی تعریف جناب رسول اللہﷺ نے مسجد نبوی کے منبر پر فرمائی۔ جب حضرت علی نے حضرت فاطمہ کے اوپر ابوجہل کی بیٹی سے نکاح کا ارادہ کیا اور حضرت فاطمہؓ نے حضور علیہ السلام سے اس کی شکایت کی۔ حضرت علیؓ حضور علیہ السلام کے داماد ہیں آپ کی ایک بیٹی ان کے نکاح میں تھیں تو حضرت عثمانؓ کو اللہ تعالیٰ نے حضور علیہ السلام کی دو بیٹیوں کی وجہ سے داماد بنایا اور جب دوسری بیٹی کا بھی انتقال ہو گیا، تو اس وقت آنحضرتﷺ نے ارشاد فرمایا۔ لوکانت لنا ثالثۃ لزوجٰنکھا "اگر میری تیسری بیٹی ہوتی تو وہ بھی عثمانؓ کے نکاح میں دیتا۔" 
ان کے ایک عالم ابومنصور احمد بن ابی طالب طبرسی متوفی سنہ588ھ نے اپنی کتاب "الاحتجاج علی اھل اللجاج" میں لکھا ہے کہ حضرت علیؓ نے ایک زندیق کو (جسکا نام نہیں لیا) فرمایا تیرا میرے خلاف بولنا قرآن پاک کی اس آیات کے خلاف ہے (وان خفتم الا تقسطوافی الیتمیٰ فا نکحواما طاب لکم من النساء
قسط کا لفظ یتیم عورتوں کے نکاح میں عام عورتوں کے مشابہ نہیں ہے اور نہ ہی تمام عورتیں یتیم ہوتی ہیں۔ اس کا ذکر پہلے چلا آتا تھا جس کو منافقین نے قرآن سے ساقط کر دیا۔ جو  فی الیتیمی اور من النساء کے درمیاں ثلث قرآن سے بھی زیادہ قصص اور خطاب پر مشتمل تھا۔

حضرت علیؓ پر جھوٹ: یہ حضرت علیؓ کے اوپر ان کا صریح جھوٹ ہے کہ انہوں نے اپنی خلافت کے دوران بھی قرآن پاک کے اس ثلث متروک کا نہ اعلان کیا اور نہ ہی مسلمانوں کو اس کے رائج کرنے کا حکم دیا اور نہ ہی اس سے ہدایت حاصل کرنے اور اس کے احکامات پر عمل کرنے کو فرمایا۔

عیسائی مشن والوں کے لئے باعث خوشی: کتاب "فصل الخطاب فی الثبات تحریف کتاب رب الرباب" شائع ہونے اور ایران و نجف اور دیگر ممالک کے شیعہ عوام پھیلنے کے بعد جیسے عرصہ اسّی برس کے قریب کا ہو رہا ہے جس میں خداوند تعالیٰ اور اس کے برگزیدہ بندوں پر سینکڑوں جھوٹ باندھے گئے ہیں دشمنانِ اسلام عیسائی مشن والوں نے خوب خوشیاں منائیں اور مختلف زبانوں میں اس کے ترجمے شائع کیے۔​

اس کا ذکر محمدی اصفہانی الکاظمی نے اپنی کتاب (احسن الودیعۃ) کے جزو ثانی کے صفحہ 60 پر کیا ہے۔ یہ کتاب روضات الجنات کے حاشیے (ذیل کے طور پر طج ہوئی)۔

کتاب الکافی کی دو صریح عبارتیں: اس کتاب کا مقام ترتیب کے لحاظ سے شیعہ مذہب میں وہی ہے جو سنیوں کے ہاں بخاری شریف کا ہے۔
پہلی روایت: عن جابر الجعفی قال سمعت ابا جعفر علیہ جابر جعفی

روایت کرتے ہیں میں نے سنا
اسلام یقول: ما ادعی احد من الناس انہ جمع     

 ابو جعفر علیہ السلام سے فرماتے تھے

القرآن کلہ کما نزل الا کذاب وما جمعہ

جو شخص دعویٰ کرے اس نے قرآن کو

وحفظہ کما انزلہ الاعلی بن ابی طالب والائمۃ       بعدہ

جیسے نازل ہوا جمع کیا وہ بہت جھوٹا

(کتاب الکافی طبع ایران سنہ 1278ھ صفحہ 54  ہے سوائے علی بن ابی طالب اور ان کے طبع ایران سنہ 1381ھ صفحہ 228) بعد کے اماموں کسی نے نہ قرآن پاک کو جمع اور نہ محفوظ کیا ہے جیسا کہ وہ نازل ہوا ہے۔

اب جو شیعہ اس کو پڑھے گا قرآن کریم کے صحیح ہونے کا اس کو یقین و ایمان ہوگا؟

صفحہ 3 از 13